کپتان کا اطمینان، عوام کا امتحان

کپتان کا اطمینان، عوام کا امتحان
کپتان کا اطمینان، عوام کا امتحان

  

سیاسی کھچڑی پکنے کے باوجود کپتان کا اطمینان اپنی جگہ قائم ہے۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں بے فکری سے اپنی باتیں جاری رکھے ہوئے ہیں کوئی ایسی پھلجھڑی چھوڑ دیتے ہیں، جس کے پیچھے لگ کر میڈیا اور اینکرز کے چار دن اچھے گزر جاتے ہیں۔ باہر کیا ہو رہا ہے اس پر وہ توجہ دیتے ہیں نہ تبصرہ کرتے ہیں۔یہ کام انہوں نے اپنے ترجمانوں اور مشیروں کے لئے چھوڑا ہوا ہے۔ وہ تو بس یہ بتاتے ہیں کہ ملک میں ریپ کیسز بڑھنے کی وجہ کیا ہے، اس کا فحاشی و عریانی سے کیا تعلق ہے۔ پھر وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کا معیار ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وجہ سے گرا، ہم اس میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ انہیں اس بات سے بھی کوئی دلچسپی نہیں کہ جہانگیر ترین کیا کہہ رہے ہیں، کیسے دوستی کے حوالے دے رہے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت میں انصاف کے طلب گار ہیں وہ تو بس یہ کہتے ہیں کہ ہم نے پہلی بار چینی مافیا پر ہاتھ ڈالا ہے۔ ان کی چوری اور لوٹ مار پکڑی ہے، اب انہیں چھوڑیں گے نہیں۔ کپتان کو اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں کہ پی ڈی ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، وہ تو اس کھیل کو پسند کرتے ہیں، جس میں ساری اپوزیشن ایک جگہ اکٹھی ہو جائے اور وہ اس کا مقابلہ کریں مجھے اس وقت بڑی ہنسی آتی ہے، جب اپوزیشن کا کوئی رہنما کہتاہے کہ عمران خان کو لانے والے سلیکٹرز پریشان ہیں، سلیکٹرز تو اس وقت پریشان ہوں جب کپتان پریشان دکھائی دیں، وہ تو بڑے ہشاش بشاش اور بے فکر دکھائی دے رہے ہیں حتیٰ کہ مہنگائی پر بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرتے بلکہ عوام کو تھوڑا اور صبر کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔

کوئی بتا سکتا ہے کہ پی ڈی ایم میں ٹوٹ پھوٹ کیوں ہوئی ہے؟ بظاہر اس کا سبب یہ نظر آتا ہے کہ استعفوں کے معاملے پر اختلافات کی وجہ سے ایسا ہوا، نہیں صاحب وجہ یہ نہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ زمینی حقائق اپوزیشن کے حق میں نہیں عوام کی طرف سے جب پذیرائی نہیں ملتی تو اس کے اثرات مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں یہ در حقیقت جھنجھلاہٹ اور جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ پی ڈی ایم کی مختلف جماعتیں ایک دوسرے سے اُلجھ پڑیں۔ زمین پر کامیابی کے آثار ہوں تو کوئی بھی جماعت بڑا فیصلہ کر سکتی ہے۔ لیکن اگر حالات ساز گار نہ ہوں تو جذبات میں اٹھایا گیا قدم گلے پڑ سکتا ہے۔ استعفوں کا آپشن ایسا نہیں تھا جس کے بارے میں یہ یقین سے کہا جا سکتا ہو کہ اسے استعمال کر کے حکومت کو گھر بھیجنا یقینی ہو جائے گا۔ یہ ایک بہت بڑا رسک تھا، کیونکہ استعفوں کی دھمکی کے بعد حکومت پریشان نہیں تھی بلکہ استعفوں کا انتظار کر رہی تھی، پھر عوام کے اندر بھی پی ڈی ایم کے لئے ایسی حمایت نظر نہیں آ رہی تھی جو فیصلہ کن ہوتی ہے۔

بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ کپتان کو اب یقین ہو چکا ہے کہ ان کی حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔ ان کا اطمینان یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس حوالے سے اب انہیں کوئی پریشانی نہیں۔ انہیں ایک جھٹکا اس وقت ضرور لگا تھا جب عبدالحفیظ شیخ سینٹ کی نشست پر ہار گئے تھے۔ اس سے پہلے یوسف رضا گیلانی کو ملنے والے زائد ووٹ بھی ان کے لئے تشویش کا باعث بنے ہوں گے۔ لیکن پھر اعتماد کا ووٹ لے کر پہلے سے زیادہ پر اعتماد ہو گئے۔ اب انہیں معلوم ہے کہ پی ڈی ایم ایک ایسے مخمصے میں پھنس گئی ہے جس سے شاید ہی باہر نکل سکے جو تحریک سڑکوں پر نہ چل سکے اور جس کے لئے یہ شرط رکھ دی جائے کہ پہلے اسمبلیوں سے استعفے دو اس کی کامیابی کے امکانات کتنے رہ جاتے ہیں؟ اب پی ڈی ایم جلد یا بدیر تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس شرط کو بنیاد بنا کر اس کا شیرازہ بکھرا ہے وہ تو اپنی جگہ موجود رہے گی یعنی اسمبلیوں سے استعفا، اب پیپلزپارٹی اور اے این پی تو اس سے صاف انکار کر چکی ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کا آج کل بیانیہ یہ ہے کہ اکیلے استعفے دینے کا کوئی فائدہ نہیں اب اگر پی ڈی ایم کی باقی جماعتیں استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کرتی ہیں تو اس کی کامیابی کے کتنے فیصد امکانات رہ جائیں گے؟

اب سوال یہ ہے اس صورتِ حال پر کپتان کو جھولنے والی کرسی پر بیٹھ کے کیا اقتدار کے مزے لینے چاہئیں؟ اس بات کو بھول جانا چاہئے کہ حکمران کا سب سے بڑا دشمن اس کا اقتدار ہی ہوتا ہے۔ پی ڈی ایم کی جماعتوں کو بھی اپنی ناکامی کے اسباب جاننے کے لئے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ وہ لٹھ لے کر کپتان کا استعفا مانگتی رہیں مگر عوام کے ساتھ نہ کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے کپتان کو سلیکٹڈ، جعلی اور مسلط کردہ وزیر اعظم تو کہا لیکن عوام کے مسائل کے حوالے سے کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ مہنگائی اس حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے، اس کے خلاف پی ڈی ایم نے کوئی احتجاج کیا نہ ریلی نکالی۔ عوام کے مسائل سے بالا بالا جو تحریک چلے گی، اس میں کتنی جان ہو گی؟ پی ڈی ایم پہلے دن سے ایک غیر فطری اتحاد تھا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) صرف عمران خان کی دشمنی میں اکٹھی ہوئی تھیں وگرنہ اندر سے تو وہ ایک دوسرے کی روایتی حریف ہیں اب ان کی حالت یہ تھی کہ ایک دوسرے پر نظر بھی رکھے ہوئے تھیں اور بظاہر ایک جگہ بیٹھی بھی تھیں۔

پیپلزپارٹی سندھ میں برسر اقتدار ہے وہ استعفوں کا فیصلہ کیسے کرتی؟ یہ ایسا اختلاف تھا جسے ہوا دینی ہی نہیں چاہئے تھی۔ مگر ہوا دی گئی اور اس نے پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکال دی اب مقابلہ عمران خان کا عمران خان سے ہے۔ اس عمران خان سے جس نے عوام کو نئے پاکستان کے خواب دکھائے۔ اس حوالے سے بھی اگر کپتان اطمینان کی چادر اوڑھ لیتے ہیں تو یہ بات ان کے لئے انتہائی ضرر رساں ثابت ہو گی۔ انہیں اب عوام کو ریلیف دینے کے لئے اپنے اندر وہ بے چینی پیدا کرنی چاہئے جو ایک کامیاب حکمران کے دل میں ہمیشہ اپنی رعایا کے لئے موجود رہتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -