ہماری سیاست کا المیہ!

ہماری سیاست کا المیہ!
ہماری سیاست کا المیہ!

  

”جَگ نال پیار کرن دا بلھیا ایہو نتیجہ ہندا اے“ پنجابی کا یہ گیت جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا سے پیار کرنے کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا، ہمارے ملک و معاشرے ہی پر مہرثبت نہیں کرتا بلکہ ملکی سیاست کا بھی ایسا ہی حال ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما اور سیاسی جماعتیں ملک اور عوام کا نام لیتے ہوئے تھکتی نہیں ہیں، لیکن عملی طور پر یہی احساس ہوتا ہے کہ دنیا کا پیار ہر شے اور ہر عمل پر محیط ہے، معذرت کہ ہم اسی حوالے سے پی ڈی ایم کے بارے میں بڑی خوش فہمی کا شکار رہے اور یہی جانا کہ مفادات ان جماعتوں کو اکٹھا رکھیں گے اور امکانی طور پر یہ اتحاد والے عوامی مسائل کی بات کرنے پر مجبور ہوں گے کہ ہمارے دیس میں بے روزگاری، مہنگائی، بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں اور مستقبل قریب و بعید میں کچھ نظر نہیں آ رہا، حتیٰ کہ کورونائی حکومت خصوصاً وزیراعظم نے جس ویژن کے تحت تعمیراتی صنعت کو بے لگام کیا، وہ بھی کچھ نہ کر سکی، یہ توقع پوری نہ ہوئی کہ اس سے بے روزگاری ختم ہو گی، الٹا یہ الزام آ گیا کہ لوگوں کو کالا دھن سفید کرنے کا موقع دیا گیا کیونکہ پالیسی بیان اور عمل یہ رہا کہ تعمیراتی شعبہ میں سرمایہ کاری کے وسائل نہیں پوچھے جائیں گے۔

یوں اس شعبہ میں کام تو شروع ہوا، لیکن اب ہوش آیا ہے تو آئی ایم ایف کی طرف سے پوچھی  جانے والی تفصیل سے آیا اور ایف بی آر نے سفارش کی کہ تعمیراتی شعبہ میں نقد خرید و فروخت بند کی جائے اور ہر ادائیگی لازمی طور پر بنک کے ذریعے ہو، تاکہ نہ صرف سرمایہ کاری کا اندازہ ہو بلکہ ٹیکس چوری کے خدشات بھی کم ہو سکیں، ایف بی آر کی تازہ تجویز سے اس شعبہ میں ابھی کوئی زیادہ گڑ بڑ تو نہیں ہوئی، تاہم پریشانی شروع ہو گئی ہے کیونکہ اگر دستاویزاتی تبادلہ زر ہوا تو ریکارڈہو گیا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کا حجم ظاہر ہو گا اور ٹیکس کے لئے کھاتوں میں ہیر پھیر مشکل ہو جائے گا، چنانچہ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایف بی آر کی تجویز پر مکمل عمل ہوا تو اس سے آئی ایم ایف تو شاید مطمئن ہو جائے لیکن حساب کتاب کے ”چور“ ہمارے سرمایہ کار اس وجہ سے بھاگنا شروع ہو جائیں گے، وہ تو چاہتے ہیں کہ جو چھوٹ اس سال دسمبر تک بڑھائی گئی اسے مستقل کر دیا جائے کہ وہ بے خوف ہو کر کالا دھن اس شعبہ میں استعمال کر سکیں۔ یہ پریشانی تو پائی جاتی ہے۔

ہم نے بات شروع کی ”مفادات“ سے تھی اور راستہ میں یہ مشکل بھی نظر آ گئی، بہرحال ہمارا یہ خیال یا یقین پورا نہ ہوا کہ پی ڈی ایم مفادات ہی کے تحت متحد رہے گا اور اپنی سیاست کے لئے ہی سہی عوامی مسائل کی بات ضرور ہو گی، لیکن یہ توقع بھی پوری نہ ہوئی اور معمولی سے ”مفاد“ نے تار و پور بکھیر دیئے،اے این پی کی علیحدگی اور پیپلزپارٹی کو دھکوں نے اسے محدود کر دیا ہے جو مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف) پر ہی مشتمل ہوگا اگرچہ ذکر پانچ جماعتوں کا کیا گیا جن کی نمائندگی منتخب ایوان میں ہے، تاہم اس میں بلوچ نیشنل پارٹی (مینگل) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی، اپنے اپنے خطے تک محدود اور قوم پرست جماعتیں ہیں، جن کا منشور اور مفادات بھی اپنے اپنے ہیں۔ اس لئے صورت حال بالکل واضح ہے کہ اب جو کچھ بھی کرنا ہے، وہ شکاری یا مسافر نے نہیں، جنگل کے شیر ہی نے کرنا ہے، اب تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان غلیل بازی ہو رہی ہے، بات بڑھے گی تو توپوں تک نوبت آ جائے گی اور 90ء کی دہائی والی جس سیاست اور محاذ آرائی کو ترک کر دینے کا اعلان کیا اور یقین دلایا گیا تھا وہ بھی دھری رہ جائے گی اور بیان بازی تو شروع ہوگی۔

دلچسپ امر شو کاز والا ہے جس کی بناء پر اے این پی نے اتحاد چھوڑا ہے، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت نے واضح طور پر جواب طلبی (شوکاز) ہی کہا اور دہرایا، اے این پی کے فیصلہ کے بعد شاہد خاقان عباسی وضاحت کرتے ہیں کہ شوکاز نہیں، ہم نے تو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے حوالے سے پیدا صورت حال کے بارے میں وضاحت کا کہا تھا، اس سے بات بنی نہیں۔ اے این پی خود الگ ہو گئی، جمعیت علماء پاکستان والے اویس نورانی کو درخوراعتنا نہیں جانا گیا کہ ان کی نمائندگی نہیں ہے، اسی طرح آفتاب شیر پاؤ کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔

ہم نے انہی سطور میں البتہ یہ گزارش کی تھی کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے جو پہلوان میدان میں اتارا وہ مفاہمت کا خود قائل ہے اور اس سے اچھی توقعات وابستہ ہیں، مخدوم یوسف رضا گیلانی ابھی سے ان پر پورا اتر رہے ہیں اور انہوں نے ابتدا ہی میں بڑی مفاہمت کا ذکر کیا ہے۔ حکومتی بنچوں سے بھی ان کی تائید ہو گئی اور کچھ نہ ہوا، اتنا تو ہو گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے اعظم تارڑ نے چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کی اور سینیٹ کے ایوان کی قائمہ کمیٹیوں کے بارے میں بات چیت کی، اگرچہ ان کی یہ ملاقات یوسف رضا گیلانی سے بالاتر ہے لیکن یہ تو ظاہر ہو گیا کہ مسلم لیگ (ن)  کے ارکان کمیٹیوں کی تشکیل کو  ناراضی ظاہر کر کے نظر انداز نہیں کرنا چاہتے، چیئرمین سینیٹ نے یقین دلایا ہو گا کہ ایسا نہیں ہوگا، ویسے بھی یوسف رضا گیلانی ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، ان حالات میں اب مفاہمت کی سیاست ہی کا پلہ بھاری لگتا ہے اور آصف علی زرداری اس حوالے سے کامیاب سیاست دان ہیں، تاہم وہ جو کسی نے کہا تھا کہ گُونگا پہلوان کو کسی نے داؤ پیچ اور طاقت سے نہیں گرایا (چت کیا) تھا وہ خود اپنے ہی زور سے کندھے لگوا بیٹھے تھے کہ ان کے باپ نے انگوٹھا زمین کی طرف کر دیا تھا۔

قارئین! یہی دیکھ لیں کہ جہانگیر ترین امتحان میں مبتلا ہوئے ہیں تو انہوں نے اپنے ”دوست“ وزیراعظم عمران خان کو بھی مشکل سے دوچار کر دیا ہے کہ ابھی انہوں نے تھوڑی حمایت شو کی اور شکوہ کیا ہے، تاثر یہ بنا کہ وہ کہیں اور نہیں جا رہے، وزیراعظم کو اپنی دوستی اور حیثیت یاد دلا رہے ہیں، لیکن اب عمران خان کیا کر سکتے ہیں کہ کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آتا۔

مزید :

رائے -کالم -