روسی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

روسی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان

  

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی صلاحیت کو مستحکم کرنے کے لئے تیار ہیں،جس کے لئے خصوصی فوجی آلات بھی پاکستان کو دیں گے،اس کے علاوہ دونوں ممالک کی فورسز پہاڑوں اور سمندروں میں مشقیں کریں گی،انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو  سراہا۔اُن کا کہنا تھا افغانستان میں سیکیورٹی صورتِ حال خراب ہو رہی ہے،جس پر ہمیں تشویش ہے ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی مذاکرات ہی سے افغانستان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو کورونا ویکسین کی50ہزار خوراکیں مہیا کی ہیں، مزید ایک لاکھ پچاس ہزار خوراکیں فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ہم ویکسین کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری ر کھیں گے،باہمی تجارت790 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور اس میں چالیس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، ہم پاکستان کے ساتھ شمالی و جنوبی گیس پائپ لائن منصوبے کے جلد انعقاد کے خواہاں ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا روس اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات اعتماد اور ہم آہنگی سے عبارت ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے ہم نے اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لئے افغانستان میں امن انتہائی ضروری ہے۔دونوں وزرائے خارجہ مذاکرات کے انعقاد کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

روس اور پاکستان کے تعلقات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک دوسال سے دہشت گردی کے خلاف سالانہ مشترکہ مشقیں بھی کر رہے ہیں،اب یہ سلسلہ وسیع تر ہو گا، پہاڑوں اور سمندروں میں بھی مشقیں ہوں گی اور دونوں ممالک کی فورسز ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گی۔گذشتہ برسوں میں جو مشقیں ہوئی ہیں اُن کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ روس کو انشراح صدر ہو گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور اس کی فورسز پامردی سے مقابلہ کر کے اس عفریت پر قابو پا چکی ہیں۔ بین الاقوامی فورموں پر بھی اس کی وجہ سے پاکستان کے موقف کی پذیرائی ہوئی کہ جہاں کہیں یہ موضوع زیر بحث آیا  روسی نمائندہ کھل کر پاکستان کی حمایت کرتا رہا۔بھارت میں ایک ایسے ہی موقع پر ایک تقریب میں جس میں خود نریندر مودی شریک تھے،جب دہشت گردی کا ذکر  آیا اور بھارتی وزیراعظم نے پاکستان پر ملبہ ڈالنے کی کوشش کی تو روسی نمائندے نے کہا کہ پاکستان کیسے دہشت گردی کرا سکتا ہے وہ تو خود اِس کا شکار ہے اور ہم نے براہِ راست اس کا مشاہدہ کیا ہے،کیونکہ ہماری فورسز پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ مشقیں کر رہی ہیں۔اس پر مودی اتنے کھسیانے ہوئے کہ ان سے اِس کا جواب تو نہ بن پڑا، البتہ یہ کہہ کر معاملے کو ٹال گئے کہ پرانے دوست نئے دوستوں سے بہتر ہوتے ہیں۔

دُنیا میں ملکوں کے تعلقات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، جس طرح بھارت اور چین ”ہند چینی، بھائی بھائی“ کے نعرے لگاتے لگاتے 1962ء میں باقاعدہ برسرِ پیکار ہو گئے تھے، اسی طرح دوسرے ممالک کے تعلقات بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور گذشتہ چند برسوں میں روس اور پاکستان کے تعلقات نے جو نیا رخ اختیار کیا ہے اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں مُلک ماضی کی تلخیاں بُھلا کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ روس کو افغانستان میں بھی تلخ تجربات ہوئے،لیکن اب وہ اس مُلک میں نہ صرف امن و استحکام کا خواہاں ہے،بلکہ اس کے لئے چین، پاکستان اور ترکی کے ساتھ مل کر ایسی کوششیں بھی کر رہا ہے جن کے بار آور ہونے کے امکانات روشن ہیں۔اِس سلسلے میں کئی کانفرنسیں ہو چکی ہیں جن میں افغان امن ہی زیر بحث رہا، روس اب مسئلہ کشمیر بھی پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اُن کی جو ملاقات ہوئی اس میں بھی اس امر پر اتفاق رائے کیا گیا کہ یہ مسئلہ پُرامن طور پر حل ہونا چاہئے،دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی منصوبوں میں بھی تعاون جاری ہے۔ وزیر خارجہ لاروف نے بتایا کہ روس پاکستان کو کورونا ویکسین کی ایک لاکھ پچاس ہزار مزید خوراکیں دے رہا ہے اور پاکستان کے اندر اس ویکسین کی تیاری میں تعاون پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔اگر یہ منصوبہ آگے بڑھے تو ویکسی نیشن کے عمل میں بھی تیزی آ سکتی ہے،کیونکہ اِس وقت پاکستان کا سارا انحصار چین اور روس سے ملنے والی ویکسین پر ہے، تیسری کوئی ویکسین تاحال کہیں سے میسر نہیں آئی، غالباً اسی لئے بلوم برگ جیسے ابلاغی ادارے رپورٹ کر رہے ہیں کہ75فیصد آبادی کو ویکسین لگانے کے لئے پاکستان کو ایک عشرہ درکار ہو گا۔ تاہم چین اور  روس کے تعاون سے یہ مدت کم ہو سکتی ہے۔

روس نے پاکستان کو دہشت گردی کے مقابلے کے لئے جو جدید خصوصی ہتھیار دینے کا اعلان کیا ہے یہ اہم پیش رفت ہے، کیونکہ طویل عرصے تک پاکستان نے اپنی ہتھیاروں کی ضروریات امریکہ اور مغربی ممالک سے پوری کیں،اس کے بعد چین کے تعاون سے خود اسلحہ سازی کے میدان میں قدم رکھا اور بڑی تیزی سے خود کفالت کی جانب گامزن ہے۔روس کے ساتھ اس شعبے میں تعاون نہ ہونے کے برابر تھا تاہم اب چند برسوں سے ہیلی کاپٹروں سمیت جدید ہتھیاروں کی خریداری کے معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ خطے میں اسلحے کے انبار لگانے والا مُلک بھارت ہے جو اپنے پرانے مگ طیاروں کی جگہ فرانس سے جدید ترین رافیل طیارے خرید رہا ہے۔پاکستان اس کے مقابلے کے لئے اپنی صلاحیتوں اور چین کے تعاون پر انحصار کر رہا ہے اگر روس بھی جدید ہتھیاروں کی پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے آگے بڑھتا ہے، تو خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ یہ پہلو روسی قیادت کے پیش ِ نظر بھی ہے اور اسی کے باعث دفاعی شعبے میں بھی دونوں ممالک کا تعاون بڑھ رہا ہے، روسی وزیر خارجہ کا یہ دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ وزیراعظم نے صدر پیوٹن کو دورہئ پاکستان کی دعوت دی ہے، اگر روسی صدر اس دورے کے لئے وقت نکالتے ہیں تو اِس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے،جس کی ابتدا پہلے ہی ہو چکی۔دونوں ممالک کے تعلقات علاقائی امن میں مثبت کردار کے حامل ہوں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -