کورونا وائرس یقین، احتیاط اور بے خوفی کی ضرورت!

کورونا وائرس یقین، احتیاط اور بے خوفی کی ضرورت!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

انسانی آنکھ سے اوجھل ایک چھوٹے سے وائرس نے کہ خورد بین کے نیچے جس کی شکل آبی بارودی سرنگ سے مشابہت رکھتی ہے، پوری دُنیا میں ہلاکتوں کا بازار گرم کر دیا ہے۔ یہ وائرس غیر محسوس طریقے سے انسانی بدن میں داخل ہوتا ہے، کچھ دن جسم کے اندر پنپتا ہے، اپنے اثرات بتدریج ظاہر کرتا ہے اور پھر اپنے میزبان کی زندگی کو آبی بارودی سرنگ کی طرح بھک سے اڑا دیتا ہے۔اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین بازار میں موجود نہیں ہے اور اس کے علاج کا تریاق بھی دستیاب نہیں ہے۔دُنیا کے تقریباً سبھی ممالک، بلا تخصیص ترقی یافتہ اور پسماندہ کے، یہ وائرس جس طرح لاشیں گرا رہا ہے اور اپنے خوف کی گرفت میں لوگوں کو جکڑ رہا ہے، ان نشانیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے،جو دُنیا کے خاتمے کے حوالے سے لوگوں میں معروف و معلوم ہیں۔
کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر شہر کے شہر لاک ڈاؤن ہو رہے ہیں،کرفیو کی باتیں ہیں، اجناس اور اشیائے خوردنی کی قلت کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، معیشت کے ڈوبنے کی باتیں زبان زدعام ہیں،سماجی فاصلوں اور مذہب کی طرف رجوع پر توجہ دی جا رہی ہے اور الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے پوری دُنیا کو صحیح معنوں میں ایک ایسا گلوبل ولیج بنا دیا ہے، جس کی فضا میں موت کے لمس کی ٹھنڈک ہے۔
اس گذرتے سمے میں بس ایک یہی موضوع لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے، جو لوگ کورونا وائرس کا بخوبی علم رکھتے ہیں وہ دم بخود اور سنگین وسوسوں کا شکار ہیں اور جو لوگ اپنی لاعلمی اور جہل کی بنا پر اس وبا کا ادراک نہیں رکھتے وہ کج بحثیوں، ہٹ دھرمی اور ہنسی ٹھٹھول میں پڑے ہیں۔
بہرحال یہ گھڑی سوچ، فکر اور تدبر کی ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سخت احتیاطی تدابیر کے لاگو کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ پوری دُنیا کو اُس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑے گا،جس سے اٹلی کا شہر لمبارڈی ہوا ہے کہ جہاں آفت اس طرح نازل ہوئی کہ قبرستان میں جگہ کم پڑ گئی۔
تیس برسوں پر پھیلے اپنے صحافتی تجربے میں مَیں نے پہلی بار ایک مہلک مرض کو اپنے وطن میں یوں غارت گری میں سرگرم عمل دیکھا ہے۔ ہمارے عوام کے لئے یقینا یہ ایک نیا اور انوکھا تجربہ ہے۔ لوگوں نے طاعون کا نام تو سنا تھا،لیکن طاعون کورونا سے زیادہ جان لیوا ہے۔طاعون پوری فضا کو مکمل طور پر آلودہ کر دیتا ہے۔14ویں صدی عیسویں میں یورپ میں پھیلنے والی اس وبا نے شہروں میں لاشیں اس طرح بچھائی تھیں کہ انہیں اٹھانے اور دفنانے والا کوئی نہیں تھا۔
کورونا بہرحال ایک آفت ہے جس کا ادراک انتہائی سنجیدگی کا متقاضی ہے۔ یقینا اس وقت سے ڈرنا چاہئے جب بار بار ہاتھ دھونے سے بھی کچھ نہ ہو اور مرض خاموشی سے اپنا وار کر جائے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضروری بات احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور سماجی فاصلے کی اہمیت کو سمجھنے کی ہے۔ اپنی قوتِ مدافعت کا خیال رکھنا ہے، یقین اور اعتماد کو اپنے دِل میں جگہ دینا ہے اور خوف کو ہر صورت خود سے دور رکھنا ہے۔خوف ایمان کو کمزور کرتا ہے، قلب کو وسوسوں کی آماج گاہ بناتا ہے اور بیماریوں کو جسم پر حاوی ہونے میں مدد دیتا ہے۔
سب لوگوں سے بالخصوص خواتین سے میرا التماس ہے کہ احتیاط لازم مگر خوف کو خود سے الگ کریں۔ خوف اور مایوسی سے قوتِ مدافعت ختم ہو جاتی ہے، جو کسی بھی بیماری سے لڑنے کے لئے بہت ضروری ہوتی ہے۔ خوف کو ذہن میں بٹھا کر موت سے پہلے اپنی زندگی کو موت سے بدتر نہ کریں۔ جینے کی امنگ خود میں پیدا کریں تو کوئی وائرس آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ربِ کریم سے اچھی امید رکھو گے تو اچھا ہی ہو گا۔
رب ذوالجلال کا شکر ہے کہ میرے پیارے وطن میں ابھی تک صورتِ حال قابو میں ہے۔ حکومت وہ سارے اقدامات کر رہی ہے جو اس عالم گیر وباء کے حوالے سے ضروری ہیں۔ہماری عسکری قیادت اور جوان میدان میں اُتر چکے ہیں اور شعبہئ طب سے متعلقہ ہمارے ڈاکٹر صاحبان اور نرسیں اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں۔ اللہ پاک سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔پاکستان کے پُرعزم اور باحوصلہ وزیراعظم عمران خان کو موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے زمینی حقائق کا بخوبی علم ہے اور وہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں،جو بجا طور پر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہیں۔دُعا ہے کہ وہ اپنے نیک ارادوں میں کامیاب و کامران ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عوام ایک باشعور اور سمجھ دار قوم ہونے کا ثبوت دیں۔بصورتِ دیگر وہ موت کی اُس لَے پر جو ہملین کے بانسری نواز نے چھیڑی تھی،اپنے خاتمے کی جانب خودبخود دوڑتے چلے جائیں گے۔ یہ گھڑی سمجھ داری، برد باری اور عقل سے کام لینے کی ہے۔ احتیاطی تدابیر اپنائیں اور ربِ کریم پر پورا توکل کریں۔ربِ کریم سے دُعا ہے کہ آزمائش کی اس ساعت میں ہم سب پر اپنا فضل و کرم فرمائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -