اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں دو روزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس شروع

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں دو روزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس شروع

  

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے زیر اہتمام ساتویں بین الاقوامی سیرت کانفرنس کا آغاز ہو گیا ۔جدید مسلم ریاست کے بنیادی خدوخال سیرت النبی ؐ کی روشنی میں کے موضوع پر منعقد ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس میں پاکستان ، سعودی عرب، مصراور ملائشیا سے آئے (بقیہ نمبر14صفحہ12پر )

ہوئے 200مندوبین شریک ہیں۔ افتتاحی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر سلیم طارق خان سابق وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے کہا کہ تعلیم ایک ریاست کی ترقی اور فلاح کے لیے لازم وملزوم ہے۔ ریاست مدینہ اُس دور کی جدید ترین ریاست تھی جب عرب خطے میں کسی بڑی ریاست کا تصور نہیں تھا اور پورا علاقہ چھوٹی شہری ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ دوسری طرف عرب سے باہر دو بڑی ریاستیں تھیں ایک کسریٰ اور دوسری قیصر کی ریاست ،جن میں تمام رعایا ایک بادشاہت کی غلامی میں تھی ۔ اسلام نے پہلی مرتبہ ایک ایسی ریاست کا تصور دیا جہاں اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور خلافت کے ذریعے اختیارات ایک امانت کے طور پر حکمران کو دئیے گئے ہیں۔ پاکستان بھی ایسی ہی واحد ریاست ہے جس کے آئین کے مطابق اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔اسلامی فلاحی ریاست میں تعلیم، انصاف اور بنیادی حقوق کی مکمل طور پر گارنٹی دی گئی ہے۔ معاشرہ برابری کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے جہاں سبھی کے لیے عدل کا پیمانہ ایک ہے اور وسائل کی تقسیم کا پیمانہ بھی ایک ہی ہے۔اُسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے ہم آج بھی پاکستان کو ریاستِ مدینہ کے مطابق ایک مثالی فلاحی ریاست بنا سکتے ہیں جو دنیا بھر کے لیے ایک مثالی نمونہ بن سکتی ہے۔ ڈائریکٹر سیرت چےئر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ سرزمین بہاول پور حکمت وتصوف کے حوالے سے برصغیر میں اہم مقام رکھتی ہے۔ جامعہ اسلامیہ خطہ پنجاب کی پہلی اسلامی یونیورسٹی ہے جو پہلے ایک مدرسہ اور پھر ایک جامعہ کے طور پر قائم ہوئی اور اب اسلامیہ یونیورسٹی کی شکل میں موجود ہے۔ والیان ریاست بہاول پور نے اس جامعہ کو جامعہ الازہر مصر کے طرز پر قائم کیا ۔ جامعہ اسلامیہ کا دینی رشتہ آج بھی قائم ہے اور اس یونیورسٹی میں ایم اے اور بی ایس کی سطح پر اسلامیات اب بھی لازمی ہے۔ فیکلٹی آف اسلامک لرننگ اور اس کے شعبہ جات تعلیماتِ اسلامی کو پروان چڑھانے میں پیش پیش ہیں۔ سیرت چےئر1987میں قائم ہوئی اور 1991سے 2015تک چھ بین الاقوامی کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا ۔ سیرت چےئر کے زیر اہتمام ڈاکٹر حمید اللہ کے خطبات بہاول پور آج بھی جامعہ اسلامیہ کی پہچان ہیں۔ساتویں بین الاقوامی سیرت کانفرنس کا موضوع موجودہ حکومت کے ریاستِ مدینہ کے ویژن پر بھی مبنی ہے ۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد میں خصوصی سرپرستی ، دلچسپی اور تعاون پر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر عامر اعجاز وائس چانسلر کا شکریہ اد اکیا اور ملکی اور غیر ملکی مندوبین کی جامعہ اسلامیہ آمد کو سراہا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر احمد بن محمد شرکاوی، شعبہ قرآن وتفسیر جامعہ الازہر مصر نے اپنے خطاب میں کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو مبار کباد دی اور کہا کہ ہمارے درمیان اُخوت کا رشتہ ہے جو ہمیں آپس میں جوڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ہم دنیا کے کونے کونے سے اس کانفرنس کے لیے کھینچے چلے آئے اور آپ کے ہمراہ موجود ہیں۔اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف اسلامک لرننگ پروفیسر ڈاکٹر اختر علی ، ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر سابق ڈائریکٹر سیرت چےئر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور ، پروفیسرڈاکٹر سفیر اختر نے بھی خطاب کیا ۔ کانفرنس کے پہلے روز چار متوازی نشستیں منعقد ہوئیں ۔پہلی نشست بنیادی اقدار اور اسوہ حسنہ کے موضوع پر منعقد ہوئی جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر باقر خاکوانی نے کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی مہمان خصوصی تھے۔ اسلامی ریاست کے تربیتی اِدارے دوسری نشست کا موضوع تھا جو ڈاکٹر یاسر اسماعیل راضی کی زیر صدارت ہوئی اور مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر عبدالشہید نعمانی تھے۔ تیسری نشست اسلامی ریاست کے انتظامی اِدارے تھے جو داکٹر سید عبدالغفار کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ چوتھی نشست پروفیسر ڈاکٹر نور احمدشاہتاز کی زیر صدارت اسلامی ریاست کے انتظامی اِدارے کے موضوع پر منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب بروز منگل 9اپریل 2019کو 12بجے دن میں منعقد ہوگی جس میں ڈاکٹر یاسر بن اسماعیل سینئر فیکلٹی ممبر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کلیدی خطاب کر یں گے۔

سیرت کانفرنس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -