کیا اسی کا نام گڈ گورننس ہے؟

کیا اسی کا نام گڈ گورننس ہے؟
کیا اسی کا نام گڈ گورننس ہے؟

  

کچھ لوگ اسے سرکس کہہ رہے ہیں اور کچھ تماشا قرار دے رہے ہیں۔ ایک کالم نگار نے تو اسے سرکس سے بھی بد تر کہا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ حکومتی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے، اسے کیا کہا جائے، کس نام سے پکارا جائے، کیا عنوان دیا جائے؟ محسوس یہ ہوتا ہے کہ خود حکومت کی بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کر رہی ہے اور اس سے ہو کیا رہا ہے؟ کہا کچھ  جاتا ہے، نتیجہ کچھ نکلتا ہے۔ مہنگائی ہمارے ملک کا سب سے اہم مسئلہ بن چکی ہے، کیونکہ حکومت اس میں اضافہ روکنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے، جبکہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام دو وقت کی روٹی سے محروم ہو چکے ہیں۔ پھر ایک جانب کورونا وائرس نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے تو دوسری طرف رمضان المبارک کی آمد پر ذخیرہ اندوز مافیا نے اشیائے خورونوش اور روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کو  ناجائز طور پر ذخیرہ کر کے مصنوعی بحران پیدا کر دیا ہے، کوئی بھی چیز سرکاری قیمت پر نہیں مل رہی۔وزیراعظم گزشتہ ڈھائی برسوں میں مہنگائی کا متعدد بار نوٹس لے چکے ہیں، اس کے باوجود وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی، الٹا پہلے سے بڑھ گئی ہے، بلکہ کچھ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ جب بھی سرکاری سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کا نوٹس لیا جاتا ہے، وہ پہلے سے بڑھ جاتی ہے۔ اب تو صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ لوگوں سے ٹیلی فون پر براہ راست بات چیت کے دوران ایک خاتون نے وزیراعظم عمران خان سے یہ تک کہہ دیا کہ خدا را مہنگائی کم کریں یا پھر ہمیں، یعنی عوام کو گھبرانے کی اجازت دے دیں۔

وزیراعظم عمران خان قوم سے اپنے ہر خطاب میں عوام کو حالات کے جلد ٹھیک ہونے کا عندیہ دیتے ہیں اور ساتھ یہ دلاسا بھی کہ ”آپ نے گھبرانا نہیں ہے“…… اب آپ دیکھئے ہو کیا رہا ہے۔ انتظامیہ دکانوں اور پرچون فروشوں کے پاس جا کر انہیں کہہ رہی ہے کہ آپ چینی 85 روپے کلو کے حساب سے فروخت کریں۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ سو روپے کلو کے لگ بھگ خرید کر وہ 85 روپے کلو کیسے فروخت کر سکتے ہیں؟ سب عام پرچون فروش کی طرف بھاگتے ہیں، کوئی ان دروازوں کا رخ نہیں کرتا جہاں سے چینی سو روپے کلو میں خریدی جا رہی ہے اور جسے آگے ایک سو پانچ روپے میں بیچا جا رہا ہے۔پھر جو لاکھوں من چینی درآمد کی گئی، وہ کہاں گئی؟ یہ بالکل ویسی ہی پریکٹس ہے، جیسی کیمیکلز سے تیار شدہ دودھ کی فروخت کے حوالے سے کی جاتی ہے، یعنی شہر کی داخلی شاہراہوں پر شہر میں داخل ہونے والے جعلی دودھ کے کنٹینرز کو پکڑا جاتا ہے اور دودھ ضائع کر دیا جاتا ہے۔ بھئی ان جگہوں تک پہنچو، وہاں بھی چھاپے مارو جہاں یہ دودھ تیار ہوتا ہے اور اس مشینری اور اس سیٹ اپ کو تباہ کرو جس کے ذریعے ایسا دودھ تیار اور پھر ترسیل کیا جاتا ہے۔ 

خیر مہنگائی پر تو پہلے بھی بات ہوتی رہی، آئندہ بھی ہوتی رہے گی، آج بات ان سرگرمیوں کی کرنا چاہتا ہوں جو اوپر کی سطح پر جاری ہیں اور یہ غمازی کر رہی ہیں کہ حکومت کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا کہ کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا اور کیا ہو رہا ہے؟ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو وزارت خزانہ سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ بیرسٹر حماد اظہر کو لگا دیا گیا۔یہ وہی حفیظ شیخ ہیں، جنہیں ابھی پچھلے ماہ وزیر اعظم نے اپنا کام جاری رکھنے کا اشارہ دیا تھا، جو ایک طرح سے ان پر اعتماد کا اظہار تھا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر وزیر خزانہ کی حیثیت سے حفیظ شیخ مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے مناسب پالیسیاں نہیں بنا سکے اور اسی وجہ سے اپنے عہدے سے ہٹائے گئے تو پھر نئے وزیر خزانہ نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں انہیں اور ان کے پیش رو اسد عمر کو کس بات پر خراج تحسین پیش کیا؟ یاد آیا اسد عمر بھی تو بہتر کارکردگی نہ دکھانے پر ہی فارغ ہوئے تھے۔ خیر بات یہیں تک نہیں رکتی، بلکہ ابھی نئے وزیر خزانہ کو یہ پورٹ فولیو سنبھالے ہوئے دو دن ہی ہوئے تھے کہ ایک سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کو آگے لانے اور وزیر خزانہ بنانے کی باتیں ہونے لگیں۔ ضمنی بات یہ ہے کہ شوکت ترین نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ غیر معقول معاہدوں کے تحت زیادہ شرح سود، کرنسی کی قدر میں کمی اور بجلی، گیس اور پٹرولیم کے نرخوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے معاشی مسائل کی شدت میں اضافہ ہوا۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔31 مارچ کو وفاقی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس نئے وزیر خزانہ حماد اظہر کی زیرِ صدارت ہوا،جس میں پاکستان کی وزارتِ تجارت اور وزارتِ ٹیکسٹائل نے چینی اور کپاس بھارت سے درآمد کرنے کی سفارش کی۔ وجہ یہ ہے کہ اس وقت ملک میں کپاس اور چینی کی شدید قلت ہے۔ چینی کا ذکر درج بالا سطور میں ہو چکاہے، کپاس کی صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں امسال اس فصل کی پیداوار 57 لاکھ گانٹھوں تک محدود رہی،جو گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان میں کپاس کی کم ترین پیداوار ہے۔ یہ فیصلہ درست تھا یا غلط، اس سے قطع نظر اگلا فیصلہ یہ سامنے آیا کہ وفاقی کابینہ نے بھارت سے کپاس اور چینی درآمد کرنے کی اس سفارش پر فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ ہمسایہ ملک کے ساتھ تجارتی تعلقات فی الحال بحال نہیں کئے جا رہے۔ بعد میں یہ بھی پوچھا گیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کس سے پوچھ کر یہ فیصلہ کیا؟کہنے کا مطلب یہ ہے کہ منظم اور مربوط ہونا گڈ گورننس کا سب سے اہم اور پہلا اصول ہے اور ڈھائی سال گزر جانے کے باوجود وہی نظر نہیں آ رہا ہے، فیصلوں کے بارے کیا کہا جائے، ایک حکومتی عہدے دار کچھ کہتا ہے اور دوسرا کچھ اور۔ اگر کوئی بھی معاملہ اور کوئی بھی ایشو قابو میں نہیں آ رہا تو اس کی کوئی وجہ تو ہو گی۔ وجہ وہی ہے جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے۔ حکومت اور حکمران اگر باقی ماندہ مدت میں کچھ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ان معاملات پر بہرحال توجہ دینا پڑے گی۔

مزید :

رائے -کالم -