رمضان کریم... خطبہ نبوی کی روشنی میں 

رمضان کریم... خطبہ نبوی کی روشنی میں 

  

اللہ تعالیٰ نے بارہ مہینے بنائے ہیں ان میں سب سے زیادہ عظمت اور برکت والا مہینہ رمضان ہے۔ اس مہینے کے بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نہایت وقیع، پرتاثیر اورجامع خطبہ ارشاد فرمایا۔ جس سے اس مہینے کی عظمت،برکت، فضیلت اور قدر معلوم ہوتی ہے۔ آئیے عمل کے جذبے کے ساتھ اس کو پڑھتے ہیں: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شعبان کی آخری تاریخوں میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ خطبہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک مہینہ آ رہا ہے جو عظیم الشان اوربہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کی رات کے قیام کو باعث ثواب بنایا ہے جو شخص اس مہینہ میں کوئی نیکی کر کے اللہ کا قرب حاصل کرے گا وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے گا وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرائض ادا کرے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کارزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہو نے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور اسے روزہ دار کے ثواب کے برابر ثواب ہو گا مگر ا س روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائیگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ (یہ ثواب پیٹ بھر کرکھلانے پر موقوف نہیں بلکہ) اگر کوئی بندہ ایک کھجور سے روزہ افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ لسّی کاپلادے تو اللہ تعالیٰ اس پربھی یہ ثواب مرحمت فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کاہے۔ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام اور نوکر کے بوجھ کو ہلکا کر دے تواللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیتے ہیں اور آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے لیے ہیں اور دوچیزیں ایسی ہیں جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگو۔جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے رب تعالیٰ شانہ (روزِ قیامت) میرے حوض سے اس کوایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہو نے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔“(صحیح ابن خزیمہ، باب فضائل شہر رمضان، حدیث نمبر1887)

معلوم ہوا کہ یہ مہینہ:

:1عظمتوں والا ہے۔ یعنی عام معمول کے مہینوں کی طرح نہیں بلکہ اس کی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بہت شان اور اونچا مقام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے میں بہت سی ایسی عبادات کی جاتی ہیں جو عام مہینوں میں ادا نہیں کی جاتیں جیسا کہ سحری، روزہ، افطاری، تراویح، اعتکاف، صدقۃ الفطر وغیرہ۔ 

:2برکتوں والا ہے۔ یعنی عام معمول کے مہینوں کی طرح نہیں بلکہ اس ماہ مقدس میں اللہ کی برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ ماہ رمضان میں عمل تھوڑا ہوتا ہے اور اس کا اجر زیادہ ملتا ہے اس لیے یہ بابرکت مہینہ ہے۔

:3اس میں لیلۃ القدر ہے۔ جسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا دیا گیا ہے۔ یہ ایسی رات ہے کہ ہزار مہینوں سے بھی زیادہ بہتر ہے مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہزار مہینے سے بھی زیادہ عبادت کرتا رہے اور ایک شخص صرف لیلۃ القدر میں عبادت کرے تب بھی اس رات کی عبادت ان ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ 

:4اس میں روزہ فرض کیا گیا ہے۔ روزہ ایسی عبادت ہے کہ جس کی جزا اور انعام خود اللہ رب ذوالجلال دیتے ہیں۔روزہ ایسی عبادت ہے جو روزہ دار کو جہنم کے عذاب سے بچالیتی ہے۔ روزہ دار کے منہ سے آنے والی بو اللہ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ محبوب اور پسند ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت جبکہ دوسری خوشی اللہ سے ملاقات کے وقت ملتی ہے۔ 

:5اس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر جبکہ فرض کا ثواب ستر فرائض کے برابر ملتا ہے۔ ذرہ اندازہ توکیجیے کہ کس قدر اللہ کے انعامات کی بارش برس رہی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک غلط فہمی دور کر لیجیے وہ یہ کہ نفل پڑھنے سے فرض کا ثواب ملتا ہے لیکن فرض ادا کرنا ذمہ سے ختم نہیں ہوتا جیسے کوئی شخص ظہر کی نماز سے پہلے چار نفل پڑھ لے اور پھر یہ سمجھ لے کہ مجھے ظہر کے فرض ادا کرنے کی ضرورت نہیں تو یہ بہت بڑی جہالت اور حماقت ہے۔اسی طرح ایک فرض پڑھ کر ستر فرائض کا ثواب مل جاتا ہے لیکن فرائض ادا کرنا ذمہ میں پھر بھی باقی رہتا ہے۔ 

:6یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب، بدلہ اور جزا جنت ہے۔ صبر کرنے والوں کو اللہ کی معیت نصیب ہوتی ہے۔ صبر کرنے والوں کو قرآن کریم میں خوشخبری دی گئی ہے۔

:7یہ غمخواری کا مہینہ ہے۔ لوگوں کے ساتھ ایثار و ہمدردی کا مہینہ ہے غریبوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے کا مہینہ ہے مفلس و نادار لوگوں کی پریشانیوں کو اپنی پریشانی سمجھنے کا مہینہ ہے۔ 

:8اس مہینے میں رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس بات کا ہر شخص کھلی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ کر سکتا ہے غریب سے غریب شخص کے رزق میں وسعت اور برکت نازل ہوتی ہے۔

:9روزہ افطار کرانے والے کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور اس کا یہ مبارک عمل جہنم کی آگ سے چھٹکارے کا سبب بنتا ہے۔ کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو روزہ داروں کی افطاری کا انتطام کرتے ہیں۔ حدیث مبارک میں صحابہ کرام کا سوال اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب پڑھ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق اخلاص اور حیثیت کے ساتھ ہے اگر کسی کی مالی حیثیت کمزور ہے تو معمولی چیز سے افطار کرانے پر بھی اللہ اس کو اتنا ہی اجر دیتے ہیں جتنا کسی مالدار کو عمدہ چیزوں سے افطار کرانے پر ملتا ہے۔ 

:10اس مہینے کے تین حصے ہیں: اول، درمیانہ اور آخری۔ پہلا حصہ(عشرہ اولیٰ یعنی ابتدائی دس دن)رحمت کے ہیں۔ دوسرا حصہ (عشرہ وسطیٰ یعنی درمیانے دس دن) مغفرت اور بخشش کے ہیں جبکہ تیسرا حصہ (عشرہ اخیرہ یعنی آخری نو یا دس دن)جہنم سے نجات پانے کے ہیں۔ 

:11اس مہینے میں اپنے ماتحت کام کرنے والوں سے نرمی کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے کام کے بوجھ کو ہلکا کرنے کا حکم ہے۔ مزیدیہ کہ اس حکم پر عمل کرنے والے کے لیے مغفرت کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ 

:12اس مہینے کے دو وظیفے ہیں:جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بتلائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کثرت کے ساتھ کلمہ طیبہ اور استغفار کرنا۔ دیگر عبادات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ کثرت کے ساتھ کلمہ طیبہ اور استغفراللہ استغفراللہ زبان پر جاری رکھنا چاہیے۔ 

:13اس مہینے کی دو دعائیں بطور خاص ہیں۔ جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سکھلائی ہیں پہلی جنت کو طلب کرنے کی اور دوسری جہنم سے پناہ مانگنے کی۔ اس لیے پورے رمضان المبارک میں یہ دعائیں ہمیں ضرور مانگنی چاہئیں۔

:14اس مہینے میں جو شخص روزہ دار کو افطاری کے بعد یا صبح سحری ختم ہونے تک کسی بھی پانی پلاتا ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو روز محشر میرے حوض سے جام کوثر پلائے گا اور اس کے بعد اس کو جنت داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔ 

اللہ تعالیٰ ہمیں اس ماہ مقدس کی قدر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم 

٭٭٭

 روزہ ایسی عبادت ہے کہ جس کی جزا اور

 انعام خود اللہ رب ذوالجلال دیتے ہیں 

مزید :

ایڈیشن 1 -