کسان کی اہمیت اوراس کاغم

کسان کی اہمیت اوراس کاغم
کسان کی اہمیت اوراس کاغم

  

یہ پانچ اپریل اتوارکی سہ پہرتھی جب حافظ آبادکےنواحی علاقے ڈیرہ شیخاں،چک بھٹی،چھنی تھتھلاں،پنڈی سندرانہ،کوٹ نکہ،چھنی ہنجرانواں اورمحمودپورسمیت متعدد علاقوں میں کسان پکنے کے قریب تر گندم کی فصل کودیکھ دیکھ کرخوش ہورہے تھے،یوں محسوس ہورہاتھاجیسے کھیتوں میں تربوز کی لمبی لمبی بیلیں دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑرہی ہوں،ان بیلوں پرزرد پھول دیکھنے والوں کویہ خوشخبری دے رہے تھے کہ وہ اس بار ہزاروں روپے نہیں بلکہ لاکھوں روپے کمالیں گے،دن رات محنت کرکے اپناخون پسینہ ایک کرنے والاکسان ان کھیتوں میں گھوم پھررہاتھا۔پھرپل بھرمیں سب کچھ یوں ہوگیاجیسے یہاں کچھ تھاہی نہیں،ایک طوفانی بارش کے بعدکھیتوں کامنظرہی بدل گیا۔۔۔

گندم کےخوشوں پرجب ژالہ باری ہورہی تھی تویہ کسان کےدل چیرنےکےمترادف منظرتھا،جب نرم ونازک تربوز کی بیلوں اورزردپھولوں پربےرحم برف کے اولےپڑرہےتھے توامیدیں ٹوٹتی جارہی تھیں،کچھ کسان اپنے ہی کھیتوں میں مستقل جھونپڑیاں بناکربیٹھے تھےاوروہ قدرت کےاس کھیل کےسامنےبےبس تھے،یہ سینکڑوں ایکڑفصل تھی،ایک دوبیلیں یاایک دوگندم کےپودےتوتھےنہیں جنہیں کسان اپنےدامن میں سمیٹ لیتےیاخود ان کے اوپر کھڑے ہو کر نوکیلی ژالہ باری کےزخم اپنےجسموں پربرداشت کرلیتے مگرامید کی کرنوں کوبجھنے نہ دیتےمگریہاں کف افسوس ملنے کے سوا کسان کے پاس کچھ چارہ نہ تھا کہ یہاں جانوروں کاچارہ بھی چور،چورہوگیا،اب ان علاقوں میں دودھ دیتے جانور اوربچے دینے کے قریب بھینسیں پیٹ بھر کرخوراک نہیں کھاسکیں گی۔یہ سب سنی باتیں نہیں،یہ مناظرمیں نے خود دیکھے ہیں،جب طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہاتوبہت سے لوگ آبدیدہ تھے،کافی لوگ باقاعدہ رو رہے تھے بلکہ میرے گاؤں سے کچھ تین کلو میٹردورایک کسان کی بیوی کافی دیر بے ہوش پڑی رہی کہ جب امیدیں ٹوٹتی ہیں توسانسوں کی ڈوری بھی جیسے ٹوٹتی نظرآتی ہے،خدا خدا کرکے کسان کی بیوی جان سے توبچ نکلی مگرادھارکی کھاد،زرعی ادویات اوردیگراخراجات کی گھٹڑی اپنے ناتواں کندھوں سے اٹھاکرکیسے ان کھیتوں سے نکلے گی،یہ تو وہی جانے یا اس کا رب ۔۔۔

ہمیشہ یہ غم،صرف کسان کا ہی غم رہاہےکیوں کہ اسے غم سنانے کے لیے بھی مواقع میسر نہیں،نہ میڈیاکے کیمرے دشواری گزار راہوں میں آتے ہیں کیوں کہ گندم کےکھیتوں سےانہیں کہاں اشتہارات ملنے ہیں،انہیں اقتدار کے ایوانوں اورصنف نازک دکھانے سے فرصت ہوگی تو کچھ کریں گے،یہ ان کی ترجیح نہیں،یہ ان کا کام نہیں،نہ ان کی دلچسپی ہے،دیہات کے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ پہنچ اپنے حلقے کے رکن اسمبلی تک ہوتی ہے وہ بھی ان کے جاہ وجلال کے آگے لب کھولنے کی اجازت کا منتظر رہتاہے،پھرعزت نفس بھی آخرکسی بلا کا نام ہے،کون ان کے ڈیروں پر ذلیل ورسو ہونے کی ہمت کرے گا؟؟؟۔۔۔کون ایسا رکن اسمبلی ہوگا جو الیکشن کے سوا،کبھی ووٹراورسپورٹرزکی خبر لے گا،الیکشن کا اعلان ہوتے ہی ان کی چمچماتی گاڑیاں دیہات میں دھول اڑاتی پھرتی ہیں،پھرکون ووٹر اورکون کسان؟

مجھے توعادت ہے جوشایدختم نہیں ہوگی اورخدا کرے ختم نہ ہوکبھی،کسان کے غم محسوس کرتاہوں،انہیں زینت قرطاس بناتاہوں اورکوشش ہمیشہ سے ہی رہی ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی غمزدہ کی آوازکومتعلقہ حکام تک پہنچاؤں،یہی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،شاید یہ اس لیے بھی ہے کہ میں بھی ایک کسان کابیٹاہوں۔۔آج کسان پریشان ہےاورحیران بھی ہے کہ شہریوں کی ایسی کون سی خوراک ہے جس میں کسان کا ہاتھ نہیں مگرپھربھی ان کاکسی کواحساس نہیں،اگروہ گندم ،چاول اور سبزی اگانابندکردے توشہرمیں بسنے والے لوگ کیاکھاسکیں گے؟

زراعت کی اہمیت سمجھنے کی ضرورت ہے اورزراعت اگراہم ہے توپھرکسان کسی صورت غیراہم نہیں ہوسکتا،اسے نظراندازکرنانہ صرف اس کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ ملک کیساتھ بھی زیادتی ہے،وزیراعظم پاکستان کوجہاں حالیہ کسان کے نقصان کاازالہ کرنے کی ضرورت ہے وہی مستقل بنیادوں پرایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جس سے کسان کواس کی محنت کاپورا صلہ مل سکے لیکن ایک بات ضرور ذہن میں رہے کہ کسان کی بات کرتے وقت حقیقی کسانوں کی مشاورت شامل کریں،جاگیردار،سرمایہ دار،شوگراورفلورملزکونہ کسان کی پریشانی کاعلم ہے،نہ انہیں ان کااحساس ہے،کچھ کرناہے توبراہ راست کریں اورمشاورت بھی براہ راست کریں،ورنہ ژالہ باریاں ہوتی رہیں گی اورفصلیں تباہ ہوتی رہیں گی،اگریہی سلسلہ رہاتوکسان اپنے کھانے کے لیے ہی فصلیں پیداکرے گا،شہریوں کے لیے شایدنہ کر سکے،اگریہ نوبت پیداہوتی ہے توپھریہ خوفناک حالات ہوں گے اوریہ خطرناک قحط کی صورت اختیارکرسکتے ہیں۔۔۔

بلاگر مناظر علی مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں، آج کل لاہور کے ایک ٹی وی چینل پر کام کررہے ہیں۔ عوامی مسائل اجاگر کرنے کےلیے مختلف ویب سائٹس پر بلاگ لکھتے ہیں۔ ان سے فیس بک آئی ڈی munazer.ali پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -