ملائیشین طیارہ ایم ایچ 370لاپتہ لیکن سات سال بعدکہانی میں نیا موڑ آگیا، نئی معلومات 

ملائیشین طیارہ ایم ایچ 370لاپتہ لیکن سات سال بعدکہانی میں نیا موڑ آگیا، نئی ...
ملائیشین طیارہ ایم ایچ 370لاپتہ لیکن سات سال بعدکہانی میں نیا موڑ آگیا، نئی معلومات 
سورس: Pixabay (creative commons license)

  

کوالالمپور(مانیٹرنگ ڈیسک) ملائیشین ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 370کو لاپتہ ہوئے 7سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ اس بدقسمت طیارے کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا اور یہ سمندر میں کس جگہ گر کر غرق آب ہوا۔ ابتداءسے اس طیارے کے ملبے کی کھوج میں لگے ماہر رچرڈ گاڈ فرے نے اب نئی معلومات دنیا کو بتا دی ہیں، جن سے طیارے کی تلاش کی مہم نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق رچرڈ گاڈ فرے نے کہا ہے کہ ہم ’ویک سگنل پروپیگیشن لاگز‘ (Weak Signal Propagation Logs)کے ذریعے یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ آخری لمحات میں طیارے نے کس سمت میں سفر کیا۔

رپورٹ کے مطابق ’ویک سگنل پروپیگیشن لاگز‘ نظر نہ آنے والے ریڈیو سگنلز ہوتے ہیں جو طیارے کے کسی جگہ سے گزرنے پر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ٹرپ وائرز(Tripwires)یا لیزر بیمز کے جیسے ہوتے ہیں تاہم یہ ان کے برعکس تمام سمتوں میں کام کرتے ہیں، حتیٰ کہ ہماری زمین کی دوسری طرف بھی۔

گاڈ فرے نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا ہے کہ اب ان ’ویک سگنل پروپیگیشن لاگز‘ کو استعمال کیے بغیر کوئی چارہ نہیں،اس کے سوا ہم ایم ایچ 370کی آخری لمحات میں لوکیشن سے آگاہ نہیں ہو سکتے۔ واضح رہے کہ ایم ایچ 370کوالالمپور سے چین کے دارالحکومت بیجنگ جاتے ہوئے راستے میں لاپتہ ہو گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ پرواز راستہ تبدیل کرکے بحر ہند کی طرف گئی اور وہاں سمندر میں گر کر غرق ہو گئی۔ اب تک جہاز مختلف ممالک کے ساحلوں سے جہاز کے کچھ ٹکڑے ملے ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ اسی ایم ایچ 370کے ہیں۔ واضح رہے کہ اس پرواز میں 239مسافر اور عملے کے لوگ سوار تھے، جو سب کے سب لقمہ اجل بن گئے۔

مزید :

بین الاقوامی -