موجودہ حکومت قائم رہی تو دفاعی بجٹ کیلئے قرضہ لینا پریگا: محمد زبیر 

موجودہ حکومت قائم رہی تو دفاعی بجٹ کیلئے قرضہ لینا پریگا: محمد زبیر 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نوازشریف اور نائب صدر مریم نواز کے ترجمان اور سابق گورنرسندھ محمد زبیرنے کہاہے کہ وزیراعظم کی باتوں پر ہنسی آتی ہے، ایسا نہیں لگتا کہ وہ پاکستان سے متعلق بات کررہے ہیں، عوام کی آمدن نہیں،مہنگائی بڑھ رہی ہے، ہر نیا دن مشکل ہوتا جارہا ہے، سب سے اچھی ٹیم کا دعوی کرنے والے وزیراعظم بار بار اپنی معاشی ٹیم بدل رہے ہیں، ہر ماہ معیشت کے مختلف اہداف آتے ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ افراد کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل کر احساس پروگرام بڑھانا کوئی فخر کی بات نہیں، اگر یہی حکومت رہی تو ڈیفنس بجٹ کے لیے بھی قرضہ لینا پڑے گا، نیا بجٹ آنے والا ہے لیکن پتہ نہیں وزیر خزانہ کون ہوگا، نااہل حکومت تین وزیر خزانہ،4سیکرٹری فنانس اور 5 چیئرمین ایف بی آر بدل چکی ہے، پانچ وزراء کہہ چکے ہیں کہ مریم نواز لندن جارہی ہیں، حکومت کو گھر بھیجے بنا مریم کہیں نہیں جائیں گی، ان کو سب سے زیادہ خوف مریم نواز سے ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعرات کو مسلم لیگ ہاؤس کارساز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات خواجہ طارق نذیر، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شہبازشیخ اور دیگربھی موجود تھے۔محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پچھلے سال گروتھ ریٹ منفی ہوا، پاکستان میں 3 جنگیں ہوئیں، مشرقی پاکستان الگ ہوا، بڑے بڑے بحران آئے مگر گروتھ ریٹ منفی نہیں ہوا، عمران خان دعوی کرتے تھے کہ میرے پاس بہترین ٹیم ہے۔ ڈھائی سال میں تین وزیر خزانہ، چار فنانس سیکریٹری،5 چیئرمین ایف بی آر تبدیل ہوچکے۔ وزیر اعظم بار بار اپنی معاشی ٹیم تبدیل کررہے ہیں۔ حماد اظہر نے معاشی استحکام کے بڑے بڑے دعوے کیے ہیں۔ حماد اظہر صاحب پریس کانفرنس اور ٹویٹ سے مہنگائی کم نہیں ہوتی۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی عوام کے لیے سب سے اہم چیز معیشت ہے۔ حکومت جو معیشت کے اعداد و شمار دیتی ہے ان کا تجزیہ ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ عوام کے لیے ہر نیا دن مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ نئے سروے میں عوام نے مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کو اہمیت دی ہے۔ ان کے وزراء اورمشیرکرنٹ اکاؤنٹ کم کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ جب کرنٹ اکاؤنٹ کم ہے تو مہنگائی بے روزگاری اور غربت میں کمی کیوں نہیں ہورہی؟۔سابق گورنرسندھ نے کہاکہ بجٹ آنے والا ہے اور آئی ایم ایف میں جانا ہے۔  عمران خان سے کوئی پوچھے کہ تین سال میں معیشت کا یہ حال کیوں کیا؟ یہ بتائیں کہ گروتھ ریٹ اتنا کم کیوں ہوا؟ یہ کورونا کو جواز بتاتے ہیں جبکہ کورونا سے باقی ممالک کی معیشت تباہ نہیں ہوئی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیاگیاہے۔ یہ لوگوں کو غربت میں دھکیلنے پر احساس پروگرام بڑھانے پر فخر کرتے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں مگر لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کردیا گیا۔ اس سال جمع کیے گئے ٹیکس کا 80 فیصد قرضوں کی ادائیگی میں جائے گا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ تین سال میں اخراجات آمدن سے ریکارڈ زیادہ ہیں۔ ان کے غلط فیصلوں سے عوام پس رہی ہے۔ اگر یہی حکومت رہی تو ڈیفنس بجٹ کے لیے بھی قرضہ لینا پڑے گا۔سابق گورنرسندھ نے کہاکہ ایک سال سے چینی بحران چل رہا ہے، ان کی ناک کے نیچے پیسے بنائے جارہے ہیں، چینی بحران پر تحقیقات اور ایف آئی آر کاٹ رہے ہیں،مگر چینی 110روپے کلو مل رہی ہے۔ شہزاد اکبر جا کر یہ نہیں چیک کرتے کہ چینی کیوں مہنگی مل رہی ہے، وہ روز آکر یہ بتاتے ہیں کہ 3 مزید ایف آئی آرز کٹ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ عامرکیانی نے ادویات میں کرپشن کی، انہیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا۔۔محمدزبیر نے کہا کہ پانچ وزراء کہہ چکے مریم نواز لندن جارہی ہیں۔ مریم نواز کہہ چکی کہ وہ حکومت کو گھر بھیجے بنا کہیں نہیں جائیں گی۔ سیاسی صورتحال اور پیپلزپارٹی کے الزامات کے جواب میں انہوں نے کہا ان کو مریم نواز کا خوف ہے۔ سینیٹ الیکشن میں ہم پر پیسوں کے لین دین کا الزام نہیں لگا۔ پنجاب حکومت گرانا مسئلے کا حل نہیں ہم نے حکومت میں اور اپوزیشن میں اصولی سیاست کی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -