صبرواستقلال!

صبرواستقلال!

  



صبر کے معنی روکنے اور برداشت کرنے کے ہیں، یعنی اپنے نفس کو خوف اور گھبراہٹ سے روکنا اور مصائب کو برداشت کرنا.... استقلال کے معنی استحکام اور مضبوطی کے ہیں۔ الغرض صبرو استقلال دل کی مضبوطی، اخلاقی بلندی اور ثابت قدمی کا نام ہے قرآن پاک میں صبر کی بڑی فضلیت بیان کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ سورة لقمان میں فرماتے ہیں....ترجمہ: اور جو مصیبت آپ کو پیش آئے، اُسے برداشت کرو، یہ بڑے عزم کی بات ہے۔ دوسری جگہ فرمایا....ترجمہ: بےشک اللہ تعالیٰ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ سورة البقرہ میں فرماتے ہیں.... ترجمہ: اے ایمان والو! مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے نماز کے ذریعے مدد لو۔ اس قسم کی بہت سی ہدایات قرآن پاک میں موجود ہیں اور ایسے ایسے سخت حالات میں صبر کرنے کی باربار تاکید کی گئی ہے کہ اسے دیکھ کریہی اندازہ ہوتاہے کہ مومن کی قوت اور طاقت کاکتنا بڑا خزانہ اسی صبر میں موجود ہے اور کیوں نہ ہو، جب اس کائنات کا حاکم و مالک یہ یقین دلا دے کہ اللہ صبر کرنے والو ں کے ساتھ ہوتا ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ مومن ہرطاقت کے مقابلے میں صبر کی قوت سے کام نہ لے۔ جب مخالفوں کے ظلم سہنے کا وقت ہوتا ہے، اس وقت بھی مومنوں کی ہمت بندھانے والا یہی صبر سہارا ہوتا ہے اور جب باطل سے جنگ ہوتی ہے، اس وقت بھی مومن کاسب سے کارگر ہتھیار یہی صبر ہوتا ہے، پھر یہی نہیںکہ صبر صرف اسی دُنیا میں دین کی خدمت کے سلسلے میں کام دیتا ہو، بلکہ آخرت کے لئے بھی یہی سب سے اچھا توشہ ہے آخرت کے درجات بھی اسی صبر کے پیمانے سے ناپ کر دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے.... آج کے دن مَیں نے انہیں اچھا بدلہ اسی لئے دیاہے کہ انہوں نے دُنیا میں جو صبر کیا تھا، اُس کا بدلہ یہی ہوناچاہئے اور آج وہی بامرادہیں.... (سورة المومنون)

دین میں صبر کی بے حد اہمیت ہے، دراصل صبر ایک کسوٹی ہے، دین کی پرکھ اسی پرہوتی ہے ،اللہ نے ہمیشہ اپنے بندوں کو اسی کسوٹی پر پرکھا ہے، مشکلیں جھیلنے کے بعد کسی کام میں روپیہ آتاہے، کسی میں شہرت ملتی ہے اور کسی میں عزت اوراقتدار، لیکن دین کی خدمت ایک ایساکام ہے کہ اس کے کرنے سے ان چیزوں میں سے کوئی بھی ہاتھ نہیں آتی۔ دین کی خدمت کا کام صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے کیاجاتاہے، اس کام میں کوئی دوسری غرض شامل نہیں ہوتی۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے.... کاموں کا دارومدار ارادوں پر ہے اور انسان کو وہی ملے گا، جس کی وہ نیت کرے گا، تو جس کی ہجرت اللہ اس کے رسول کے لئے ہو گی ، تو واقعی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول اکرمﷺ کے لئے ہو گی اور جس کی نیت دُنیا کے کسی مفاد کے لئے ہوگی ،تو اس کی ہجرت اسی کام کے لئے ہو گی، جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ دین کی خدمت کا کام کیسا سخت کام ہے۔ جب تک خلوص کے ساتھ خدا کی رضا سامنے نہ ہو، دین کا کام کرنا اور راہ کی مشکلات کا مقابلہ کرنا آسان کام نہیں ۔ مشکلات اس راہ میں آتی ہیں، ان مشکلات کے مقابلے میں صبر اختیار کرنے اور حق کی راہ پر قائم رہنے میں ہی ایک مومن کا امتحان ہوتا ہے۔ یہی امتحان ہے جو مومن کے درجوں کو بلند کرتا ہے، اس امتحان کے بغیر ایمان کا دعویٰ اور جنت کی آرزو سب بےکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ....ترجمہ: کیا تم نے یہ سمجھ رکھاہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاﺅ گے۔ قبل اس کے کہ اللہ تم میں سے ان لوگوں کوجان لے جو اس کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں اور صبر اختیار کرنے والے ہیں.... (سورة آل عمران)

صبر جنت کی کنجی ہے، اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، دین کی خدمت کی راہ میں ایک مومن کوبے شمار موقعوں پر اپنے صبر اور استقامت کا ثبوت دینا پڑتا ہے، لوگ اس کا مذاق اُڑاتے ہیں، طعنے دیتے ہیں ستاتے ہیں اور پھر ہر قسم کا جانی اور مالی نقصان پہنچانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر ایک مومن کو صبر و استقامت کی ضرورت پڑتی ہے اور اس صبر کی طاقت سے ان مشکلات کا سامنا اور مقابلہ کرتا ہے۔ ایک معمولی سی مثال سے سمجھ لیں.... ایک شخص آج کل کے حالات میں بازار میں ایک دکان کھولتا ہے، اگر آدمی نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اللہ کے دین کو اختیارکرے گا۔ اُدھر کتاب اور سنت کی تعلیم ہے کہ جھوٹ نہ بولو، دھوکہ نہ دو، سود کے پاس بھی نہ جاﺅ، لیکن بازار کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے جھوٹ اور فریب کے بغیر کاروبار چل نہیں سکتا۔ دھوکہ نہ دو، لیکن جو دھوکہ تمہیں دیا گیا ہے، اس کا نقصان کیسے پورا کرو گے رشوت نہ دو گے، تو کوئی کام نہیں بنے گا، جعلی رجسٹر نہیں بناﺅ گے، تو سارا نفع سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس کی نذر ہو جائے گا، سود سے بچو گے تو تجارت ہی ٹھپ ہو جائے گی۔ اب آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو اللہ کے دین کو کم سے کم دکان اور تجارت کی حد تک خیر باد کہہ دیں اور اپنے دل کو یہ سمجھا لیں کہ مجبوری ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں دین پر چلنے یا دین کی خدمت کرنے کے لئے کسی صبر کی ضرورت نہیں، آپ نے اس راستے کو چھوڑ دیا ہے، جہاں صبر اور استقامت کی ضرورت تھی، آپ کانٹوں بھرے راستے پر چلے ہی نہیں جو دامن کے پھٹنے کا غم ہوتا۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ کسی حال میں اپنے اصولوں کو نہ چھوڑیں، بڑے کاروبار کو چھوڑ کر چھوٹی تجارت کو قبول کر لیں، لیکن اللہ کی نافرمانی کو منظور نہ کریں، تکلیف اُٹھائیں، محنت برداشت کریں، صبر اور استقامت سے کام لیں اور اللہ کی رضامندی کے لئے دین پر سختی سے جم جائیں۔ اسی طرح قدم قدم پر زندگی میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اسلام میں دین اور سیاست الگ الگ دوچیزیں نہیں ہیں، سیاست بھی دین ہی کا ایک حصہ ہے، جیسا نماز اور روزہ دین کا ایک حصہ ہے۔ آپ نماز اور روزہ کی حد تک دین پر عمل کرتے ہیں، اس سے دوسروں کا کیا بگڑتا ہے؟ آپ رات دن نماز پڑھا کریں اور ہمیشہ روزہ میں رہیں، لیکن ذرا مسجد کے باہر بھی اللہ کے قانون کو اپنی زندگی کا قانون بنائے، پھر دیکھئے مشکلات آتی ہیں یا نہیں؟ اس وقت آپ کو دین کے لئے صبر واستقامت کی اہمیت کا اندازہ آسانی سے ہو جائے گا۔ طوفانی رات میں روشنی کی قدر تو وہی جانے گا، جو گھر سے باہر نکل کر کہیں سفر کرے گا، لیکن جو بندہ بندکمرے میں ہی بیٹھا رہے، اسے کیا معلوم کہ رات کے مسافر کے لئے گیس کی لالٹین کتنی پیاری اور کتنی ضروری چیز ہے۔

آج دُنیا میں کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانی کا طوفان اُمڈا ہوا ہے، چاروں طرف گمراہی کا اندھیرا اچھایا ہوا ہے، اب جو اس حال میں اللہ کے دین کے راستے پر چلنا چاہے گا، اس کو قدم قدم پر اللہ کی ہدایت کے نور کی ضرورت پڑے گی، لیکن جو کوئی پاﺅں توڑ کر بیٹھ جائے اور دُنیا کو اس کے حال پر چھوڑ کر کسی گوشے کو آباد کرنے ہی کو نیکی جان لے،اسے کیا معلوم کہ دین کی راہ میں صبر واستقامت کی قیمت کیا ہے؟ اب ذرا اپنے پیارے نبی حضور اکرمﷺ کی زندگی مبارکہ پر نظر دوڑائیں اور دیکھئے کہ کس طرح آپ نے قدم قدم پر مصائب اور تکالیف کا سامنا کیا اور صبر و استقامت سے مقابلہ کیا۔ جب حضور اکرمﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا توکفار نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دیں۔ آپ کو جھٹلایا، آپ کا مذاق اُڑایا، کسی نے جادوگر کہا، غرض آپ نے ساری زندگی بے شمار مشکلات کا سامنا کیا۔

کبھی کافروں نے آپ پر پتھر برسائے اور لہولہان کر دیا، کبھی آپ کا دانت شہید کر دیا۔ نماز پڑھتے وقت آپ پر اونٹ کی اوجھری رکھ دیتے، کبھی ابو لہب آپ کا چچا آپ کو دیوانہ کہتا اور جب تبلیغ کرتے تو اُن کے پیچھے بچوں کو آوازے کسنے کے لئے بھیج دیتا۔ پھر کافروں نے آپ کا معاشی بائیکاٹ کر دیا جو تین سال تک جاری رہا۔ اس دوران انہوں نے اتنی تکلیفیں اُٹھائیںکہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آپ نے ان تمام مصائب اور تکالیف کا مقابلہ بڑے صبرو استقامت سے کیا۔ ٭

مزید : کالم