کوہاٹ،معصوم بچی حریم فاطمہ کے دادا کا تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار

  کوہاٹ،معصوم بچی حریم فاطمہ کے دادا کا تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار

  

کوھاٹ (بیورورپورٹ) خٹک کالونی کوھاٹ کی چار سالہ مقتولہ حریم فاطمہ کے دادا فرہاد حسین نے ڈی پی او کوھاٹ کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کو جھوٹ کا پلندہ اور کیس کو کمزور کرنے کی کاوش قرار دیا ہے اور اس کے تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اپنی رہائش گاہ پر اپنے بھائی حاجی خانزادہ ایڈووکیٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے جس خاتون کو ملزمہ نامزد کیا اس کا ہمارے گھر میں آنا جانا ضرور تھا اگر اس نے یہ حرکت کی تو اس کی پشت پناہی پر کون تھا اسے بے نقاب کیا جائے  مگر پولیس اصل ملزم کی پشت پناہی کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ڈی پی او کی نگرانی میں ہوئی جس کے مطابق حریم فاطمہ کی موت 12 گھنٹے قبل رات کے تقریباً 9 بجے کے قریب ہوئی اور اس رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیادتی کی نشاندہی بھی کی گئی مگر ڈی پی او نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ برقعہ پوش خاتون بچی کو ساتھ لے گئی اور وہاں قتل کر کے ایک گھنٹہ بعد واپس آئی جو گھبرائی ہوئی تھی اس بات میں اس لیے صداقت نہیں کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ رات 9 بجے موت واقعہ ہونے کا کہتی ہے اگر دن کو اسے قتل کیا گیا اور اسے نالے میں پھینکا گیا تو وہاں کسی نے دیکھا کیوں نہیں یا اگر اس کا کوئی گواہ پولیس کیپاس ہے تو وہ سامنے لے آئے حقیقت یہ ہے کہ ہم دن رات اسے تلاش کرتے رہے وہ نہ ملی دوسرے روز صبح ساڑھے 6 بجے اس کی نعش ملی اگر نعش وہاں رات بھر پڑی رہتی تو کسی جانور نے اسے نقصان کیوں نہیں پہنچایا دوسری بات یہ ہے کہ ڈی پی او اب میڈیکل بورڈ کرنے پر کیوں بضد ہیں پوسٹ مارٹم کے وقت انہوں نے اس کا فیصلہ کیوں نہیں کیا انہوں نے کہا کہ بچی ہماری موت کے منہ میں چلی گئی بجائے ہمدردی کے پولیس نے ہمارے پورے خاندان کو خوب ذلیل کیا قاتل تک پہنچنے کے لیے ہم نے بھرپور تعاون کیا مگر پولیس نے ہمیں مسلسل ٹارچر کیے رکھا فرہاد حسین نے کہا کہ یہ خاتون پر پولیس نے یہ الزام بھی لگایا کہ وہ نفسیاتی مریضہ ہے وہ حریم کے چچا سے شادی کی خواہشمند تھی رشتہ نہ کرنے پر اس نے بچی کو قتل کرکے اس کا انتقام لے لیا یہ بھی من گھڑت کہانی ہے اگر خاتون نفسیاتی مریضہ ہے تو اس کا اعتراف جرم قابل اعتبار ہو سکتا ہے ہرگز نہیں اصل بات یہ ہے کہ پولیس کو ملزم کا علم ہے مگر وہ اس کے جرم پر پردہ ڈال رہی ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ پولیس نے حریم کے کیس کو زندہ کرنے کے بجائے دفن کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم انصاف مانگتے ہیں اگر پولیس کی تفتیش اسی طرح بند کمروں تک جاری رہی تو قوم کی بیٹی کو انصاف کوھاٹ اور کرک کی قوم دے گی اس پولیس پر ہمارا اعتماد ہرگز نہیں۔ 

مزید :

صفحہ اول -