ہائیکورٹ سے رانا ثناء اللہ کی ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری 

  ہائیکورٹ سے رانا ثناء اللہ کی ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے آمدنی سے زائد اثاثے کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنمارانا ثناء اللہ کی ضمانت منظور کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیاہے،عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیاہے کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ نیب نے منشیات کیس میں حراست کے دوران رانا ثنااللہ کو گرفتار کیوں نہیں کیا،مسٹر جسٹس سرفرازاحمدڈوگر اور مسٹر جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیاہے، عدالتی فیصلے میں کہاگیاہے کہ نیب نے اس معاملے پر جانچ پڑتال شروع کی جو پہلے سے عدالت میں زیر سماعت تھا، رانا ثنااللہ کو منشیات کے مقدمے میں ضمانت پر رہا ہونے کے تین دن بعد نیب نے نوٹس جاری کر دیا جس وقت رانا ثنااللہ منشیات کیس میں زیرحراست تھے اس وقت نیب نے انھیں کیوں گرفتار نہیں کیا، سمجھ سے بالاتر ہے کہ نیب نے ایسا کیوں کیا اور انکوائری کو التوا میں کیوں رکھا، منشیات کے مقدمے میں ضمانت منظور ہونے سے پہلے نیب نے رانا ثنااللہ کو کوئی کال اپ نوٹس بھی جاری نہیں کیاجن اثاثوں کی تحقیقات نیب کر رہا ہے وہ پہلے ہی منشیات مقدمے میں اے این ایف  نے منجمد کئے ہوئے ہیں، فاضل بنچ نے رانا ثنااللہ کی عبوری ضمانت کی توثیق کرتے ہوئے  50لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے پرحکم دیا ہے کہ رانا ثنااللہ ہر سماعت پر مجاز ٹرائل کورٹ میں اپنی پیشی کو یقینی بنائیں۔

رانا ثناء اللہ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -