نیئر بخاری کی قیادت میں وفد کی اے این پی قائدین سے بڑی ملاقات

نیئر بخاری کی قیادت میں وفد کی اے این پی قائدین سے بڑی ملاقات

  

چارسدہ (بیورورپورٹ) نیئر بخاری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے وفد کی اے این پی قائدین سے بڑی ملاقات۔ بائیں جماعتوں پر مشتمل ترقی  پسند پارٹیوں پر مشتمل نیا سیاسی اتحاد بنانے پر مشاورت۔11   اپریل کو سی ای سی اجلاس میں پی ڈی ایم سے علیحدگی کے حوالے سے  حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اے این پی کسی کی غلام نہیں۔نیئر بخاری اور میاں افتخار حسین کی بڑی پریس کانفرنس۔تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو کی ہدایت پر پی پی پی کے اعلیٰ سطحی وفد نے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نیئر بخاری کی قیادت میں ولی باغ چارسدہ کا دورہ کیا۔وفد میں شیری رحمان،ہمایون خان اور فیصل کریم کنڈی بھی شامل تھے۔پی پی پی کے وفد نے ولی باغ میں اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین،سنیٹر ہدایت اللہ خان،ایمل ولی خان اور سردار حسین بابک سے ملاقات کی اور اسفندیار ولی خان کی بیمار پرسی کرکے انکی جلد صحت یابی کی دعا کی۔بعد ازاں دونوں پارٹیوں کے وفود نے ملک کے مجموعی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے طویل مشاورت کی۔مشاورت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیئر بخاری اور میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ڈی ایم کو مریم نواز نے توڑا ہے۔پی ڈی ایم سربراہ نے شوکاز نوٹس دیکر پی ڈی ایم ختم کرنے کی بنیاد رکھی۔اے این پی اور پی پی پی کسی کے غلام نہیں۔پی پی پی اور اے این پی لانگ مارچ سے پیچھے نہیں ہٹی۔پی پی پی کا روز اول سے اجتماعی استعفیٰ بطور آخری ہتھیار استعمال کرنے کا موقف رہا ہے۔پی پی پی نے مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن لیڈر بنایا مگر انہوں نے سوتیلے بھائی جیسا سلوک کیا۔ایم آر ڈی میں بھی سب جماعتیں جمہوریت اور پارلیمنٹ کے بالادستی کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں میاں افتخار حسین نے کہاکہ پی ڈی ایم تو رہی ہی نہیں تو واپس کہاں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کراچی میں ن لیگ کے امیدوار کی حمایت کر ے گی کیوں کہ صوبائی تنظیمیں ہر لحاظ سے آزاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ شوکاز نوٹس کس آئین اور ضابطے کے تحت بھیجا گیا۔اے این پی کی تضحیک کی گئی اس لیے اے این پی نے پی ڈی ایم کو خدا حافظ کہا۔دوسری طرف انتہائی با خبر زرائع کے مطابق اے این پی اور پی پی پی بائیں بازوں کے ترقی پسند جماعتوں پر مشتمل نیا سیاسی اتحاد بنانے پر مشاورت کی ہے اور 11    اپریل کو پی پی پی کے پی ڈی ایم میں رہنے یا نہ رہنے کے بعد نئے سیاسی اتحاد کے حوالے سے مزید مشاورت کی جائے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -