’یہاں تو چھینک بھی مارو تو۔۔۔‘ ووہان سے لاک ڈاﺅن ختم ہونے کے بعد وہاں زندگی کیسے چل رہی ہے؟ وہاں مقیم غیر ملکی شہری نے حیران کن تفصیلات بتادی

’یہاں تو چھینک بھی مارو تو۔۔۔‘ ووہان سے لاک ڈاﺅن ختم ہونے کے بعد وہاں زندگی ...
’یہاں تو چھینک بھی مارو تو۔۔۔‘ ووہان سے لاک ڈاﺅن ختم ہونے کے بعد وہاں زندگی کیسے چل رہی ہے؟ وہاں مقیم غیر ملکی شہری نے حیران کن تفصیلات بتادی

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے شہر ووہان میں، جہاں سے کورونا وائرس پھیلا، 76دن بعد لاک ڈاﺅن مکمل ختم ہو چکا ہے اور گزشتہ روز پہلی بار لوگ ووہان سے باہر نکلے مگر اب بھی وہاں انسداد کورونا کے لیے کیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ میل آن لائن نے ووہان میں مقیم برطانوی شہریوں کے حوالے سے اس سوال کا ایسا جواب دیا ہے کہ سننے والوں کو چین کی کورونا کے خلاف جنگ میں فتح کا راز مل جائے گا۔ میل آن لائن کے مطابق ووہان میں مقیم برطانوی شہریوں نے بتایا ہے کہ اگرچہ لاک ڈاﺅن ختم ہو چکا ہے اور ہم اتنے طویل عرصے بعد آزادانہ گھومنے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن اب بھی سڑکوں پر سکیورٹی عملہ اس قدر مستعد ہے کہ اگر کسی کو ایک چھینک بھی آ جائے تو اسے پکڑ کر دوسروں سے الگ کر دیا جاتا ہے اور زیرنگرانی رکھ کر اس کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

ایک 32سالہ برطانوی شہری، جو کئی سال سے ووہان میں روزگار کی غرض سے مقیم ہے، نے بتایا کہ بدھ کی شب آدھی رات کو میں اپنے اپارٹمنٹ میں سو رہا تھا کہ اچانک ایک شور بلند ہوا، میںباہر نکلا تو دیکھا کہ ہر شخص اپنے گھر سے باہر نکلا ہوا تھا اور لوگوں میں خوشی کا یہ عالم تھا جیسے کتنے سالوں کی قید کے بعد آزادی ملی ہو۔ اگلے روز دکانیں کھلنا شروع ہوگئیں، ٹرانسپورٹ چلنے لگی اور ووہان شہر ایک بار پھر آباد ہونے لگا۔ میں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ سیلون پر جا کر بال کٹوائے۔ تاہم سکیورٹی فورسز اور دیگر عملہ اب بھی انتہائی مستعد ہے اور بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر لوگوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ جس کسی کو کھانسی یا چھینک آئے اسے فوراً دوسروں سے الگ کر دیا جاتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -