فاٹا انضمام، ضلع خیبر پولیس کے مختلف یونٹس کا قیام عمل میں لایا گیا 

  فاٹا انضمام، ضلع خیبر پولیس کے مختلف یونٹس کا قیام عمل میں لایا گیا 

  

 پشاور(کرائمز رپورٹر)کیپیٹل سٹی پولیس پشاور احسن عبا س نے کہاکہ فاٹا انضام کے بعد ضلع خیبر  میں پولیس کی جانب سے مختلف یوٹنس کا قیام عمل میں لایا گیا گاڑیو ں کی کا ر لفٹر نگ اور چوری کی  وارداتو ں میں ملوث عناصر کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کی خاطر خیبر پولیس نے خصوصی انٹی کار لفٹنگ سیل قائم کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز ضلع خیبر میں تقریب سے خطا ب کر تے ہوئے سی سی پی او کا کہنا تھا کہ  ضلع خیبر پولیس کی جانب سے مسروقہ گاڑیوں کے مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کو نکیل ڈالنے کی خاطر خصوصی انٹی کار لفٹنگ سیل قائم کیا گیا ہے جنہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران کارچوری میں ملوث گروہوں کا سراغ لگا کر ان کے قبضہ سے 27 قیمتی مسروقہ گاڑیاں اور پانچ موٹر سائیکل بھی برآمد کئے ہیں، کریک ڈاون کے دوران جعلی کاغذات اور انجن چیسز نمبرات تبدیل کرنے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، کریک ڈاون کے دوران پنجاب اور سندھ کے مختلف شہروں میں سرگرم کار چور نیٹ ورک کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے انہو ں نے بتایا کہ فاٹا انضام کے بعد پولیس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے بخوبی نبرد آزما ہو نے کی خاطر ضلع خیبر پولیس کی جانب سے مختلف یوٹنس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مسروقہ گاڑیوں کے کاروبار اور چوری میں ملوث عناصر کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کی خاطر خیبر پولیس نے خصوصی انٹی کار لفٹنگ سیل قائم کیا ہے جنہوں نے ضلع خیبر کی تاریخ میں پہلی بار مسروقہ گاڑیوں کے گھناونے فعل میں ملوث گروہوں کو نشانہ بنایا، انہوں نے اس موقع پر فاٹا انضمام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ انضمام سے علاقہ میں امن و خوشحالی کے ایک نیا دور شروع ہو گا۔ڈی پی او ضلع خیبر وسیم ریاض نے سی سی پی او عباس احسن کو کریک ڈاون کے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی کارروائیوں کے دوران پنجاب سمیت ملک کے دیگر شہروں میں سرگرم منظم موٹر کار چورنیٹ ورک کا سراغ لگا لیا گیا ہے جن کا ڈیٹا اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرنے کے بعد متعلقہ اضلاع اور پنجاب پولیس سے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے تقریب کے اختتام پر سی سی پی او عباس احسن نے عمدہ کارکردگی دکھانے پر حصہ لینے والی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کو نقد انعامات اور توصیفی اسناد سے بھی نوازا گیا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -