کسان دوست اقدامات کئے جائیں!

کسان دوست اقدامات کئے جائیں!
کسان دوست اقدامات کئے جائیں!

  

انسان بہت ظالم ہے۔ معمولی فائدے کے لئے اپنے قریبی دوست احباب کو ہی نہیں بلکہ عزیز و اقارب کو بھی نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتا۔ ملک میں ایک طرف کورونا وبا میں شدت آ رہی ہے، فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف سیاسی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ، رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ سایہئ فگن ہونے کو ہے، لیکن مہنگائی کا جن حکومتی قابو  سے باہر ہو چکا ہے اور پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی تباہ کاریاں دکھا رہا ہے۔اس حوالے سے حکومتی اقدامات پر بھی سر پیٹنے کو دِل کرتا ہے خاص طور پر چینی سکینڈل پر پیشگی اقدامات کئے بغیر جس طرح  ہاتھ ڈالا گیا ، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گلی محلوں میں چینی  جو پہلے 110، 115 روپے کلو دستیاب تھی، وہ بھی اب نایاب ہو گئی،  سونے پہ سہاگہ یہ کہ حکومت نے نرخ بھی 85 روپے کلو مقرر کر دیئے، جن پر چینی کہیں  دستیاب ہی نہیں ہے۔ یہ بات بھی زبان زدعام ہے کہ مافیا کا نام لے کر درپردہ  جہانگیر ترین سے بعض  اختلاف  کے باعث  یک دم کارروائی شروع کی گئی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے مافیا مافیا مافیا، چور چور چور، کرپشن  کرپشن کرپشن کی تکرار سن سن کر قوم کے کان پک چکے ہیں۔ اپوزیشن پر الزامات ہی الزامات ہیں، لیکن  ثابت کچھ نہیں ہو رہا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف جو باقاعدہ جیل میں تھے،انہیں باعزت طریقے سے پورے پروٹوکول کے ساتھ  لندن بھیج دیا گیا۔ اب الزام یہ ہے کہ جھوٹ بول کر چلے گئے۔ ارے یہ کیسی حکومت ہے جو جھوٹ کا پتہ  نہ چلا سکی،براہ مہربانی الزامات کی سیاست کو دفن کر کے حکومت عوامی فلاح و بہبود  پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔ڈھائی تین سال سے یہی شور سنتے چلے آ رہے ہیں۔سمجھ سے باہر ہے کہ وہ کون سا مافیا ہے، جس کو نکیل ہی نہیں ڈالی جا سکی۔ رمضان المبارک واحد ایسا مہینہ ہے،جس میں چینی کے بغیر گزارہ نہیں ہے اور لوگ بلیک میں چینی خریدنے پر مجبور ہیں، اوپرسے ستم بالائے ستم یہ کہ  اجازت مانگنے پر بھی قوم کو گھبرانے کی اجازت  نہیں دی جا رہی۔وزیراعظم صاحب اگر عوامی فلاح و بہبود کے لئے کچھ نہیں کرنا تو کم از کم اس معصوم قوم کو گھبرانے کی اجازت ہی دے دیں۔

ایک مسئلہ حل نہیں ہوتا کہ دوسرا سر اٹھا لیتا ہے، اب گندم خریداری کے حوالے سے کسان پریشان ہے،ایک سے دوسرے اضلاع میں گندم لے جانے پرپابندی لگا دی گئی ہے۔ایسے اقدامات کر کے حکومت  پہلے خود مافیا کو میدان میں آنے کی دعوت دیتی ہے، جب وہ  اپنا کام دکھا جاتا ہے تو پھر اس کے خلاف اقدامات کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، جس سے اشیائے صرف مزید مہنگی سے مہنگی ہو جاتی ہیں اور پھر الزامات مافیا پر،چوروں پر،کرپشن کرنے والوں پر اور سابقہ حکومتوں پر لگا کر خود معصوم بننے کا ناٹک کیا جاتا ہے،پھر ان مافیاز کے خلاف اقدامات کا اعلان کر کے شور مچایا جاتا ہے کہ پہلے کسی نے ان پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ ارے پہلے کبھی ایسے کام ہوئے ہی نہیں تو ان پر ہاتھ کون ڈالتا؟ لیکن حکمران سمجھ رہے ہیں کہ قوم بیوقوف ہے اسے کچھ معلوم نہیں، جو کہیں  گے وہ تسلیم کر لے گی، قوم بیوقوف ہوتی تو سوشل میڈیا حکومتی  ”کارگزاریوں“ سے بھرا ہوا نہ ہوتا۔ 

سندھ حکومت نے گندم خریداری کے نرخ دو ہزار روپے اور باقی ملک میں 1800 روپے من مقرر کئے گئے ہیں۔یہ مذاق نہیں تو کیا ہے۔ اس سے مافیا فائدہ نہیں اٹھائے گا تو کون اٹھائے گا۔یہ کسانوں کے ساتھ ظلم ہے۔ وہ کسان جو  شدید گرمیوں کی تپتی دوپہر میں دھرتی کا سینہ چیر کر اسے فصل اگانے کے لئے تیار کرتا ہے اور سردیوں کی یخ بستہ ر اتوں میں ان فصلوں کو پانی لگاتا ہے اگر اس محنت کش کو اپنی  محنت کا معقول معاوضہ بھی نہ ملے تو پھر کسے ملے گا؟ یہ کسانوں پر ظلم ہے اس سے پہلے کہ بھارتی کسانوں کی طرح ہمارے کسان بھی اپنے حقوق کے لئے  احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں، ہر محب وطن پاکستانی کو  اس ظلم پر آواز بلند کرنی چاہئے۔کسانوں پر ہونے والے اس ظلم اور ناانصافی پر پاکستان مسلم لیگ(ق) کے قائدین چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی بھی خاموش نہیں رہ سکے،  وہ بھی ببانگ ِ دہل یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ حکومت کسانوں پر ظلم نہ کرے، انہیں ان کی محنت کا معقول معاوضہ دیا جائے۔ مہنگائی کی مناسبت سے گندم کے نرخ مقرر کئے جائیں یا پھر کسانوں کو آزاد کر دیا جائے جہاں سے انہیں مناسب نرخ ملیں، وہاں وہ اپنی گندم  فروخت کر دیں۔

پاکستان کی تقریباً 70 فیصد آبادی دیہات پر مشتمل ہے، جن کی آمدنی کا دارومدار کھیتی باڑی پر منحصر ہے۔ آج کے اس جدید دور میں بھی ہمارا کسان روایتی طریقوں سے ہی کھیتی باڑی پر مجبور ہے، آسٹریلیا کا کسان فی ایکڑ رقبے سے 25 سے 30 بوری گندم ، بھارتی کسان 15 سے 20 بوری گندم وصول کرتا،جبکہ ہمارے ہاں 7، 8 بوری فی ایکڑ پیداوار ہوتی ہے۔اس کا ذمہ دار کسان نہیں حکومت ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو اپنی توجہ سابقہ حکومتوں کی کارکردگی سے ہٹا کر اب اپنی کارکردگی کی طرف مرکوز کرنی چاہئے۔ بالخصوص کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔اگر کسانوں کو ان کی محنت کا معقول معاوضہ نہ ملا تو وہ کھیتی باڑی چھوڑ کر آمدنی کے متبادل ذرائع اختیار کر لیں گے۔ ویسے بھی  ایک بڑے زرعی رقبے پر پہلے ہی ہاؤسنگ سکیمیں بن چکی ہیں۔ اگر حکمرانوں نے کسانوں کو ان کی محنت کا معقول معاوضہ نہ دیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔حکومت کو گندم کی قیمت کے تعین پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -