خیبر پختونخوا میں پیپر لیس گورننس اور بجٹنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے: سیکریٹری خزانہ 

خیبر پختونخوا میں پیپر لیس گورننس اور بجٹنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے: سیکریٹری ...

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا میں پیپر لیس گورننس اور بجٹنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ محکمہ خزانہ میں ایس این ای کی آٹومیشن کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے لیے محکمہ خزانہ کے بجٹ حکام اور دیگر لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔ آٹومیشن کے بعد ایس این ایز (Statement of New Expenditures) کی تیاری میں 34 دنوں کے بجائے صرف 10 دن لگیں گے۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے سیکرٹری محکمہ خزانہ عاطف رحمان نے ایس این ای آٹومیشن کے حوالے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر محکمہ خزانہ کے حکام ایس این جی عہدیدار اور تربیت حاصل کرنے والے دیگر افسران موجود تھے۔ اسٹیٹمنٹ آف نیو ایکسپنڈیچر (ایس این ای) کی تیاری محکموں کے لیے ایک مشکل کام ہوتا ہے جس کے لیے زیادہ وقت اور محنت درکار ہوتا ہے۔ موجودہ نظام میں ایس این ایز کی تیاری پر 34 دن صرف ہوتے ہیں جبکہ ان کی ٹریکنگ بھی مشکل ہوتی ہے۔ ایس این ایز آٹومیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خزانہ عاطف رحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ محمود خان اور وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا کی ہدایت پر محکمہ خزانہ نے ایس این ایز تیاری کے عمل کو سٹریم لائن کرنے کا آغاز کیا۔ ایس این ایز کی تیاری اور تصدیق کے لیے منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم ترتیب دیا گیا جس کے لیے ایف سی ڈی او کے تعاون سے جاری سَب نیشنل گورننس پروگرام نے ٹیکنیکل مہارت فراہم کی۔ عاطف رحمان نے بتایا کہ آٹومیشن نظام سے جہاں ایس این ایز کی تیاری میں کم وقت لگے گا وہیں محنت بھی کم درکار ہوگی۔ آٹومیشن کے بعد ایس این ایز کی تیاری میں 34 کی بجائے صرف 10 دن لگیں گے۔ اس نئے نظام پر صوبے کے تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران کو چار روزہ ترتیب بھی فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے محکمہ خزانہ کے افسران کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ سنگ میل ان کی محنت کی بدولت عبور ہوا اور یہ آٹومیشن سسٹم محکمہ خزانہ کی کارکردگی میں مزید اضافہ کرے گا۔ سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ پیپر لیس گورننس اور بجٹنگ کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں اور یہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں بھی شامل ہے۔ انہوں نے مینوئل بجٹنگ کی بجائے پیپر لیس ماڈل کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کارکردگی دکھانے کے لیے ہمیں محکمانہ امور میں بھی جد ت لانی ہو گی۔ دریں اثناء سیکریٹری خزانہ نے فنانشل مینجمنٹ انفارمیشن یونٹ کے افسران میں توصیفی اسناد بھی تقسیم کیں 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -