نبی آخر الزمان محمدؐ کے پیرو کار کیسے ہوتے ہیں؟

 نبی آخر الزمان محمدؐ کے پیرو کار کیسے ہوتے ہیں؟

  

ہم اپنی میٹرک اور ایف ایس سی کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ دو قومی نظریے کی بنیاد تب ہی پڑ گئی تھی جب پہلاہندو مسلمان ہوا.جو کہ 93 ہجری یعنی 712 عسیوی میں ہوا، جب محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوا.محمد بن قاسم کی فتوحات کے ساتھ برصغیر کے ہندو جوق در جوق مسلمان ہونا شروع ہو گئے.ہم مسلمان دو قومی نظریے کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم ہندوں سے رسومات، رہن سہن، نظریات (سماجی سیٹ اپ) میں مختلف ہیں.پاکستان میں زندگی گزارنے والے مسلمانوں کے رہن سہن اور رسومات دیکھ کر کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ سچ ہے؟میں زندگی میں لوگو ں کو تین اقسام میں تقسیم کرتا ہوں.پہلی یہ کہ پڑھے لکھے(با علم)اور باشعور: یہ وہ لوگ ہیں جو علم بھی رکھتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں.دوسری ان پڑھ لا علم لوگ علم نہیں رکھتے اس لیے باشعور بھی نہیں ہوتے.اور یتسری یہ کہ پڑھے لکھے با علم اور جاہل:یہ لوگ علم رکھتے ہیں لیکن اس پرعمل نہیں کرتے.بات یہ ہے کہ ان پڑھ(لا علم)انسان کبھی جاہل نہیں ہو سکتا.کہتے ہیں کہ "طاقت کے ساتھ زمہ داری آتی ہے" اور "علم ایک طاقت ہے" تو" علم کے ساتھ زمہ داری آتی ہے".میرے مطابق قیامت کے دن لاعلم اور باعلم انسان کا حساب ایک ہی ترازو سے نہیں ہوگا.ایک ہی جرم کے لیے انہیں مختلف سزائیں دی جائیں گی.باعلم انسان کا حساب بہت سخت ہوگا.جہالت کی تعریف یہ ہے کہ انسان صحیح اور غلط کا علم رکھتے ہوئے غلط راستے کا انتخاب کرے.ابو جہل (جس کا اصل نام عمربن ہشام تھا)کو ابو جہل اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ وہ کہتا تھا میں جانتا ہوں کہ محمد سچا ہے اور اس کا دین بھی سچا ہے لیکن اس کے باوجود میں اپنے آباؤ اجداد کا مذہب کیسے چھوڑ دوں.اوریہی حالت آج برصغیر کے مسلمانوں کی ہے.فرق صرف یہ ہے کہ ہم ایمان لا چکے ہیں لیکن منطق ہو بہو ابو جہل والا ہے کہ آباؤ اجداد کے طریقوں اور رسومات کو کیسے چھوڑ دیں.اور ہم برصغیر کے مسلمانوں کیآباؤ اجداد ہندو ہیں۔معاشرے کے کچھ معاملات(جیسے میاں کا بیوی پہ ہاتھ اٹُھانا، طلاق، لڑکی کی شادی میں لڑکی کی مرضی شامل ہونا)میں لوگ لاعلم اور باعلم میں تقسیم شدہ ہیں.لیکن کچھ معاملات ایسے ہیں جن میں سارا معاشرہ باعلم اور ابو جہل ہے.اگر کسی معاشرے کے لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں جاننا ہو تو دو چیزیں دیکھو.لوگ خوشی میں کیا کرتے ہیں اور غم میں کیا کرتے ہیں.خوشی کا نمائندہ واقعہ شادی ہے.3 دن کی شادی جس میں پہلا دن ناچ گانے، دکھاوے اور بے حیائی کے نام ہے. اور باقی دو دن بھی ہم باعلم مسلمان دل کھول کر بے حیائی اور اپنی ہندو نسب کا با آواز بلند اعلان کرتے ہیں.آج کل سوائے ہندو پھیروں کے ہندو اور مسلمان شادی میں کوئی فرق نہیں رہااسی طرح غم کا نمائندہ واقعہ موت ہے.اسلام کہتا ہے جس کے گھر فوتگی ہو وھاں 3دن تک چولہا نہ جلے بلکہ ہمسائے اور رشتے دار کھانا پہنچائیں. اور ہمارے ہاں سارے رشتے دار جس کے گھر فوتگی ہو وہاں ڈیرا ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہماری کھانے پینے سے لے کر ساری ضروریات پوری کرو.خدا کی خدائی کا سوال کرنے سے لے کر بین ڈالنے تک، یہاں بھی سب ہندوانہ ہے.فرق صرف یہ ہے کہ ہم مسلمان اپنے مردوں کو جلاتے نہیں.دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ان باتوں کی نشان دہی کرنے والا کوئی یہ نہیں کہتا کہ تم صحیح یا غلط کہہ رہے ہو.سب یہ کہتے ہیں کہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے یا معاشرے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے یا آباؤ اجداد کے طریقوں کو کیسے چھوڑ دیں.ہم برصغیر کے مسلمانوں نے اسلام قبول تو کر لیا لیکن قرآن کو نا تو اردو میں پڑھا، اور نہ ہی اسے سمجھا. اورجن باتوں کا پتہ چل گیا(جو اسلام کے خلاف ہیں)آبا اجدادکے طریقوں کو ان پر ترجیح دی.سوال یہ ہے کہ ہم محمدکے پیروکار ہیں یا ابو جہل کے؟

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -