کرونا خطرہ، پنجاب میں لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کی تجاویز پر عملدر آمد شروع

کرونا خطرہ، پنجاب میں لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کی تجاویز پر عملدر آمد شروع

  

لاہور(خبرنگار) حکومت نے کروناوائر س سے بگڑتی صورتحال کے باعث چینی ماہرین کی 14 اپریل تک لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلہ میں مارکیٹوں، بازاروں اور سڑکوں پر پہلے کی طرح سختی کو برقرار رکھنے کی تجاویز پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور چینی ماہرین نے رپورٹ پیش کی ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں کرونا کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلہ کے دوران شہریوں کی غیرسنجیدگی کے پیش نظر ”ہاتھ نرم“ رکھنے کے احکامات واپس لے کر پنجاب کے بڑے شہروں کے داخلی و خارجی مقامات پر چیکنگ کے نظام کو مزید سخت کیا جائے۔اس حوالے سے لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں کروناسے صورتحال روز بروز سنگین ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ لاک ڈاؤن پر سختی سے عملدرآمد نہ کرنے پر14 اپریل تک کرونا متاثرہ مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں میں بھی آئسولیشن کی صورتحال کو مزید سخت کیا جائے۔ اس حوالے سے پنجاب پولیس کے ترجمان ایڈیشنل آئی جی انعام غنی کا کہنا ہے کہ 14 اپریل تک لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلہ میں ”نرم ہاتھ ”کو واپس لینے اور سختی سے عملدرآمد کرنے کا حکم دے دیا گیا۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ گھروں میں رہیں اور کسی قسم کی شکایت پر ہیلپ لائن 8787 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

عملدرآمد شروع

مزید :

صفحہ اول -