"واجد ضیا سے واجد ضیا تک"

"واجد ضیا سے واجد ضیا تک"

  

چاہتا تو یہ تھا کہ بسلسلہ چاراپریل ذوالفقارعلی بھٹو کے یوم شہادت کے حوالے سے کچھ لکھوں، ذوالفقارعلی بھٹو کے قتل پر کوئی نوحہ گری کروں۔ ضیاالحق کے پاکستان کی سیاست اور جمہوری نظام کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظلم پر کوئی بات کروں، اس کالی رات کے بعد ملک پر چھانے والی تشدد، انتہاپسندی اورعدم برداشت کی طویل رات پر کچھ لکھوں جس سے آج بھی ہماری جان نہیں چھوٹ سکی، لیکن اسی روز یعنی چاراپریل کو ایف آئی اے کی چینی اور آٹا بحران کی وجوہات کے حوالے سے آنے والی تحقیقاتی رپورٹ نے موضوع بدلنے پر مجبور کردیا اور سوچا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کے عدالتی قتل کے حوالے سے واجب تحریر کو چند روز کے لئے موقوف کردیا جائے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پانامہ سکینڈل کی تحقیقات کے لئے واجد ضیا کے سربراہی میں سپریم کورٹ نے خصوصی کمیشن تشکیل دیا۔ سپیشل انکوائری کمیشن کے سربراہ واجد ضیا نے تحقیقات مکمل ہونے پراپنی رپورٹ سپریم کورٹ کے روبرو پیش کی تو میں نے روزنامہ پاکستان کے انہی صفحات پر " جنرل ضیا سے واجد ضیا تک" کے عنوان کے تحت ایک کالم لکھا۔ اس عنوان کے حوالے سے میرے ذہن میں ایسے ہی ایک پہلو ابھرا کہ ضیا نام کے یہ دوسرے سرکاری افسر ہیں جن کی وجہ سے ایک اور منتخب وزیراعظم کو منصب سے ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے۔

اس سے قبل جنرل ضیا الحق نے ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو نہ صرف تخت سے اتارا بلکہ تختہ دار پر لٹکا دیا، دوسری بار ضیا نام کا لاحقہ رکھنے والے واجد ضیا کی رپورٹ منتخب وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنی۔ اب وہی واجد ضیا ایف آئی اے کے سربراہ بنے تو ان کے ادارے کی مرتب کی گئی چینی اور آٹا سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ نے عمران سرکار کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سو مجھے یوں لگا کہ شاید "ضیا" کا منتخب حکومتوں کے ساتھ حسن سلوک اب بھی جاری ہے۔ بالائے ستم کہ یہ رپورٹ بھی چار اپریل کے منحوس دن منظرعام پر آئی ہے جس روز جنرل ضیا نے ذوالفقارعلی بھٹو کو موت کے گھاٹ اتارا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں پی ٹی آئی حکومت کے بڑوں مخدوم خسرو بختیار اور بالخصوص جہانگیرترین کو چینی بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اورکہا ہے کہ یہ دونوں شخصیتیں چینی کی قیمت بڑھنے اور سبسڈیز کے حصول کے ذریعے سب سے زیادہ فائدے میں رہیں اور انہوں نے بالواسطہ یا بلا واسطہ کروڑوں روپے کمائے۔ ناموں کا ملنا جلنا تو ایک اتفاق ہوسکتا ہے لیکن چلیں دیکھتے ہیں کہ یہ رپورٹ عمران سرکار کے لئے کس طرح پریشان کن ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ سابق حکومتوں کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے سربراہان اور ان کی سیاسی ٹیم کے ارکان بزنس کرتے ہیں، ان کی ناک کے نیچے کرپشن ہوتی ہے اور وہ اس کرپشن میں خود ملوث ہیں۔ ان حکومتوں کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تو ان کے کئی ناقد بھی کسی قدر تعریف کرتے ہیں کہ جن مشکلات حالات میں انہوں نے پرفارم کیا وہ غیرمعمولی رہا لیکن عمران خان کا بطور اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے خلاف یہی مقدمہ تھا کہ ان کی قیادت کرپٹ ہے۔ اسی پاپولر نعرے کی بدولت وہ الیکشن جیتے اور مسند اقتدار تک پہنچ گئے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا لیکن جب حکومت میں بیٹھ گئے تو عوام کی نظروں نے تعاقب شروع کردیا جن کی توقعات اس قدر بڑھا دی گئی تھیں کہ وہ اب معاملات کو ٹھیک ہوتا دیکھنا چاہتے تھے، لیکن گذشتہ ڈیڑھ پونے دوسال کے دوران بدترین معاشی حالات، بیروزگاری اور بیلگام مہنگائی نے عوام کی چیخین نکال دیں۔ اس پر بھی وہ کوئی انتہائی ردعمل دینے تیار نہیں تھے عوام مطمئن تھے کہ اس حکومت میں ابھی تک کرپشن کا کوئی میگا سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ میرے نزدیک ایف آئی اے کی رپورٹ کے نتیجے میں حکومت کے اس واحد دعوے اور بھرم کو شدید دھچکا لگا ہے۔ حکومت کے بارے میں یہ چارج شیٹ پہلے سے موجود تھی کہ ان میں امور مملکت کو سمجھنے، سنبھالنے اور سلجھانے کی مطلوبہ اہلیت نہیں۔ اب اس سکینڈل کے بعد اس چارج شیٹ میں وہ نکتہ بھی شامل ہوگیا ہے کہ جو سابقہ حکومتوں کے لئے مخصوص تھا۔

اب مخالفین منہ پھاڑ کر کہیں گے کہ یہ حکومت نااہل تو تھی ہی، اب کرپٹ بھی ثابت ہوگئی۔ سکینڈل کا مرکزی کردار قرار دی جانے والی دونوں شخصیات میں سے جہانگیر ترین کا نام بالخصوص وزیراعظم عمران خان کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے، حکومت کی تشکیل کا معاملہ ہو تو تمام آزاد ارکان کو بنی گالہ پہنچانے کے لئے ترین صاحب کا جہاز ہواؤں کے دوش پر فراٹے بھرتا رہا۔ حکومت بننے کے بعد اہم معاشی فیصلے ہوں یا ناراض اتحادیوں کو منانے کا معاملہ جہانگیر ترین ہر مرحلے پر وزیراعظم عمران خان کے بااعتماد ساتھی کے طور پر سامنے آئے۔ اس رپورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو سخت مشکل میں ڈال دیا ہے، وہ اگر کوئی بھی جواز لے کر جہانگیر ترین کو بچاتے ہیں تو ان کی اپنی ساکھ کمپرومائز ہوتی ہے اور اگر وہ جہانگیر ترین کے خلاف کوئی سخت فیصلہ لیتے ہیں تو اس سے انہیں اپنی کور ٹیم کے اہم رکن سے محروم ہونا پڑے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا پیچھا کرنے والے ان کے بارے میں بات ضرور کہیں گے کہ ان کے پہلو میں بیٹھے لوگ اگر کرپشن کرتے رہے تو وزیراعظم کی رٹ کہاں ہے؟ ان کی گورننس کا کیا معیار ہے؟ بہرحال وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت کے لئے چینی کا یہ سکینڈل بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بات یہیں تک نہیں رہے گی۔ دیکھتے ہیں کہ واجد ضیا کی ایک رپورٹ کے بعد ان کی دوسری رپورٹ کیا گل کھلاتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -