کرونا، امدادی مہم اور مہنگائی

کرونا، امدادی مہم اور مہنگائی
کرونا، امدادی مہم اور مہنگائی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کنفیوژن بھی بڑھ رہا ہے کہ لاک ڈاؤن جاری رکھا جائے یا اس میں نرمی کی جائے۔ حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے چینی ڈاکٹروں کے وفد نے وفاقی دارالحکومت اور صوبوں کا بھی دورہ کیا۔ وفد نے لاہور میں پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور کراچی میں سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں کرونا کی وباء پر قابو پانے کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال ہوا، چینی ڈاکٹروں نے بتایا کہ چین میں 8ہفتے کے لاک ڈآؤن کی وجہ سے وباء پر قابو پایا گیا ان کا مشورہ تھا کہ پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کم از کم 30اپریل تک نہ صرف برقرار رکھا جائے، بلکہ اسے زیادہ موثر بھی بنایا جائے کہ وائرس میل ملاپ سے بڑھتا ہے۔ ایسا ہی مشورہ وزیراعلیٰ سندھ کو کراچی کے نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹر حضرات کا بھی تھا، اس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے لاک ڈاؤن موثر اور سخت بنانے کے علاوہ فی الحال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، وفاقی اور پنجاب کی سطح پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا، فی الحال یہ لاک ڈاؤن 14اپریل تک ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا۔


معروضی حالات یہ ہیں کہ جوں جوں ٹیسٹوں کی تعداد اور استعداد بڑھ رہی ہے۔ جوں جوں مریضوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب پاکستان میں متاثرین چار ہزار 30ہو گئے۔ روزانہ کی بنیاد پر 3سو سے 5سو متاثرین روزانہ سامنے آنے لگے ہیں، اگرچہ صحت یاب ہونے والے مریض زیادہ ہیں۔ لیکن اموات میں بھی تو اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ 24گھنٹوں کے درمیان مزید چار مریض جان کی بازی ہار گئے اور فوت ہونے والوں کی تعداد56ہو گئی۔ یہ مرض کراچی، لاہور اور گلگت بلتستان میں زیادہ رفتار سے سامنے آ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ کرونا ٹیسٹ ہے کہ اب یہ استعداد 3600سے بھی بڑھ گئی ہے۔ جلد ہی پانچ ہزار روزانہ سے بڑھ جائے گی، خدشہ ہے جو حالات کی وجہ سے محسوس کیا گیا کہ اب مرض تیزی سے پھیلتا ہوا محسوس ہو گا کیونکہ ٹیسٹ نہ ہونے سے کل مریضوں کی تعداد چھپی رہتی تھی ورنہ کرونا میں متاثر کرنے کی جو صلاحیت ہے اس کی وجہ سے اب تک نہ معلوم کتنے لوگ متاثرہو چکے ہوئے ہیں کیونکہ بیرونی ممالک سے آنے والے اپنے اپنے اضلاع روانہ ہو گئے تھے اور ان کے ساتھ میل جول میں کوئی احتیاط نہیں کی گئی، اب ان کو تلاش کرنا ہوگا، اس کے لئے اگر ضلعی ہیڈکوارٹرز تک ٹیسٹ کا انتظام ہوگا تو ہی متاثرین کا علم ہو سکے گا۔


ہم نے کنفیوژن کا ذکر کیا تھا تو اس کی مثال بھی دے لیں کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کے علاوہ سندھ حکومت کا بھی خیال ہے کہ طویل لاک ڈاؤن سے عام لوگوں کی زندگی بُری طرح متاثر ہوئی اور سرکاری کے علاوہ عام لوگوں کی آمدنی بھی بہت ہی کم ہو گئی۔ وفاقی حکومت تو مسلسل قرض لے کر گزارہ کررہی ہے، جہاں تک روزانہ اجرت والے محنت کش اور چھوٹے تاجروں کا تعلق ہے تو یہ سب پریشان ہو رہے ہیں۔ اب تو یہ لوگ بھی سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں، انہی کے تحفظ کی خاطر یہ سوچا جا رہا اور کہا گیا ہے کہ برآمدی اور مقامی صنعتوں کو مکمل تحفظ کے ساتھ کھولا جائے تاکہ معیشت کا پہیہ جو جام ہے چلنا شروع ہو، کرونا کی وجہ سے عام زندگی بھی بُری طرح متاثر ہوئی۔ لوگ گھروں میں بند ہو کر تنگ آ گئے، چنانچہ گزشتہ دو چار روز سے خریداری کی اجازت کے دیئے گئے اوقات کے درمیان سڑکوں پر بھیڑ ہو جاتی ہے جبکہ دیہاڑی دار (روزانہ کی اجرت والے) مالی طور پر بہت زیادہ پریشان ہو گئے۔ دوسری پریشانی یہ ہے کہ مخیر حضرات کی طرف سے راشن کی تقسیم سے بھی یہ مستفید نہیں ہو پا رہے کہ 80فیصد یہ سہولت ماہر قسم کے لوگ لے جاتے ہیں۔ جو مزدور بن کر سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔ مخیر حضرات کی طرف سے راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے، تاہم سفید پوش اور حق دار لوگ جھجک کی وجہ سے محروم رہ جاتے ہیں اور ہوشیار حضرات کئی کئی بار راشن لے کر بیچ بھی دیتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ مخیرحضرات کی حد ختم ہو جائے گی اور لوگ محروم رہ کر فاقہ کشی کی حد تک آ گئے تو پھر احتجاج بھی ہوگا۔ ادھر ابتداء میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے جرائم بھی کم رہ گئے تھے جو اب پھر سے شروع ہو گئے ہیں اور راہزن، ڈکیت گلی محلوں میں باہر نکلنے والوں کو لوٹنا شروع ہو گئے ہیں کہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے جوان مرکزی شاہراہوں پر ہوتے ہیں۔


کرونا کے ساتھ ساتھ اب یہ جو چینی،آٹے والی رپورٹ آئی۔ اس نے بھی لوگوں کے زخم ہرے کر دیئے ہیں، لوگ سوال کر رہے ہیں کہ یہ رپورٹ کیا ہے اور اس سے عام زندگی پر کیا اثر پڑے گا، کیونکہ بازار میں چینی کھلی 85روپے سے 90روپے فی کلو اور چکی آٹا 66سے 76روپے فی کلو مل رہا ہے، جبکہ میڈیا کو نیا ایشو مل گیا ہے۔ لوگوں کا سوال ہے کہ ڈالر 169روپے کاہو گیا۔ یہ کیوں نظر نہیں آتا، خریداری بے حد کم ہو جانے کے باوجود سبزی، فروٹ اور دالیں کیوں سستی نہیں ہوئیں۔ تیل اور وناسپتی بھی مہنگے ہوئے ہیں۔ دودھ اب بھی ملاوٹ والا صحت کے لئے مضر ہے اور ملاوٹ کا کاروبار جاری ہے۔ ادھر رمضان میں دو ہفتے رہ گئے۔ منافع خور تاک میں ہیں، ایسے میں عام آدمی کیا کرے؟

مزید :

رائے -کالم -