کیا واقعی قطرنے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کیلئے رشوت دی؟ امریکی الزامات پر عرب ملک کاردعمل آگیا

کیا واقعی قطرنے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کیلئے رشوت دی؟ امریکی الزامات پر عرب ...
کیا واقعی قطرنے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کیلئے رشوت دی؟ امریکی الزامات پر عرب ملک کاردعمل آگیا

  

دوحہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا کی جانب سے قطر پر فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے حصول کیلئے فیصلہ کرنے والی کمیٹی کے ارکان کو رشوت دینے کے الزامات نے کھیلوں کی دنیا میں نئے تنازعہ کو جنم دے دیا ہے۔

امریکی جسٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ روس اور قطر کے لیے کام کرنے والے نمائندوں نے فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے عہدیداروں کو عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی کے اہم میزبانی فیصلوں میں ووٹ تبدیل کرنے کے لیے رشوت دی۔

ڈان نیوز کے مطابق امریکی جسٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کی قطر نے سختی سے تردید کردی ہے۔

قطر کی سپریم کمیٹی برائے ڈلیوری اینڈ لیگیسی (ایس سی) نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک طویل المدتی کیس کا حصہ ہیں، جس کا موضوع 2018/2022 فیفا ورلڈ کپ کی بولی کا عمل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’برسوں تک جھوٹے دعووں کے باوجود یہ قطر نے فیفا ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی غیر اخلاقی طور پر یا فیفا کے بولی کے قواعد کے بر خلاف حاصل کی اس کا ثبوت پیش نہیں کرسکے‘۔

اگرچہ فیفا نے قطر کی بولی کے عمل کے بارے میں میڈیا کے سابقہ الزامات پر ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ٹورنامنٹ پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم امریکی الزامات نومبر اور دسمبر 2022 کو شیڈول ٹورنامنٹ کی میزبانی پر مزید سوالات کا باعث بنیں گے۔

ڈان کے مطابق الزامات میں کہا گیا ہے کہ فیفا کی 2010 کی ایگزیکٹو کمیٹی کے جنوبی امریکا کے 3 اراکین، برازیل کے ریکارڈو تیکسیرا، پیراگوئے کے مرحوم نکولس لیوز اور ایک نامعلوم شریک سازشی کارکن نے 2022 ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے قطر کو ووٹ دینے کے لیے رشوت لی تھی۔

ڈپارٹمنٹ آف جسٹس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اس وقت کے فیفا کے نائب صدر جیک وارنر کو روس کو ووٹ دینے کے لیے مختلف شیل کمپنیوں کے ذریعہ 50 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے تھے ، تاکہ وہ ورلڈ کپ کی میزبانی کریں۔

روسی حکام نے منگل کو وارنر کو رشوت دینے کا الزام مسترد کردیا۔

بولی کی قیادت کرنے والے روس کے اعلٰی فٹ بال اہلکار الیکسی سوروکن نے ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا ’ہم سمجھ نہیں سکتے کہ یہ کس بارے میں ہے اور کس طرح کا رد عمل دیا جائے‘۔

مزید :

کھیل -