دیارِ غیر میں اتفاق و اتحاد کی زندہ مثال

دیارِ غیر میں اتفاق و اتحاد کی زندہ مثال
دیارِ غیر میں اتفاق و اتحاد کی زندہ مثال

  

یوم پاکستان ہے اور دُنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اپنے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ بکھیرے ایک دوسرے کو اُس عہد کی کامیابی پر مبارک بادیں دے رہی ہے جو عہد مسلمانوں نے منٹو پارک میں 23مارچ 1940کو کیا تھا ، اُس عہد کا متن ایک علیحدہ اسلامی مملکت کے قیام کے گرد گھومتا ہے ، بڑی طاقتیں حیران رہ گئیں جب صرف 7سال میں یعنی 14اگست 1947کو علیحدہ اسلامی مملکت ’’پاکستان ‘‘کے نام سے وجود میں آ گئی اور مسلمانوں نے اپنا عہد پورا کر دکھایا ۔23مارچ کا دن وطن عزیز میں انتہائی تزک و احتشام اور جذبے کے ساتھ سرکاری طور پر منایا جاتا ہے ، پاک افواج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی ہے اور صدر پاکستان مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کارہائے نمایاں سر انجام دینے والوں کو تمغہ امتیاز سے نوازتے ہیں ،

پاکستان کے جھنڈوں سے مزین لباس زیب تن کئے جاتے ہیں اور جگہ جگہ قومی ترانے اور ملی نغمے پاکستانیوں کا خون گرمانے کا باعث بنتے ہیں ۔پاکستانی خواتین اور بچے یوم پاکستان کو رنگا رنگ انداز سے مناتے اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کی صدائیں فضاؤں میں بلند کرتے ہیں ۔اس سال یوم پاکستان کی تقریبات قابل دید تھیں ، پاک افواج نے پاکستان میں ایسا پر امن ماحول پیدا کر دیا ہے کہ ہر پاکستانی اب بلا خوف و خطر ہر طرح کی تقریبات منانے میں پیش پیش ہوتا ہے ،اسی لئے پاکستان کا ماحول پاک فوج پائندہ باد کے نغموں سے گونجتا رہا ، دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں نے بھی اپنے اپنے سیاسی اور سماجی پلیٹ فارم سے یوم پاکستان زبردست انداز میں منایا ۔ یورپی ممالک میں یوم پاکستان کے عنوان سے بہت سے پروگرامز ترتیب دیئے گئے لیکن سپین کے صوبہ کاتالونیا کے دارلحکومت بارسلونا میں ہونے والا پروگرام انتہائی منظم اور پروقار انداز سے پیش کئے جانے میں سر فہرست تھا ، قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری کی زیر صدارت ترتیب دیئے گئے اس پروگرام کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ پاکستان مسلم لیگ ن سپین ،

مسلم لیگ قاف ، تحریک انصاف ، پاک فیڈریشن سپین ، پاک کاتالان فیڈریشن ، پاک ویلفیئر فیڈریشن ، ادارہ منہاج القران ، دعوت اسلامی ، عام آدمی پارٹی ، پاکستان پیپلز پارٹی سپین ، پیس فار پیس ایسوسی ایشن ، آل پاکستانیز فیملیز ایسوسی ایشن ، آسے سوپ ایسوسی ایشن ، پاک سلونا کلچرل ایسوسی ایشن ، کاسال پاکستانی ایسوسی ایشن ، پاکستان کے نیوز چینلز اور اخبارات کے تمام نمائندگان ، پاکستانی ٹیکسی سیکٹر بارسلونا ، پاکستانی بزنس کمیونٹی ، سماجی کارکنان چوہدری امتیاز آکیہ ، میاں محمد اظہر ، سوسائٹی فار کرائسٹ کے صدر راجو الیگزینڈر ، جوزفین کرسٹینا ، پاکستانی بزنس کمیونٹی کے چوہدری امانت علی وڑائچ ، محمد اقبال چوہدری ، محمد بلال علی وڑائچ ، حاجی اسد حسین ، چوہدری محمد ادریس ، چوہدری نوید وڑائچ ، سکندر حیات گوندل اور دوسرے بہت سے شعبوں سے تعلق رکھنے والے معززین نے قونصل جنرل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے اپنے پلیٹ فارمز سے ترتیب دیئے جانے والے پروگرامز کو منسوخ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم تمام پاکستانی مل کر قونصلیٹ جنرل آف پاکستان بارسلونا کے زیر اہتمام منعقد کئے جانے والے پروگرام کو کامیاب بنائیں گے اور مقامی کمیونٹی کو یہ پیغام دیں گے کہ ’’ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ‘‘ بارسلونا میں قونصلیٹ آفس کا قیام 2007کو عمل میں آیا تھا لیکن آج تک کسی قونصل جنرل نے پاکستانی کمیونٹی کو ایک جگہ اکھٹا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ، پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک مرد مجاہد نے کوشش کی اور ساری پاکستانی کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر دیا ، اس عمل پر سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے قونصل جنرل بارسلونا کو بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا اور اُن کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ان سے پہلے تعینات آفیسرز یوم آزادی پاکستان ، یوم پاکستان ، یوم دفاع پاکستان اور دوسرے قومی تہوار کمیونٹی کو ایک جگہ اکھٹا کرکے منعقد کرتے تو آج پاکستانی کمیونٹی کا اتفاق و اتحاد دیدنی ہوتا ۔خیر ’’ دیر آئد دُرست آئد ‘‘اللہ کی طرف ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور پاکستانی کمیونٹی کے اتفاق و اتحاد کا جو وقت مقرر تھا اس کی شروعات کا سہرا قونصل جنرل عمران علی کے سر سجنا تھا سو وہ سج گیا ، قونصل جنرل بارسلونا نے کمیونٹی کے اتفاق و اتحاد کا جو راستہ چُنا ہے اُس راستے پر اب کمیونٹی کو از خود محو سفر ہونا ہے کمیونٹی کو پیار و محبت اور ایک دوسرے سے اپنائیت کا زاد سفر ساتھ لے کر منزل تک پہنچنا ہے اُس منزل تک جہاں ہماری آنے والی نسلیں اپنے آپ کو کھڑا دیکھیں تو فخر سے سینہ چوڑا کرکے مقامی کمیونٹی کو بتائیں کہ ہمارے بڑوں نے جو بیج بویا تھا

وہ ایک منزل کی شکل میں ہمیں مل گیا ہے ۔سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بھی خراج تحسین کی مستحق ہے جنہوں نے قونصل جنرل کی آواز میں آواز ملائی ، قونصل جنرل اور اُن کے تمام عملے نے پاکستانی فیملیز کو یوم پاکستان کی تقریب میں مدعو کیا تو پاکستانی فیملیز کا ایک سمندر ہال میں اُمڈ آیا ۔مقامی اداروں کے سربراہان اور ہسپانوی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو جب پاکستانی اجرکوں کا تحفہ پہنایا گیا تو وہ بھی پاکستانی کمیونٹی کا یہ اخلاق اور اکٹھ دیکھ کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائے بغیر نہ رہ سکے اورتقریب کے دوران ہال انہی بلند ہونے والے نعروں سے گونجتا رہا ، پاکستانی پرچم اپنے ہاتھوں میں لہراتے ہوئے منچلے وطن سے محبت کے گیت گنگناتے رہے

،کمیونٹی کی خدمات کرنے والے پاکستانیوں کو تعریفی اسناد بھی دی گئیں تاکہ اُن کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ کمیونٹی کی فلاح و بہبود کا کام مزید بڑھ چڑھ کر کریں ۔بارسلونا میں مقیم امریکی اور چائنیز قونصل جنرلز نے قونصلیٹ جنرل آف پاکستان بارسلونا کا خصوصی دورہ کیا جس کا مقصد پاکستانیوں کو یوم پاکستان کی مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ قونصل جنرل عمران علی چوہدری کو اتنا پر ہجوم اور منظم پروگرام منعقد کرنے کی مبارک باد بھی دینا تھا اور یہ بھی پہلی بار ہوا کہ امریکی قونصل جنرل نے پاکستانی قونصلیٹ آفس کا دورہ کیا ۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ قونصل جنرل بارسلونا نے جہاں پاکستانی کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا ہے اسی طرح انہوں نے مقامی حکومت اور دوسرے ممالک کے قونصل خانوں کو پاکستان کاسافٹ امیج اور مثبت چہرہ دکھاتے ہوئے پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک پر امن اور دوسروں کا احترام کرنے والے عوام پر مشتمل ایٹمی طاقت کا نام ہے ۔یہ کہنا بھی بہت ضروری ہے کہ قونصل جنرل بارسلونا نے پاکستانی کمیونٹی کے اتفاق و اتحاد کا جو خواب دیکھا ہے اُسے ہم سب نے مل جل کر شرمندہ تعبیر کرنا ہے اور ایسی کوشش کرنے والوں کا بھر پور ساتھ

مزید :

رائے -کالم -