وزیر اعلٰی کا فاٹا میں 28ہزار لیویز اور خاصہ دار فورس پولیس میں ضم کرنے کا اعلان

وزیر اعلٰی کا فاٹا میں 28ہزار لیویز اور خاصہ دار فورس پولیس میں ضم کرنے کا ...

  

پشاور( نیوز رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے آج وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور صوبے میں نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں 28 ہزار خاصہ دار اور لیویز فورس کی پولیس فورس میں باقاعدہ انڈکشن کا اعلان کیا گیا۔ یاد رہے کہ صوبائی حکومت نے قبائلی علاقوں کی صوبے میں باقاعدہ انضمام کے بعد خاصہ دار اور لیوی فورس کے مستقبل کے فیصلے اور ان کی شکایت کے ازالے کے لئے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں محکمہ داخلہ و قبائلی امور، پولیس اور سکیورٹی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔ کمیٹی کا معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد خاصہ دار اور لیوی فورس کے اہلکاروں کو خیبر پختونخواہ پولیس میں ضم کرنے کی تجویز دی تھی جس کی روشنی میں وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان نے آج خاصہ دار اور لیوی فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا. وزیر اعلیٰ نے کہاکہ آج سابقہ فاٹا کے لوگوں کے حوالے سے تاریخی دن ہے جو وعدے وزیراعظم اور صوبائی حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے ساتھ کئے تھے وہ آج پورے کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ کسی کو بے روزگار نہیں کیا جائے اور آج وہ وعدہ پوراکر دیا ہے۔ضم شدہ قبائلی اضلاع میں عوامی خواہشات اور امنگوں کے عین مطابق کام کرینگے۔ اب قبائلی اضلاع صوبے کا حصہ بن چکے ہیں اور وہاں کی 70 سالہ محرومیوں کو دور کرنے کا وقت آگیا ہے۔قبائلی اضلاع میں عوام کے جو مطالبات ہے ان کو وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر حل کرینگے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خاصہ دار اور لیویز کے یہ28 ہزاراہلکار اصل میں 28 ہزار خاندانوں کیلئے روزگار کی فراہمی ہے۔ہم نے خاصہ دار اور لیویز فورس کو مکمل طور پرمسلح کرنا ہے اور ان کو جدید طرز پر ٹریننگ بھی دینی ہے۔ان خاصہ دار اور لیویز فورس کو وہی درجہ اور مراعات دیئے جائینگے جوصوبے میں تعینات پولیس فورس کو دی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خاصہ دار اور لیویز فورس نے اس ملک اور صوبے کیلئے بے دریغ قربانیاں دی ہے جس کا بدلہ آج ان کو دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے خاصہ دار اور لیویز فورس کی پولیس میں انڈکشن کیلئے باقاعدہ طور پر قانون سازی بھی کی ہے۔ ہم نے آگے بھی اسی طرح ضم شدہ قبائلی اضلاع میں وہاں کے عوام کیلئے سہولیات فراہم کرنا اور ان کے مسائل حل کرنا ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ قبائلی اضلاع اجمل وزیر بھی موجود تھے۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے صحت سہولت کارڈ کو پورے صوبے تک توسیع کا فیصلہ کیا ہے اور اگلے بجٹ میں صوبے کے تمام شہریوں کو صحت انصاف کارڈ مہیا کرنے کا اعلان کیا جائے گا ۔ اس منصوبے کے تحت سیکنڈری کئیر بیماریوں کیلئے 2 لاکھ 80 ہزار روپے پیکج فی فیملی دیا جائے گا جس میں ایک ہزار بیماریوں کا علاج ڈی ایچ کیو لیول ہسپتال میں کیا جائے گا جبکہ ٹرشری کیئر بیماریوں کیلئے 4 لاکھ فی خاندان پیکج دیا جائے گا جس میں امراض قلب، شوگر، ایمرجنسی اینڈ ٹراما جس میں تمام قسم کے فریکچر ، سر اورسپائنل انجری اور جوائنٹ کی تبدیلی وغیرہ شامل ہیں ۔وزیراعلیٰ کا صحت سہولت کارڈ کی صوبے میں توسیع کے حوالے سے فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی ، وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اﷲ،وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع و صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی ۔منصوبے کے تحت دیگر بیماریوں کے ساتھ صوبے میں پہلی بار ایچ آئی وی اینڈ ایڈز اور تمام قسم کے کینسر جیسی موذی بیماریوں کا فری علاج کیا جائے گا۔اس کے علاوہ بریسٹ کینسر سکریننگ ،کڈنی ٹرانسپلانٹ اور ناکارہ اعضاء کی بحالی ،جیسی بیماریوں کا علاج بھی صحت سہولت کارڈ سے کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت صوبے کے عوام کو علاج کی سہولت سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں فراہم کی جائے گی ۔ صحت سہولت کارڈ پروگرام سٹیٹ لائف کارپوریشن کے ذریعے لاگو کیا جائے گا۔ مریض کو اُجرت کے طور پر ہسپتال میں داخلے کے دوسرے اور تیسرے دن 250 روپے فی دن دیا جائے گا۔میٹرنٹی ٹرانسپورٹیشن کیلئے فی مریض ایک ہزار روپے دیا جائے گا۔ ٹرشری کیئر ٹرانسپورٹیشن کیلئے دوہزار روپے فی مریض دیا جائے گا جبکہ مریض کی میت پر کفن دفن کیلئے فی مریض 10 ہزار روپے بھی دیئے جائیں گے ۔ صحت سہولت پروگرام کے منصوبے میں مزید طبی فوائد کو شامل کیا گیاہے جس کے تحت شہریوں کو اعلیٰ قسم کی طبی سہولیات میسر ہوں گی ۔ اس منصوبے کے تحت صوبے کے تمام شہریوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے سے 10188 ملین روپے لاگت آئے گی جبکہ صوبہ بھر کی 4,998,718 لاکھ خاندانوں کا علاج ہو سکے گا۔ اس ضمن میں مذکورہ منصوبے کی سمری منظوری کیلئے بھیجی گئی ہے ۔ صحت سہولت کار ڈ کے ذریعے صوبے میں موجود 86 ہسپتال شامل ہیں جس میں 27 پبلک ہسپتال اور 59 پرائیوٹ ہسپتال شامل ہیں۔ اجلاس کو صحت انصاف کارڈ کی پورے صوبے میں توسیع اور اس پر لاگت اور لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔اجلاس کو صحت سہولت کارڈ پروگرام اور پانچ سالہ منصوبے پر بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ پانچ سالہ منصوبے میں موجودہ سال ، شارٹ ٹرم ، میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم اہداف شامل ہیں ۔ اجلاس کو منصوبے کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل جس میں اگلے فیز کیلئے انشورنس فرم کی پروکیورمنٹ ، سرکاری اہلکاروں کی انشورنس ، قانون سازی ، CMIS کا قیام اور اس میں نادرا کے کردار، پی ایم یو ہیلتھ کی توسیع اور اس میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں ، خود مختار مینجمنٹ سٹرکچر اور دفتر کیلئے موزوں جگہ کی فراہمی پر بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔

مزید :

صفحہ اول -