حکومت کو شرح خواندگی میں اضافہ کیلئے تعلیمی اداروں کی سرپرستی کرنی ہوگی

حکومت کو شرح خواندگی میں اضافہ کیلئے تعلیمی اداروں کی سرپرستی کرنی ہوگی

  

اسلام آباد(آن لائن) ماہرین تعلیم والدین اور اساتذہ نے معیاری تعلیم کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں شرح خواندگی کے اضافے کیلئے حکومت کو تعلیمی اداروں کی سرپرستی کرنی ہوگی جس طرح کاشتکاروں کو سبسڈی دی جاتی ہے اسی طرح نجی تعلیمی اداروں کو سبسڈی دیکر تعلیمی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں نے معیار تعلیم کو بہت بلند کیا ہے ان پر تنقید کی بجائے انکی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے، حکومت سرکاری تعلیمی اداروں کو نجی تعلیمی اداروں کی طرح سہولتوں سے آراستہ کرے گی تو شہری یقیناً انکی طرف رجوع کریں گے لیکن اس وقت سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے گرے ہوئے معیار نے نجی تعلیمی اداروں کو شہریوں کی توجہ اور امیدوں کا مرکز بنا رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونیوالے ایک مذاکرے میں تعلیمی ماہرین، والدین اور اساتذہ نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ’’معیار تعلیم اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اس مذاکرے میں والدین اساتذہ اور ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ معروف تعلیمی ماہر ڈاکٹر اکبر یزدانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے نے تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور پھر اسکو قائم رکھنے کیلئے مؤثر کردار ادا کیا ہے لیکن حکومت نے اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں کی جس طرح زراعت میں حکومت مختلف فصلوں پر کاشتکاروں کو سبسڈی دیکر انکی حوصلہ افزائی کرتی ہے بالکل اسی طرز پر نجی تعلیمی اداروں کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے تھی۔ لیکن معاملات اس کے برعکس ہیں کیونکہ سرکاری تعلیم اداروں کا بہت براحال ہے کئی سکولوں کی نہ چاردیواری ہے اور نہ ہی انکے پاس باتھ رومز ہیں بلکہ دیہی علاقوں میں کئی جگہوں پر ایسے سکول بھی موجود ہیں جنکے کھاتے میں سرکاری بجٹ سے فنڈز تو جارہے ہیں لیکن انکی نہ تو عمارت ہے اور نہ ہی وہاں لوگوں کی تعلیم میں دلچسپی ہے۔ دوسری طرف نجی تعلیمی اداروے اگر زیادہ فیسیں لے رہے ہیں تو وہ طالب علموں پر زیادہ توجہ بھی دے رہے ہیں اور سہولتیں بھی فراہم کر رہے ہیں اگر معیاری تعلیمی اداروں کو مجبور کرکے فیسیں کم کروا دی گئیں تو یقینی طور پر اسکا اثر معیار تعلیم پر پڑے گا۔ اس حوالے سے شریک گفتگو زعفران الہیٰ کا کہنا تھا کہ یہ تاثر بہت غلط قائم کر دیا گیا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے بہت پیسہ کما رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 25فیصد سکول ایسے ہیں جو کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں اور خطیر رقم کرائے کی مد میں جا رہی ہے اور اگر فیسیں کم کر دی گئیں تو سنگل برانچ سکول بند ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں اور وہ فول پروف سیکیورٹی پر بھاری اخراجات بھی کرتے ہیں اس کے علاوہ طلباو طالبات کو بہترین تعلیم کی فراہمی کیلئے ائرکنڈیشنذ ماحول فراہم کرتے ہیں۔ آئے روز بجلی مہنگی ہونے سے گیس اور بجلی کے بل بہت زیادہ آرہے ہیں اور ڈالر مسلسل مہنگا ہونے سے بھی اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے یہ تاثر درست نہیں ہے کہ نجی تعلیمی ادارے بہت زیادہ کماتے ہیں بلکے حقیقت تو یہ ہے کہ نجی شعبے میں مقابلے کے رجحان کے باعث زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور مہنگے ترین اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں تاکہ انکی کارکردگی ہم عصر اداروں سے بہتر رہے۔ میمونہ شاہد نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں نے طلبا و طالبات کو ایسی بنیاد فراہم کی ہے کہ وہ عالمی سطح کے تعلیمی اداروں مین باآسانی داخلے لے لیتے ہیں جبکے دوسری طرف سرکاری تعلیمی اداروں نے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں بند کر لی ہیں، بہترین استاد ہی بہترین قوم کی تشکیل میں معاون ہو سکتے ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کی فیسیں کم کرنے کی بجائے حکومتیں معیار تعلیم کو بہتر بنانے اور شہریوں کیلئے بہترین تعلیمی سہولتیں فرام کرنے والی پالیسیاں بنائیں۔ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں اور گرمیوں کی چھٹیوں میں نجی تعلیمی ادارے اپنی تزئین وآرائش اور مرمت پر خطیر فنڈز خرچ کرتے ہیں۔ بحالت مجبوری اگر تعلیمی ادارے فیسیں کم کر دیں گے تو پھر گرمیوں کی چھٹیوں میں عمارتیں لاپرواہی کا شکار ہو جائیں گی اور اساتذہ بھی کسی دوسرے ادارے میں چلے جائیں گے۔ لہذا یہ اخراجات تعلیمی اداروں کی مجبوری ہے اس لئے گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی فیسیں لی جاتی ہیں۔ سلمیٰ اسد نے کہا کہ ایک ماں ہونے کے ناطے میں سمجھتی ہوں کہ اگر سرکاری تعلیمی ادارے بہترین تعلیمی کا بندوبست کریں تو پھر ہم کیوں نجی تعلیمی اداروں میں بھاری فیس ادا کریں اس لئے نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم کا حصول ہماری مجبوری ہے۔ صدف نے کہا کہ اس وقت حالت یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں ایک ایک کلاس رومز ہیں80کے قریب طلبا کو ٹھونس دیا جاتا ہے ایسے ماحول میں کونسا بچہ تعلیم حاصل کرے گا۔ اسکی نسبت نجی تعلیمی اداروں میں ایک کلاس روم میں25،30کے قریب بچے ہوتے ہیں اور اگر یہ ادارے مہنگائی کے اس دور میں فیسیں کم کرنے پر مجبور کر دیئے جائیں گے تو یہ کلاس رومز میں زیادہ بچے بٹھانا شروع ہوجائیں گے اور ادھر بھی صورتحال تباہی کی طرف چلی جائے گی۔ نبیلا نے کہا کہ ایک ماں ہونے کی حیثیت سے میں تسلیم کرتی ہوں کے نجی تعلیمی اداروے بھاری فیسیں لیکر بڑی سہولتیں اور بھرپور توجہ بھی دے رہے ہیں، کسی دور میں سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ توجہ سے پڑھایا کرتے تھے لیکن اب صورتحال ایسی نہیں ہے۔ بشریٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مہنگے سکول صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں موجود ہیں اساتذہ کو جب معقول معاوضہ دیا جاتا ہے تو وہ پروقار انداز میں بچوں کی تعلیمی و تربیت کرتے ہیں، لوگ نجی سکولوں میں اسی لئے بچوں کو داخل کرواتے ہیں تاکہ انکے بچوں کو انفرادی طور پر توجہ دی جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -