میڈیا: حکومت کا چوتھا اور اہم تر ستون!

میڈیا: حکومت کا چوتھا اور اہم تر ستون!
میڈیا: حکومت کا چوتھا اور اہم تر ستون!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


دوسری جنگِ عظیم کی ابتداء ہوئی (یکم ستمبر 1939ء) تو الیکٹرانک میڈیا بھی موجود تھا اور پرنٹ میڈیا بھی۔ اول الذکر میں وڈیو اور آڈیو کے دونوں پہلو یعنی فلم اور ریڈیو شامل تھے اور موخر الذکر میں اخبارات و رسائل وغیرہ۔ میڈیا کے یہ ذرائع عوام کو معلومات پہنچاتے تھے۔ ریڈیو (وائرلیس) کی ایجاد نے تو ملٹری آپریشنوں کو پہلے سے کہیں زیادہ موثر اور تیز تر کر دیا تھا۔ وائرلیس نیٹ کے ذریعے فوجی حکامِ بالا، حکامِ زیریں کو رئیل ٹائم ہدایات دے سکتے تھے اور اس طرح حربی معرکوں میں نہایت اہم رول ادا کر سکتے تھے۔ ان ذرائع ابلاغ کو فوج کے علاوہ سویلین دنیا میں بھی رواج دینے کا سہرا ہٹلر کے وزیرِ اطلاعات و نشریات گوئبلز کے سرباندھا جاتا ہے۔ یہ گوئبلز ہی تھا جس نے پراپیگنڈا کی اصطلاح ایجاد کی اور اسے باقاعدہ بطور ایک جنگی ہتھیار استعمال کیا۔ اس موضوع پر بہت سی کتب مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور ہماری اپنی یونیورسٹیوں کے شعبہ ء ابلاغیات میں درسی کتب کے طور پر پڑھائی جا رہی ہیں۔گوئبلز کا مشہور مقولہ ہے کہ جھوٹ کو اگر تواتر سے بولا جائے تو یہ سچ معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس نے پراپیگنڈا کو باقاعدہ تین حصوں میں تقسیم کیا اور ان کو سفید پراپیگنڈا، سیاہ پراپیگنڈا اور سرمئی (Grey) پراپیگنڈا کا نام دیا۔


1979ء میں میری پوسٹنگ ہیڈکوارٹر 6آرمرڈ ڈویژن (کھاریاں) میں تھی۔ جی ایچ کیو میں پراپیگنڈا اور اس سے جڑے ہوئے ابلاغی موضوعات پر بھی فوج کو معلومات دینے کے لئے باقاعدہ ایک ڈائریکٹوریٹ قائم تھا جس کو ”سائی آپس ڈائریکٹوریٹ“ کہا جاتا تھا اور ایک بریگیڈیئر صاحب اس کے انچارج تھے۔ بعد میں (1985ء تا 1996ء) جب میری پوسٹنگ جی ایچ کیو میں ہوئی تو مجھے بارہا اس سائیکلوجیکل آپریشنز ڈائریکٹوریٹ (Psy Ops Dte) میں جانے اور وہاں کی لائبریری سے مستفید ہونے کے مواقع میسر آئے۔ اس ڈائریکٹوریٹ کے تحت 1979ء میں ہیڈکوارٹر وَن کور (منگلا) میں چار ہفتوں کا ایک کورس چلایا گیا اور اپنے ڈویژن کی طرف سے مجھے اس کورس پر مامور (Detail)کیا گیا۔ دن میں باقاعدہ 8پیریڈ ہوتے تھے جن میں کورس کے شرکاء کو (جن کی تعداد 20تھی) نفسیاتی جنگ و جدل کے طور طریقوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی تھیں۔ ہم لوگ حیران ہوتے تھے کہ اتحادیوں نے دوسری جنگ عظیم میں فتح یاب ہونے کے بعد اس جنگ کے نفسیاتی پہلوؤں کے بارے میں کتنی عجلت سے ایک کثیر اور ضخیم تحریری مواد تیار کرکے سول اور فوجی اداروں میں تقسیم کیا تھا…… اور جس کی تدریس 1979ء میں ہمیں دی جا رہی تھی۔ اس کورس کے اساتذہ میں میجر حسرت اور ڈاکٹر مالک کی کنٹری بیوشنز نہایت وقیع اور ہمارے لئے بے حد معلومات افزا تھیں۔


ہمیں تفصیل سے بتایا اور پڑھایا جاتا تھا کہ امن اور جنگ کے ادوار میں میڈیا کا کردار کتنا اہم اور کتنا کارگر ہوتا ہے۔ آج بھی آپ نے دیکھا اور سنا ہوگا کہ ہمارے ISPR کے ترجمان اور دوسرے سینئر آفیسرز ٹیلی ویژن پر آکر اس امر کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ میڈیا ایک نہایت پاور فل حکومتی آرگن ہے۔ اس کے ذریعے سچ(سفید) کو جھوٹ(سیاہ) اور بعض اوقات سیاہ و سفید کو ملا کر (سرمئی) بنا دیا جاتا ہے۔ پراپیگنڈے کی یہ سرمئی شکل و صورت بہت موثر ہوتی ہے۔ قاری یا ناظر و سامع کسی بھی خبر کو پڑھ / دیکھ/ سن کر جو مطلب اخذ کرتا ہے وہ اس کی اپنی پسند و ناپسند کے مطابق ہوتا ہے۔


اس سرمئی (Grey) پراپیگنڈے کے مناظر ہم ہر روز پرنٹ، سوشل اور مین سٹریم میڈیا پر دیکھتے اور اپنی اپنی پسند و ناپسند کا مطلب نکال لیتے ہیں …… ہمارے زمانہ ء طالب علمی میں بی بی سی کا بڑا شہرہ تھا۔ اس زمانے میں ٹیلی ویژن تو ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا (یا ہمارے ہاں متعارف نہیں ہوا تھا) لیکن ریڈیو تو ہر جگہ اور ہر متوسط گھرانے میں موجود تھا۔ ہم رات 8بجے بی بی سی کی خبریں بھی سنتے تھے اور اس کے بعد پورا ایک گھنٹے کا ”سیربین“ کا پروگرام بھی آن ائر کیا جاتا تھا۔ اس وقت کے بی بی سی اردو کے باوائے آدم کا تذکرہ جناب شاہد ملک اسی اخبار کے اپنے ہفتہ واری کالموں میں کرتے رہتے اور ہمیں اپنی جوانی کی ”غلط کاریوں“ سے متمتع ہونے کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ہمارے زمانے کا بی بی سی ریڈیو اور تھا اور آج کا بی بی سی (ریڈیو اور ٹی وی) یکسر بدل چکا ہے۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن زمانے میں اس کے سوا اور بھی تو کئی ”دکھ“ ہیں!


سیربین کا کمال یہ تھا کہ اس میں دنیا بھر کی خبروں پر تبصرہ کیا جاتا تھا لیکن جب برصغیر کا ذکر کیا جاتا تو انڈیا اور پاکستان کے جن موضوعات کو سیربین میں شامل کیا جاتا۔ ان میں ”منکشف“ کی گئی معلومات میں 90فیصد درست ہوتی تھیں اور صرف 10فیصد نیم درست یا غلط ہوتی تھیں۔ ہم سامعین باور کر لیا کرتے تھے کہ اگر 90فیصد درست ہیں تو یہ 10فیصد بھی درست ہوں گی…… بس یہی گرے (سرمئی) پراپیگنڈے کا کمال تھا۔اگلے روز اخباروں میں پڑھتے تو ہمارے مدیران اپنے اپنے ذوق اور ایجنڈے کے مطابق بی بی سی نشریات کا حوالہ دے کر اپنی خبر کو ”درستگی اور سچائی“ کی سند عطا فرمایا کرتے تھے…… والد مرحوم کہا کرتے تھے کہ اگر پاک اور شفاف پانی سے بھری ہوئی بالٹی میں ایک قطرہ پیشاب کا گر جائے(یا گرا دیا جائے) تو ساری بالٹی ناپاک اور پلید ہو جاتی ہے، اس لئے ان کی نظر میں بی بی سی کا کمال یہ تھا کہ وہ اپنے سیربین پروگرام کی صاف پانی کی بالٹی میں صرف ایک قطرہ پیشاب (سرمئی پراپیگنڈہ) ملا دیتی ہے اور سامعین کی اکثریت اس کو سفید اور شفاف پانی سمجھ لیتی ہے…… پھر یہ ہوا کہ ہماری فکر جوں جوں آگے بڑھتی گئی، مطالعے اور مشاہدے کا کینوس جوں جوں پھیلتا گیا، بین الاقوامی موضوعات کی سُن گُن کا ادراک جوں جوں ”لاحق“ ہوتا چلا گیا تو اس حقیقت کا عرفان ہونے لگا کہ کواکب جس طرح کے نظر آتے ہیں، اس طرح کے ہوتے نہیں …… ہر روز اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر سفید و سیاہ پراپیگنڈہ کے علاوہ سرمئی پراپیگنڈا کے مظاہر دیکھ دیکھ کر بی بی سی کا سیربین اور سائی آپس (Psy Ops) کے استعمالات یاد آ جاتے ہیں …… ایک دو مثالیں:


آج (8اپریل 2020ء)کے اخبار ڈان کے آخری صفحہ پر سب سے اوپر دائیں طرف ایک 6"x3" کا مستطیل شکل کا ایک چوکھٹا سا لگا ہوا ہے جو AFP (ایجنسی فرانس پریس) سے لفٹ کیا گیا ہے چھوٹے چھوٹے (ایک ایک انچ قطر کے)9دائرے بنے ہوئے ہیں اور ان دائروں کے اندر رنگین تصاویر دی گئی ہیں جو کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کے گویا Dos اور Donts ہیں۔ ان میں کرنے (Dos) کی تصاویر کے ساتھ درج ذیل عبارات دی گئی ہیں …… (1) گرم پانی سے غسل کیجئے…… (2)وٹامن (C) زیادہ لیجئے…… (3) ادرک وغیرہ کے نیم گرم پانی سے غرارے کیجئے…… (4) گرم گرم چائے یا کافی نوشِ جاں کیجئے…… (5) ہاتھوں کو صابن سے دھوئیے اور سیناٹائزرز استعمال کیجئے…… (6) کیلے کھایئے……(7) ہیرڈرائر سے گرم ہوا نتھنوں میں اتاریئے……(8) آئس کریم اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کیجئے……
اب کمال کی بات یہ بھی دیکھئے کہ ایک دائرے میں جڑی بوٹیوں کو دکھایا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ عبارت لکھی ہوئی ہے:”چینی جڑی بوٹیوں کا استعمال کرونا وائرس کو نہیں روکتا“……بس یہی وہ سرمئی پراپیگنڈا ہے جس کو والد مرحوم صاف پانی میں پیشاب کا قطرہ کہا کرتے تھے!


اب ایک اور مثال دیکھئے اور وہ بھی آج ہی کے ڈان اخبار کی شہ سرخی ہے جو صفحہ نمبر1پر دی گئی ہے…… شہ سرخی یہ ہے:
Export of Sugar Okayed by PM, Cabanet told.
آپ جانتے ہیں کہ آج کل چینی کے بحران پر دن رات اور دھڑا دھڑ خبریں آ رہی ہیں، تبصرے کئے جا رہے ہیں اور ٹاک شوز منعقد ہو رہے ہیں …… اس بحثا بحثی میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ چینی برآمد کرنے کا حکم کس طرف سے آیا تھا؟…… اس سوال کے جواب کے لئے اس خبر کے ایک پیراگراف کا اردو ترجمہ یہ ہے: ”وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کو بتایا کہ حالیہ چینی اور گندم بحران کی انکوائری کی اولین / ابتدائی رپورٹیں ان کی اپنی ہدایات کے تحت ریلیز کی گئی تھیں اور انہوں نے ہی اس مالی سال کے لئے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی تاکہ گنا اگانے والے کاشتکاروں کی امداد کی جا سکے۔ لیکن ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھ دی تھی کہ ایسا کرتے ہوئے (یعنی چینی باہر کے ملکوں کو برآمد کرتے ہوئے) اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ملک میں چینی کی قلت کی صورتِ حال پیدا نہ ہو“۔
…… اب یہ بات قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس شہ سرخی سے کیا مطلب نکالتے اور اس کی تفصیل کی کیا تفہیم کرتے ہیں …… اللہ اللہ خیر سلّا۔

مزید :

رائے -کالم -