صوفی شاعر شاہ عبدالطیف کی یاد میں قومی کانفرنس کا انعقاد

صوفی شاعر شاہ عبدالطیف کی یاد میں قومی کانفرنس کا انعقاد

  

کراچی (پ ر) عظیم صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی پر دو روزہ لطیف نیشنل کانفرنس 6 اور 7 اپریل 2019 کو موہاٹا پیلس میوزیم میں منعقد ہوئی۔ لطیف نیشنل کانفرنس کا انعقاد سراج انسٹیٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز(SISS) نے کیا ۔ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں اور شہر کے عوام کو شاہ لطیف کی شاعری کا پیغام دوبارہ سمجھانا تھا۔شاہ لطیف کی متنوع شاعری پر گفتگو اور اور اپنے تحقیقی مقالے شیئر کرنے کے لیے پاکستان بھر سے ماہرین، اساتذہ اور اسکالرز کانفرنس میں موجود تھے۔ اس موقع پر مقررین نے شاہ لطیف کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور ان کے کام کے فلسفے کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس بارے میں بھی بات کی کہ کس طرح شاہ لطیف نے محبت اور ہمدردی پر زور دیا۔سراج انسٹیٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز جو ایک غیرسیاسی، اکیڈمیک اور تحقیقی ادارہ ہے کی چیئر پرسن ڈاکٹر فہمیدہ حسین نے کہا کہ SISS میں ہم سندھ کے فن، ثقافت، ورثہ، زبان اور ادب پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ہم ہر سال کانفرنسز، سیمینارز اور لیکچرز کا انعقاد کر رہے ہیں ۔ اس مرتبہ ہم سندھ کے عظیم ترین شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کو خراج تحسین پیش کرنے پر انتہائی خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ہم تعلیم کے شعبے میں خدمات سر انجام دینے پر محترمہ صادقہ صلاح الدین اور جناب امداد حسینی کوادب کے شعبے میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا۔معزز مقرین نے اس بات پر زور دیا کہ صوفی ازم کے نئے نقطہ نظر کو فروغ دینا کس حد تک ضروری ہے۔ ڈاکٹر سعدیہ کمال نے خواجہ غلام فرید پر شاہ لطیف کے اثر پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں موجودگی اور دیگر شعرا پر پڑنے والے ان کے اثر کے حوالے سے گفتگو کرنے پر انتہائی خوشی محسوس کرر ہی ہوں۔ شرکا ان کی تعلیمات سے بہت کچھ سیکھتے ہوئے انہیں اپنی روزمرہ زندگیوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔دو روزہ ایونٹ میں میوزیکل نائٹ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس میں مشہور کلاسیکل اور لوک فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا جبکہ شاہ لطیف کے نسائی کرداروں پرمشتمل ڈانس ڈرامہ'شاہ جوں سورمیوں ‘ پیش کیا گیا۔ تقریب میں اظہار خیال کرنے والے دیگر معروف مقررین میں نورالہدیٰ شاہ، امداد حسینی، ڈاکٹر فاطمہ حسن، ڈاکٹر غزالہ رحمان، یوسف بشیر قریشی، ڈاکٹر سحر امداد، جامی چانڈیو، ، مظہر جمیل، ڈاکٹر سلیمان شیخ اور مظہر صدیقی شامل تھے۔ ان مقررین نے شاہ لطیف کے فلسفے، سندھ کی ثقافتی اقدار، شاہ لطیف کی شاعری میں سرکشی اور شاہ لطیف کے سروں کے مرکزی خیال جیسے موضوعات پر گفتگو کی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -