کریمنل مقدمات میں ملوث انچارج انویسٹی گیشن افسران کی تبدیلی کا فیصلہ

کریمنل مقدمات میں ملوث انچارج انویسٹی گیشن افسران کی تبدیلی کا فیصلہ

  

ملتان (وقائع نگار)پنجاب پولیس میں اصلاحات ک سلسلہ بدستور جاری۔کریمنل مقدمات میں ملوث ایس ایچ او کی تبدیلی کے بعد انچارج انوسٹی گیشن کا نمبر آگیا۔جبکہ اگلے مرحلے میں ایس ڈی پی اوز نشانے پر۔فہرستوں کی تیاری شروع کردیں گئیں۔معلوم ہوا ہے آئی جی پنجاب انعام غنی نے ملتان سمیت صوبہ بھر میں کریمنل ریکارڈ کے حامل اور فیلڈ کا دو سالہ ناتجربہ کار ایس ایچ اوز کو تبدیل کردیا ہے۔(بقیہ نمبر52صفحہ6پر)

ابتدائی طور پر پنجاب بھر میں سے تقریبا 100 کے قریب ایس ایچ اوز کو تبدیل کیا گیا ہے۔جس میں سے ملتان کے گیارہ ایس ایچ اوز کے نام شامل ہیں۔یہاں باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صوبائی پولیس افسران نے کریمنل ریکارڈ والے ایس ایچ اوز کی تبدیلی کے بعد انچارج انوسٹی گیشن کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جس کے لیے ایس او پیز کو مرتب کرلیں گئیں ہیں۔اس بات کی ابتدا لاہور سے کردی گئی ہے۔گزشتہ روز لاہور کے تھانوں میں تعینات 18 انچارج انسٹی گیشن کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی طرح مذکورہ پالیسی کا دائرہ کار پورے پنجاب میں پھیلایا جائے گا۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے اگلے مرحلے میں کرپٹ ایس ڈی پی اوز کے ناموں کی لسٹ بھی تیار کی جا رہی ہے۔جن کو فیلڈ پوسٹنگ سے ہٹایا جائے گا۔اسی حوالے سے ایس ڈی پی اوز کے نام اور انکا سروس ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع کردی گئی ہے۔کرپٹ ایس ڈی پی اوز کی تبدیل اور لسٹوں کی باتیں سن کر ان میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔اور انہوں نے اپنے اپنے سفارشیوں سے رابط شروع کردیا ہے۔

فیصلہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -