کورونا وباءکے دوران افواہوں سےخوف و ہراس نہ پھیلایا جائے، صوبائی وزیر صحت  تیمورخان جھگڑا کی اپیل

 کورونا وباءکے دوران افواہوں سےخوف و ہراس نہ پھیلایا جائے، صوبائی وزیر ...
 کورونا وباءکے دوران افواہوں سےخوف و ہراس نہ پھیلایا جائے، صوبائی وزیر صحت  تیمورخان جھگڑا کی اپیل

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے وزیر صحت اور خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نےکہا ہے کہ صوبے میں آج  کورونا وائرس کے کیسز کی سب سے زیادہ شرح 15اعشاریہ چار فیصد رہی،ہسپتالوں پر کورونا مریضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے سب کا تعاون درکار ہے،ہسپتالوں کی استعداد اور دیگر سہولیات سے متعلق افواہیں پھیلانے سے گریز کیا جائے تاکہ اس مشکل وقت میں غلط خبروں سے عوام میں خوف و ہراس نہ پھیلے،خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ایک لاکھ بیس ہزار سکوائر فٹ پر نئی او پی ڈی تعمیر کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے دورے کے موقع پرمیڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ کے ٹی ایچ کی نو تعمیر شدہ او پی ڈی اور منی فولڈ آکسیجن سپلائی بیک سسٹم کا معائنہ کیا۔ کے ٹی  ہسپتال میں نئی او پی ڈی ایک لاکھ بیس ہزار سکوائر فٹ کے رقبے پر بنائی گئی ہے جس میں 90 او پی ڈی رومز ہیں،عمارت کے زیر زمین  بنائی گئی اس او پی ڈی میں بلڈ بینک، پتھالوجی، سی ایس ایس ڈی، لانڈری، کیفیٹریا اور فارمیسیز بھی بنائی گئی ہیں۔ صوبائی وزیر نے ہسپتال انتظامیہ کو اس کاوش پر سراہتے ہوئے کہا کہ جلد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس او پی ڈی بلڈنگ کا افتتاح کریں گے۔

 صوبائی وزیر نے صوبے میں کورونا وباءکی مثبت شرح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج سب سے زیادہ 15اعشاریہ چار فیصد شرح تھی،ہسپتالوں پر کورونا مریضوں کا بوجھ کم کرنے کے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا تعاون درکار ہے اور انشاءاللہ وہ حکومت کو ملے گا،عوام اس دوران افواہوں پر کان نہ دھریں، میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین ایسی خبریں نہ پھیلنے دیں جو حقیقت پر مبنی نہ ہوں اور ان کا مقصد صرف عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہو۔

انہوں نےکہا کہ مردان میڈیکل کمپلیکس کے حوالے سے ایسی ہی خبریں پھیلائی گئیں جن میں کوئی صداقت نہیں تھی بلکہ خوف و ہراس پیدا کر کے انسانی جانوں سے کھیلا گیا،حکومت ہیلتھ سسٹم پر زیادہ سے زیادہ خرچ کر رہی ہےجس کےثمرات سےعوام مستفید ہو رہےہیں،عوام کوروناایس او پیز کاخیال رکھیں،ماسک کا استعمال کریں اور رش و اجتماعات سے دور رہیں۔ 

مزید :

کورونا وائرس -