راولپنڈی کے ہسپتال میں فرائض انجام دینے والی افغان مہاجر ڈاکٹر سلیمہ رحمان کو خراج تحسین لیکن ان کے والد کیا کام کرتے تھے؟ نوجوان نسل کیلئے مثال بن گئیں

راولپنڈی کے ہسپتال میں فرائض انجام دینے والی افغان مہاجر ڈاکٹر سلیمہ رحمان ...
راولپنڈی کے ہسپتال میں فرائض انجام دینے والی افغان مہاجر ڈاکٹر سلیمہ رحمان کو خراج تحسین لیکن ان کے والد کیا کام کرتے تھے؟ نوجوان نسل کیلئے مثال بن گئیں

  

راولپنڈی (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں 14 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور 81 ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں ، ایسے وقت میں ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ اس مہلک وبا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن محاز پر موجود ہیں۔پاکستان میں بھی ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف حفاظتی سامان کی قلت کے باجود اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔افغان مہاجر ڈاکٹر سلیمہ رحمان کا شمار بھی ایسے ہی ڈاکٹروں میں ہوتا ہے جو وبا کے خلاف جنگ میں موجود ہیں اور پاکستان میں راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) یورپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں ڈاکٹر سلیمہ رحمان کو اس مشکل وقت میں خدمات سرانجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔یو این ایچ سی آر نے ڈاکٹر سلیمہ کی ہسپتال میں کام کرتے ہوئے ان کی تصویر پوسٹ کی ہے اور ان کی خدمات کو سراہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق سلیمہ کی عمر جب 13 برس تھی تو ان کے والد افغانستان سے پاکستان آگئے تھے اور تب سے وہ پاکستان کے شمال مغرب میں مہاجر کیمپ میں ہی پلی بڑھیں جبکہ انہوں نے تمام تر مشکلات کو شکست دیتے ہوئے تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹری کا مقدس پیشہ اپنایا۔

سلیمہ نے بتایا کہ ان کے والد دن میں کیلے فروخت کرتے تھے جبکہ رات میں قالین بننے کا کام کرتے تھے تاکہ ان کی بیٹی کا ڈاکٹر بننے کا خواب پورا ہوسکے۔سلیمہ نے اپنی محنت کی بدولت حکومت پاکستان سے سکالرشپ حاصل کی اور ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہزار 204 ہوچکی ہے جن میں سے 61 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔ مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کے دوران 2 ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا ایک رکن بھی کورونا سے جاں بحق ہوچکا ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -راولپنڈی -