توہین عدالت کی درخواستوں کے بعد، پی ایم ڈی سی بحال!

توہین عدالت کی درخواستوں کے بعد، پی ایم ڈی سی بحال!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد انتظامیہ نے وزارت صحت کی ہدایت پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے دفاتر سے پولیس ہٹا لی اور دفتر کھول دیا، جس کے بعد ملازمین نے بلڈنگ میں داخل ہو کر اپنے فرائض سنبھال لئے ہیں۔ ملازمین نے وزارت صحت کی طرف سے نصب کیا گیا نیا بورڈ ہٹا کر اس کی جگہ پی ایم ڈی سی والا پرانا بورڈ لگا دیا ہے۔ یہ عمل اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کی درخواست پر دیئے جانے والے حتمی حکم کے بعد کیا گیا اور یوں کئی ماہ سے زیر سماعت درخواست کے فیصلے پر عمل درآمد کی وجہ سے پی ایم ڈی سی کی سابقہ حیثیت بحال ہو گئی۔ یہ تنازعہ کئی ماہ سے جاری تھا، جب وزارت صحت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل توڑ کر اس کے دفاتر سربمہر کر دیئے اور ملازمین فارغ ہو گئے تھے، ملازمین کی طرف سے یہ فیصلہ چیلنج کیا گیا اور متعدد سماعتوں کے بعد عدالت عالیہ اسلام آباد نے پی ایم ڈی سی کی سابقہ حیثیت بحال کرکے دفتر کھولنے کا حکم دیا، انتظامیہ نے عمل درآمد سے گریز کیا، نہ تو دفتر کھولا اور نہ ہی پہرہ ختم کیا گیا۔ اس پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی اس کی سماعت کے بعد بھی فیصلے پر مکمل عمل درآمد کی ہدایت کی گئی، تاہم بوجوہ اس پر بھی عمل کی نوبت نہ آئی تو پھر توہین عدالت کی درخواست دائر ہوئی۔ اس دوسری درخواست پر سیکرٹری صحت کو ذاتی طور پر طلب کر لیا گیا اور فاضل جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر پولیس ہٹانے اور دفتر کی مہریں توڑنے کا حکم دیا، اس ہدائت پر بہرحال عمل ہوگیا۔پی ایم ڈی سی کو توڑنے،دفتر بند کرنے اور توہین عدالت کی دو درخواستوں کے بعد عدالتی حکم پر عمل ہونے سے اس یقین اور اعلان کی نفی ثابت ہوئی ہے کہ حکومت اور انتظامیہ عدلیہ کا احترام کرتی ہے۔ ایسا عملی طورپر ہوتا تو پہلے ہی حکم پر ملازمین کو ان کا یہ حق مل جاتا، دوبار توہین عدالت کی درخواست اورپھر فاضل عدالت کے برہم ہونے کی نوبت ہی نہ آتی۔ جہاں تک عدالتی طریق کار کا تعلق ہے تو ہر فریق کو کسی بھی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہوتا ہے، حتمی اپیل سپریم کورٹ تک ہو سکتی ہے، تاہم عدلیہ کے احترام کا تقاضا تو یہ ہوتا ہے کہ جو حکم ملے اور اس کی جو نوعیت ہو اس کے مطابق عمل کر دیا جائے، لیکن یہاں تو معاملہ ہی دوسرا نظر آیا اور توہین عدالت کی درخواست تک نوبت گئی اور یہ عمل درآمد بھی دوسری درخواست پر ہوا۔ باور کرنا چاہیے کہ یہی فیصلہ مثال بنے گا اور قانون اور عدلیہ کا احترام صحیح معنوں میں ہوگا۔

مزید :

رائے -اداریہ -