ابو! واپس آ جاﺅ، ہم کپڑے نہیں مانگیں گے!

ابو! واپس آ جاﺅ، ہم کپڑے نہیں مانگیں گے!
ابو! واپس آ جاﺅ، ہم کپڑے نہیں مانگیں گے!

  

                    سابق نگران وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب اور سپیکر قومی اسمبلی ملک معراج خالد(مرحوم) ترقی پسند تھے۔ لاہور میں ان کا قیام لکشمی مینشن (شاہرہ قائداعظم) کے ایک فلیٹ میں تھا، یہیں وہ درویشانہ زندگی گزارتے تھے۔پاک چین دوستی کی انجمن کا دفتر بھی ادھر ہی تھا اور یہاں تقریبات ہوتی رہتی تھیں، ایک رپورٹر کی حیثیت سے ہمیں ایسی تقریبات میں شرکت کا موقع ملتا رہتا تھا۔ اسی دوران ملک معراج خالد سے مراسم بھی استوار ہو گئے تھے۔ یہ روزنامہ ”امروز“ کا دور تھا۔ ایک روز دعوت ملی کہ پاک چین دوستی کی انجمن کے ایک اجلاس میں مدیر ”چٹان“ آغا شورش کاشمیری(مرحوم) مہمان خصوصی ہوں گے۔ آغا مرحوم بھی معروف اور اہم شخصیت تھے، ان کے خیالات سننے کا موقع تھا، ہم ایک طالب علم کی حیثیت سے محفل میں گئے کہ کچھ سیکھنے کا موقع مل جائے گا۔

محفل جمی تو معلوم ہوا کہ ہم جیسے کئی اور پیاسے صحافی بھی موجود ہیں کہ آغا شورش کے خطاب کا موضوع بھی جرنلزم تھا۔ ان کے خیالات سے استفادے کا موقع ملا۔ زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔ صرف ایک مسئلہ بیان کرتے ہیں جو آج کے دور کے مطابق بھی عمل درآمد کے قابل ہے۔ آغا شورش کاشمیری نے بتایا کہ بلاشبہ صحافی غیر جانبدار ہوتاہے، لیکن یہ غیر جانبداری رپورٹنگ میں ضروری اور یقینی ہے کہ خبر اپنے پورے سیاق و سباق کے ساتھ قاری تک پہنچنی چاہئے، لیکن یہی صحافی جب کالم یا مضمون تحریر کرے تو غیر جانبدار نہیں ہو سکتے کہ اپنے جن خیالات کا وہ اظہار کرے گا، وہ اس کے ذاتی نظریئے کے مطابق ہوں گے۔

ہم نے سوال کیا تو کیا کالم اور مضمون تحریر کرتے ہوئے غیر جانبداری بالکل ترک کر دی جاتی ہے اور حقائق کو بھی خلط ملط اپنے نظریات کے مطابق پیش کیا جا سکتا ہے تو جواب ملا نہیں۔ یہ بھی غلط ہے۔ ہر مضمون نگار کو اپنی ذاتی رائے اور نظریئے کے اظہار کا حق ہے، لیکن کسی کو حقائق چھپانا یا اپنی رائے کے مطابق موڑ لینا زیب نہیں دیتا۔ ہم نے پھر پوچھا: جو حضرات ایسا کرتے اور کسی ایک سیاسی نظریئے یا جماعت کے نظریات کا پرچار کرتے ہوئے الزام تراشی کر جاتے ہیں، تو یہ بھی ان کا حق ہے۔ آغا شورش نے بہت مضبوط لہجے میں کہا: جی! نہیں! صحافت میں یہ حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کوئی حقائق سے روگردانی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرتا ہے تو اسے اس جماعت کا رکن یا کارکن بن جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگر صحافی کو سیاست کا شوق ہو تو وہ باقاعدہ سیاست کرے اور اپنی تقریروں میں سیاست بگھار لے.... (اس سے وہ اپنی ذات بھی مراد لیتے تھے).... کہ وہ بہت بہترین مقرر، سیاسی مسلک کے حامل اور سیاسی تحریک سے وابستہ بھی تھے۔

یہ گزارش اور احوال تحریر کرنے کا کئی بار ارادہ کیا، پھر کسی وجہ سے چھوڑ دیا، تاہم آج کے ماحول میں اس مجلس کی روئیداد اس حد تک بتانا یوں ضروری جانا کہ آغا شورش کاشمیری کے اس نظریئے کی روشنی میں ہم قلم کار، صحافیوں کو آئینہ ضرور دیکھ لینا چاہئے اور ہم ان سب کو سلام پیش کرتے ہیں جو اپنی تحریروں میں نظریہ¿ ضرورت پیش کرتے ہیں، لیکن دلائل اور واقعات بیان کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں بنتے۔ صحافی اپنے خیالات کے مطابق جانبدار رویے کا حامل ہو سکتا ہے، لیکن وہ سیاسی جماعت کارکن نہیں ہوتا اور جو سیاسی جماعت اور اس کے نظریئے کے محافظ بننے کے بعد صحافی بنتے ہیں تو معاف کیجئے وہ.... نہیں ہوتے۔

ہم نے خود کو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں جانا، یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات بڑے عزیز دوستوں کی تنقید کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔ ایک مرتبہ تو ایک کالم پر ہمارے بہت ہی محترم نے پوچھا:”کیا بہت دباﺅ تھا“....ہم کیا جواب دیتے کہ ایسا نہیں تھا اور نہ ہی ہم نے کبھی دباﺅ قبول کیا، خبر دینا اور نہ لکھنا منظور کیا، ایسی غلطی کے ارتکاب سے ہمیشہ گریز کیا۔ ذاتی طور پر جسے غلط سمجھا، اسے غلط ہی کہا۔ رپورٹنگ میں سوال اور کالم یا آرٹیکل میں تحریر لکھتے وقت ہم نے یہی رویہ رکھا نادانستگی میں کوئی کوتاہی اور کوئی مہربان دوست نشاندہی کر دے تو معذرت اور تصحیح سے کبھی گریز نہیں کیا۔

لکھنے کا موڈ کچھ اور تھا، لیکن برخوردار کی تحریر نے اس مجلس کا احوال بتانے پر مجبور کر دیا کہ تحریر پسند آئی دُعا ہے کہ نوجوان کو اللہ آغا شورش کاشمیری کے فارمولے کے مطابق قلم کار بنا دے۔

اب اصل موضوع کی طرف.... گزشتہ کالم میں عرض کیا اور آج کے اخبارات میں خبر پڑھ لی۔ ایک باپ نے تین بچوں کی طرف سے عید کے لئے کپڑوں کی فرمائش پوری کرنے کی سکت نہ رکھنے کی وجہ سے خود کشی کر لی۔ اللہ اسے معاف کرے، اب پھر سوال ہے کہ مرنے والا خود کشی کر کے خود تو دُکھوں سے نجات پا گیا، اب ان بچوں کو کون بتائے اور سمجھائے گا جو باپ کی میت پر روتے ہوئے یقینا یہ کہتے ہوں گے۔ ”ابو! واپس آ جاﺅ‘ ہم کپڑے نہیں مانگیں گے“۔

اس سے زیادہ لکھنے کی ہمت اور طاقت نہیں، قلم رُک گیا، دل غم سے بھر گیا، آنسو پی گیا کہ بچوں کو کیا جواب دیا جائے گا، لیکن اشرافیہ سے یہ پوچھنے کا حق تو دیجئے.... ” تم کتنے بھوکے مارو گے، ہر گھر سے بھوکے نکلیں گے“۔  ٭

مزید : کالم