لوکل کونسل ممبران کا لوکل گورنمنٹ 2013ء ایکٹ کے خاتمہ کا فیصلہ مسترد

لوکل کونسل ممبران کا لوکل گورنمنٹ 2013ء ایکٹ کے خاتمہ کا فیصلہ مسترد

  

پشاور(سٹی رپورٹر)خیبر پختونخوا لوکل کونسل ایسوسی ایشن کے ممبران نے حکومت کی جانب سے لوکل گورنمنٹ2013ایکٹ کوختم کرنے کے فیصلہ کویکسرمسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے مطالبات نہ ماننے پرصوبے بھر میں احتجاجی دھرنے دینے کی دھمکی دیدی ۔گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں ایسوسی ایشن کے صدر ہمت اللہ معیار،نائب صدر احمد علی شاہ تحصیل ناظم ہنگو عامر غنی اور دیگر ناظمین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت لوکل ایکٹ 2013کو تبدیل کرنے کافیصلہ کیاہے جس سے ضلع حکومت ختم ہو جائے گی اور اختیارات تحصیل اورویلج کونسل کو منتقل ہو جائے گے ۔انہوں نے کہاکہ اس سے مقامی منتخب نمائندگان کوعوام کے مسائل حل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ عوام اپنے مسائل کے حل کیلئے ڈپٹی کمشنراورلع افسران کے دفتروں کے چکر کاٹتے رہیں گے جو انصاف کی حکومت کی نااہلی اور غیر سنجیدگی کی انتہا ہیں بلکہ انظامی امور چلانے میں بھی بہت بڑی خلاء پیدا ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نیاء بلدیاتی نظام لانا چاہتی ہے تو اس سے اچھا تو 2001کا بلدیاتی ایکٹ تھا جسکے تحت ضلع اور تحصیل سطح پر تمام اختیارات مکمل طور پر عوامی منتخب نمایندگان کو دئے گئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ضلع حکومت کے ناظمین کو صوبائی حکومت نے اج تک پورا بجٹ نہیں دیا اور ہر سال کی بجٹ میں پچاس فیصد ہے دیا گیا جس سے یہ پیغام جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت بلدیاتی نظام کو مستحکم بنانے میں مخلص نہیں ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمود خان سے مطالبہ کیا ہے کہ نیاء بلدیاتی نظام لانے سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور ڈسٹرکٹ ناظمین کے تحفظات دور کئے جائیں مطالبات نہ ماننے کی صورت میں صوبے بھر میں احتجاجی تحریک چلائنگے اور اپنے حقوق کے حصول کیلئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کریں گے ۔

مزید :

صفحہ اول -