آئیں رمضان المبارک میں اپنے آپ کو بدلیں 

آئیں رمضان المبارک میں اپنے آپ کو بدلیں 
آئیں رمضان المبارک میں اپنے آپ کو بدلیں 

  

اُمت مسلمہ خوش قسمت ہے کہ رمضان المبارک کی صورت میں رحمتوں و برکتوں کا مہینہ ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ سایہ فگن ہو رہا ہے۔ کورونا کی عالمی وبا کے اتار چڑھاؤ میں  یہ دوسرا رمضان ہے،جو آ رہا ہے۔نیکیوں کے موسم بہار کو آزمائش ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔ بدقسمتی کہہ لیں کہ گزشتہ رمضان میں ہم پوری طرح پُرجوش نہیں تھے اور کورونا کو اپنے اوپر سوار کر لیا تھا، حالانکہ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ دُنیا کمانے والوں نے کورونا میں کمائی کے راستے ڈھونڈ لئے ہیں، رمضان المبارک  کو کھانے پینے اور آرام کا مہینہ قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ رمضان کو پکوڑوں، سموسوں، بہترین افطاری اور سحری کی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔ رمضان المبارک  وہ بابرکت ماہ ہے، جس کا انتظار نبی ئ مہربانؐ سارا سال کیا کرتے تھے اور ماہِ رجب کے آغاز کے ساتھ ہی استقبال کی تیاریاں شروع کر دیتے تھے۔ شعبان آتا تو کمر کس لیتے،باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے، رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کے لئے دِل نرم ہو جاتے، ایثار بڑھ جاتا، صدقات و خیرات کا دور دورہ ہوتا، لین دین میں سختی ختم کر دی جاتی، منافع ختم کر دیا جاتا، اللہ سے براہِ راست تجارت کا آغاز ہو جاتا۔مَیں پڑھ رہا تھا رمضان المبارک کے آغاز سے ایک ماہ پہلے ہی آسٹریلیا اور سپین میں رمضان المبارک کی آمد اور خوشی میں 20فیصد رعایت دینے کے پیکیج متعارف کرائے گئے ہیں، اسی طرح دوسرے عیسائی اور یہودی ممالک، جو سو فیصد دین اسلام کے مخالف اور اُمت مسلمہ کے دشمن سمجھے جاتے ہیں،ان ممالک میں بھی مسلمانوں کے بابرکت ترین تہوار رمضان المبارک  کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے اور خصوصی سیلز اور خصوصی ڈسکاؤنٹ کا پیکیج متعارف کرایا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی ہے ہمارے اسلامی ممالک میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔

ہمارے ملک میں اللہ سے جنت کی تجارت کا سودا کرنے کی بجائے دُنیاوی منافع کو بنیاد بنا کر منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی باقاعدہ قلت پیدا کی جاتی ہے،پھر من مرضی کی قیمتیں لگا کر روزہ رکھنے کو بلیک میل کیا جاتا ہے اور یہ سب دوسرے ممالک سے زیادہ ہمارے اپنے کلمہ کے نام پر حاصل کئے گئے پاکستان میں ہو رہا ہے، حالانکہ  یہ قرآن عظیم الشان اور نبی ئ مہربانؐ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔رمضان المبارک کو قرآن کا مہینہ کہا جاتا ہے، دوزخ سے نجات کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ یہی حقیقت ہے کہ رمضان المبارک قرآن کا مہینہ ہے، اسی مبارک ماہ میں بدر کا معرکہ ہوا، اسی عظیم ماہ میں مکہ فتح ہو، جنگ احزاب میں کامیابی ملی،یہی بابرکت مہینہ ہے نیکیاں کمانے کا سیزن ہے، نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کا ثواب70 فرضوں کے برابر دیا جاتا ہے۔ روزے کو ڈھال قرار دیا گیا ہے۔یہی وہ بابرکت ماہ ہے جس میں ایک ایسی رات دے دی گئی ہے جس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے، لیلۃ القدر کی رات کو آخری عشرے میں ہونے کی نوید بھی دے دی گئی ہے۔ہم خوش قسمت ہیں کہ نیکیوں کا موسم بہار رمضان المبارک ہماری زندگیوں میں ایک بار پھر آ رہا ہے،حالانکہ ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کورونا کی وبا کے دوسرے رمضان میں درجنوں افراد ایسے ہیں جو گزشتہ رمضان میں ہمارے ساتھ تھے، اب دُنیا میں نہیں رہے۔ یہی حال ہمارا ہے،پتہ نہیں اگلا رمضان ہمیں نصیب ہو گا یا نہیں، اس لئے موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنے آج کو نیکیوں اور اچھائیوں کی جانب راغب کرنا ہو گا۔

جدید ٹیکنالوجی اور میڈیا کے دور میں دوسروں کو صبح صبح واٹس اپ میسج بھیج کر فرض ادا کرنے کی بجائے، اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا،اپنا احتساب کرنا ہو گا،اپنے گھر کی طرف دیکھنا ہو گا،دوسروں پر انگلی اٹھانے کی بجائے اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا ہو گا، اپنی غلطیوں کی معافی مانگنا ہو گی،اپنے لین دین اور فیملی معاملات کے ساتھ رشتے داری کے امور کا ازسر نو جائزہ لینا ہو گا۔دوسرے کو غلط اور کافر قرار دینے، تنقید برائے تنقید کرنے کی بجائے تنقید برائے اصلاح کے پہلو کو اجاگر کرنے کے مشن کو اپنانا ہو گا، اپنا گھر صاف کر کے کوڑا دوسروں کے گھر کے سامنے پھینکنے کی بجائے اپنے گھر کی طرح دوسرے کے گھر اور پھر پورے محلے کو صاف رکھنے کا عزم کرنا ہو گا۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی پردہ پوشی کی بجائے ان کے خمیر کو جگانے کا منصوبہ بنانا ہو گا۔ رمضان کو رحمتوں کا مہینہ سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو بدل کر نیا روپ دیتے ہوئے قرآن کو سینے سے لگانا اور گھروں کو قرآن کے فیوض و برکات سے منور کرنا ہو گا۔نیکیوں کے موسم بہار کے استقبال کو عملی شکل دینے کے لئے پہلے عشرے سے دوسرے عشرے اور آخری عشرے کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ قرآن کو خود ترجمے کے ساتھ کم از کم ایک بار پڑھنے سمیت اپنے گھر اور محلے میں ہونے والی قرآن کلاس کا حصہ بننا ہو گا۔کورونا کے خوف کو مسلط کرنے کی بجائے حکومتی ہدایات کی روشنی میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے خود کو بچانا اور دوسروں کو بھی قرآن کی تعلیمات کا شراکت دار بنانا ہو گا۔مجھے یقین ہے کہ ”مَیں بدلوں گا، گھر بدلے گا، محلہ بدلے گا، معاشرہ بدلے گا اور ان شاء اللہ پورا پاکستان بدلے گا“۔

مزید :

رائے -کالم -