آج سے غریبوں کی امداد شروع،احساس پروگرام کے تحت 144ارب روپے تقسیم کئے جائیں گے، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے رمضان پیکیج کی منظوری دیدی، کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے خدشہ ہے ہسپتالوں میں جگہ کم نہ پڑ جائے: عمران خان

      آج سے غریبوں کی امداد شروع،احساس پروگرام کے تحت 144ارب روپے تقسیم کئے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں))وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء جس تیزی سے پھیل رہی ہے،خطرہ ہے اپریل کے آخر میں ہسپتالوں میں جگہ کم نہ پڑ جائے،لوگوں کوباہرنکلنے پرجیلوں میں تونہیں ڈال سکتے،لوگوں کو خوداحتیاط کرنی ہے،جب تک قوم مل کرمقابلہ نہیں کریگی کوئی حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی، احساس پروگرام (آج)جمعرات سے شروع ہو جائے گا، اگلے دو سے ڈھائی ہفتوں تک 144 ارب روپے غریب ترین طبقے میں بانٹ دئیے جائیں گے تاکہ وہ اپنا گھر چلا سکیں، یہ سارا پروگرام کمپیوٹرائزڈ ہے اور اس میں کسی طرح کی سیاسی مداخلت نہیں ہو گی، لاک ڈاؤن کے باعث پریشان حال عوام کو ریلیف دینے کیلئے وزیراعظم نے عمران خان نے فی کس مستحق خاندان کوآج سے 12 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا جس کیلئے ملک بھر میں 17 ہزار پوائنٹس مختص کر دیئے گئے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ زرعی سیکٹر کو مکمل طور پر کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیہاتوں کی سطح پر کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہے۔ اس کے علاوہ 14 اپریل سے تعمیراتی شعبے کو بھی کھولا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مستحقین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے 144 ارب رکھے ہیں جو آئندہ دو ہفتوں کے اندر تقسیم کر دیئے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے22کروڑلوگوں کوکھاناپینافراہم کرناہے،پاکستان میں 5کروڑ افرادغربت کی لکیر سے نیچے ہیں ہماراسب سے بڑاچیلنج غریب طبقے کوریلیف دیناہے،یہی وجہ ہے کہ ہم نے فیصلہ کیاکہ زرعی سیکٹرکومکمل طورپر کام کرنے دیناہے،14اپریل سے تعمیراتی سیکٹربھی کام شروع کردے گا،جب ہم لاک ڈاؤن کرینگے توغریب ترین طبقے پرکیااثرات پڑیں گے،تین ہفتے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا، کسی نوجوان کوبیماری لگی تو اسکے گھرمیں موجودبزرگوں کوخطرہ ہوسکتاہے،ہر ملک میں کورونا وائرس کاپھیلاؤ مختلف ہے،پاکستان میں لوگ لاپرواہی کرناشروع کردیتے ہیں،سب سے درخواست کرتاہوں،خداکاواسطہ غلط فہمی میں نہ پڑیں،کورونا سے متاثرہ 4سے5فیصدافرادکوصرف اسپتالوں میں جانے کی ضرورت ہوتی ہے،ہر 100میں سے ایک یادو افراداس بیماری سے مرسکتے ہیں،وہ اسپتال جائے بغیربھی ٹھیک ہوجائیں گے،جنہیں بیماری لگتی ان میں سے85لوگوں کوخاص فرق نہیں پڑیگا،وزیراعظم نے کہا کہ احتیاط کریں توبڑے مسئلے سے بچ سکتے ہیں کیونکہ جب زیادہ لوگ جمع ہوں گے تویہ بیماری بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔جمعرات کو صحافیوں کو پریس بریفنگ کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے اصل لاک ڈان شہروں میں کیا تھا لیکن اب خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ لوگوں کے حالات برے ہیں تو اس وجہ نے ہم نے 14 تاریخ سے کنسٹرکشن سیکٹر کو کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تاکہ لوگوں کو روزگار مل سکے لیکن اس کیساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی خدشہ ہے کہ ایک طرف کورونا ہے جو بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اس لے ہمارا کمانڈ سینٹر سارے معاملات پر نظر رکھے گا، اس وقت ہر شعبے میں مشکل ہے، ریسٹورنٹس بند ہیں جس کے باعث وہاں کام کرنے والے افراد بھی بیروزگار ہیں اور ہم باقاعدگی سے یہ سوچ رہے ہیں کہ متاثر ہونے والے افراد کو ریلیف کیسے دینا ہے، اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ غریب ترین طبقے کو ریلیف کیسے دیں اور اس کیلئے ہی ہم نے احساس پروگرام شروع کیا جس کے تحت رقم تقسیم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین کروڑ افراد نے ایس ایم ایس کے ذریعے احساس پروگرام میں اپلائی کیا ہے اور یہ تمام ڈیٹا ہر طرح کی سیاسی مداخلت سے پاک اور کمپیوٹرائزڈ ہے جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے حالات کیا ہیں اور ان سب کی ویری فکیشن کے بعد ہی رقم دی جائے گی، نادرا کے ذریعے یہ دیکھا جائے گا کہ کون سے لوگ میرٹ پر پورا اترتے ہیں اور اس کے بعد 12 ہزار روپے دئیے جائیں گے اور پورے پاکستان میں 17 مختلف پوائنٹس کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو یہ رقم دی جائے گی اور دو سے ڈھائی ہفتوں میں پورا عمل مکمل ہو جائے گا جس دوران 144 ارب روپے تقسیم کئے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ احساس پروگرام میں مشکلات ضرور آئیں گی کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی اتنا بڑا پروگرام نہیں ہوا، لیکن اس میں پیش آنے والی مشکلات کو ہماری ٹیمیں مانیٹر کریں گی اور جہاں بھی بہتری کیلئے تبدیلی کرنا پڑی، اسے ضرور کریں گے، ہماری ٹائیگر فورس کی ٹیموں کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں یہ دیکھیں کہ کوئی غریب ایسا تو نہیں جو احساس پروگرام میں نہ آیا ہو، وہ ان کا ڈیٹا لیں گے جسے ویری فائی کیا جائے گا اور اس کے بعد ان افراد کو بھی اس پروگرام کے تحت ریلیف دیا جائے گا، لیکن اگر اگر پھر بھی کچھ لوگ بچ گئے تو ہم نے کورونا کیلئے فنڈ قائم کیا ہے جس میں پیسے آتے رہیں گے اور یہ سارا پیسہ ان غریبوں کو ہی جائے گا۔،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جو روزانہ دیہاڑی کمانے والے ہیں، رکشا چلانے والے، چھابڑی والے، دکاندار وغیرہ پر لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے کیونکہ وہ سارا دن دیہاڑی کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس لیے ہم نے کوشش کی کہ کسی طرح سے توازن قائم ہو جائے، لاک ڈان بھی ہو تاکہ بیماری نہ پھیلے اور اس کمزور طبقے پر بھی بوجھ نہ پڑ جائے اس لیے صوبوں کا ردعمل مختلف تھا۔وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا جیسے ملک میں بھی مختلف ریاستوں میں مختلف رویہ ہے، کئی نے پورا لاک ڈاؤن کردیا ہے، کئی نے جزوی لاک ڈان کیا ہوا ہے، یورپ میں بھی سوئیڈن کا مختلف ہے جبکہ جرمنی کا اسپین اور اٹلی سے مختلف ہے۔اس سوال پر کہ بلوچستان میں ڈاکٹرز پر تشدد کیا گیا اور وہاں ڈاکٹرز کام نہیں کررہے، پر وزیراعظم نے جواب دیا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہیلتھ سیکٹرپرتوجہ نہیں دی گئی،طبی عملے کاتحفظ بھی بہت ضروری ہے اور ہم ڈاکٹرز اور طبی عملے کے تحفظ کے لئے کام کررہے ہیں۔جب تک قوم مل کرمقابلہ نہیں کریگی کوئی حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی،وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کوباہرنکلنے پرجیلوں میں تونہیں ڈال سکتے،لوگوں کو خوداحتیاط کرنی ہے۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرائے اعلی، عسکری اور سول اداروں کے اعلی حکام ویڈیولنک کے ذریعے شریک ہوئے، اجلاس میں کورونا سے متعلق ملک کی مجموعی صورتحال اور حکومتی اقدامات کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، نیشنل کمانڈ کو آپریشن اینڈ کنٹرول سینٹر کی تجاویز پر بریفنگ کے علاوہ کورونا کے اعدادوشمار سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس کے دوران وائرس سے متعلق مستقبل کے لائحہ عمل پر بات چیت ہوئی، ڈیجیٹل ٹریکنگ اور مختلف علاقوں میں محدود آئسولیشن کے علاوہ کورونا ٹیسٹ کی صلاحیت 6 سے 20 ہزار روزانہ بڑھانے پر بھی غور کیا گیا۔ کورونا ٹائیگر فورس کے معاملات بھی اجلاس کے دوران زیر بحث آئے۔۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فلائٹ آپریشن اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی شروع کرنے پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا دائرہ کار ملک بھر میں بچھانے سے متعلق بھی مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں تعمیراتی صنعت کو فوری طور پر کھولنے کے حوالے سے اقدامات زیر غور آئے اور دیہاڑی دار مزدوروں کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعظم

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کیلئے 84 کروڑ روپے کے سبسڈی چارجز کی منظوری دے دی ہے۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے 9 کروڑ روپے سے زیادہ کی سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی۔ای سی سی نے پنجاب رینجرز کے ہیلی کاپٹر کی مرمت کیلئے 50 لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کر لی، پختوانخواہ میں ایف سی ٹریننگ سینٹر کے قیام ایڈوانس فنڈز جاری کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے رمضان ریلیف پیکج کی منظوری دے دی جس پر عمل درآمد 17 اپریل سے شروع ہوگا۔یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر عمر لودھی کا کہنا ہے کہ عوام کو رمضان میں 19 اشیاء پر سبسڈی دی جائے گی،رمضان ریلیف پیکج پرعملدرآمد 17 اپریل سے شروع ہو گا۔اس کے علاوہ ای سی سی اجلاس میں بجلی صارفین کے ریلیف سے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہوسکا، حکومت نے بجلی صارفین کو 185 ارب روپے کا ریلیف پیکج دینے کی سفارش کی ہے۔عمر لودھی کا کہنا ہے کہ رمضان ریلیف پیکج پر عملدرآمد 17 اپریل سے عید تک جاری رہے گا، یوٹیلٹی اسٹورز پر آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 800 روپے میں دستیاب ہے۔انہوں نے بتایا کہ رمضان ریلیف پیکج کے تحت مشروبات پر 15 فیصد، بیسن پر 10 فیصد، کھجور پر اوپن مارکیٹ کی نسبت کم از کم 5 فیصد سبسڈی دی جائے گی۔یوٹیلٹی اسٹورز پر رمضان ریلیف پیکج کے تحت چائے پر 8 سے 10 فیصد سبسڈی ہو گی جبکہ ای سی سی نے مزید یوٹیلٹی اسٹورز کھولنے کی بھی ہدایت کر دی ہے اور ایک ماہ کے اندر مزید 200 یوٹیلٹی اسٹورز کھولے جائیں گے۔ای سی سی نے کراچی کے بجلی صارفین کو ریلیف دینے سے متعلق سمری پر فیصلہ (آج) جمعرات تک مؤخر کر دیا۔ ا کمیٹی نے کارکے کیس میں لیگل فیس کی ادائیگی کیلئے 15 لاکھ ڈالر کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دیدی،احساس پروگرام کے تحت رقوم کی ترسیل پر 30 جون تک ٹیکس چھوٹ کی منظوری دی گئی،ملک بھر میں ایک کروڑ بیس لاکھ افراد میں رقوم تقسیم کی جائیں گی، ای سی سی نے یوتھ بزنس لون کیلئے 84 کروڑ کی سبسڈی سمیت سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دیدی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی

 

 

 

مزید :

صفحہ اول -