عیدالفطر:کلبہ ¿ احزاں شود روزے گلستاں، غم مخور!

عیدالفطر:کلبہ ¿ احزاں شود روزے گلستاں، غم مخور!
عیدالفطر:کلبہ ¿ احزاں شود روزے گلستاں، غم مخور!

  

میرے خیال میں خوشی اورغم کا تعلق بنی نوع انسان کی دو حالتوں پر انحصار رکھتا ہے۔ ان میں سے ایک کو انسان کی عمر اور دوسری کو اس کا پیمانہ ¿ ذہانت کہا جا سکتا ہے۔

جہاں تک عمر کا تعلق ہے تو یہ ایک یونیورسل صداقت ہے کہ سن ِ بلوغت تک پہنچنے سے پہلے اس کی خوشیوں کا حجم اس کے غم کے حجم سے زیادہ ہوتا ہے۔ کوئی بچہ یا بچی اور کوئی کمسن لڑکا یا لڑکی اس حقیقت سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ کم سنی میں احساس ِ غم، کم ہوتا ہے۔ شائد فطرت خود یہ اہتمام کرتی ہے کہ بلوغت سے موت تک تو پھر انسان، غم وانددہ کے حصاروں میں گھرتا چلا جاتا ہے۔ اس لئے سنِ شعور تک پہنچنے سے پہلے پہلے فطری خوشیوں کا جتنا مواد سمیٹا جا سکتا ہو، انسانی فطرت اس کے اہتمام میں پیش پیش رہتی ہے۔

 دُنیا کی ہر قوم میں خوشی اور غمی کے تہوار آتے ہیں جو سالانہ گردشوں کے سکیل کے مطابق بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ مسلم معاشروں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ عید، بقر عید، شب ِ برا¿ت، شب ِ معراج کے ساتھ مسرتیں وابستہ ہوتی ہیں اور محرم الحرام اور مختلف قومی شخصیتوں کے ایام ِ وفات یا قومی سانحات کے ساتھ غم منسلک ہوتا ہے.... مَیں یہ بات قومی سطح کے تناظر ہی میں کر رہا ہوں۔

انفرادی سطح پر بھی ہر فرد و بشر کے اپنے اپنے ایام ِ غم اور لمحات ِ مسرت ہوتے ہیں، جن کو انفرادی اور خاندانی سطحوں پر منایا جاتا ہے.... اور یہ جو کم عمری میں خوشیوں کا احساس زیادہ اور غم کا احساس کم ہوتا ہے تو فطرت ان محسوسات کا اظہار کرنے میں ایک محدود پیمانے پر غموں کو خوشیوں پر مسلط ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ خاندان کے بزرگ اور بالغ حضرات پر مایوسی اور حسرت کے جیسے اور جتنے بھی جذبات طاری ہوں وہ اپنی نئی نسل کی خوشیوں میں ”بالجبر“ شریک ہو کر اپنے بچوں کو انجوائے کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان کا اپنا دل چاہے یا نہ چاہے ،وہ اپنے غم کو اپنے بچوں کی خوشی میں بھلانے اور دبانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

آج عیدالفطر ہے.... کسی صاحب ِ ہوش و خرد پاکستانی سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ آج اس روزِ سعید کے موقع پر آپ کے تاثرات کیا ہیں تو وہ جو جواب دے گا وہ اس جواب سے بالکل مختلف ہو گا جو ایک کم عمر لڑکا یا لڑکی دے گی۔ مطلب یہ ہے کہ شعور کی ڈویلپمنٹ کے ساتھ ساتھ خوشیوں کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے یا ان کے اظہار کے طریقے تبدیل ہوتے جاتے ہیں.... چاند رات کی شاپنگ، میلوں ٹھیلوں میں شرکت اور دوست احباب کے ساتھ غل غپاڑہ مچانے کو ان بزرگوں کا دل نہیں کرتا یا وہ اس حرکت کو شائد نادانی اور بے وقوفی سمجھتے ہوں۔ لیکن یہی نادانی اور یہی بے وقوفی، بچوں اور بچیوں کا سرمایہ ¿ حیات ہے۔ وہ جب بڑے ہو جاتے ہیں تو بچپن کے ان ایام کو یاد کر کر کے ان کو ”ماضی کی حسین یادوں“ کا نام دیتے ہیں۔ یہی یادِ ماضی ناسٹلجیا بھی کہلاتی ہے۔ یہ حَسین یادیں لاکھ بے ہنگم، بے ہودہ اور بے وقوفانہ کیوں نہ ہوں، ہر انسان کو بالغ ہونے کے بعد محظوظ کرتی رہتی ہیں۔ جوں جوں انسانی عمر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، احساس غم یا احساس ِ شعور کی پرتیں تبدیل ہوتی جاتی ہیں۔ پھر انسان کبھی شیلے بن کر یہ کہتا ہے کہ ”ہمارے غم افروز لمحات، اصل میں ہمارے خوشگوار ترین لمحات ہوتے ہیں“ یا کبھی غالب بن کر یہ کہتا ہے کہ ”انسانی زندگی قید ِ حیات و بند ِ غم کا نام ہے“۔ یا کبھی اقبال بن کر یہ کہتا ہے:

موج ِ غم پر رقص کرتا ہے حبابِ زندگی

ہے الم کا سورہ بھی جزوِ کتابِ زندگی

14اگست1947ءکو پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ اس روز ماہِ رمضان کی27تاریخ تھی۔ دو تین دن کے بعد یعنی17یا18اگست1947ءکو عیدالفطر منائی گئی تھی۔ یہ وہ ایام تھے جو انتہائی افراتفری اور اضطراب و اضطرار کے ایام تھے۔ مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کی لاشوں سے اٹی گاڑیاں پاکستان آ رہی تھیں۔ ہمارے پنجاب میں بھی سکھوں اور ہندوﺅں کے ساتھ یہی سلوک کیا جا رہا تھا۔ ایک لوٹ مار اور خونریزی کا عالم تھا۔ مجھے یاد ہے میری عمر اس وقت چار پانچ سال کی تھی لیکن ہمیں کچھ خبر نہ تھی کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ ہم اس روز جیب میں ”آٹھ آنے“ ڈالے اور نئے کپڑے پہنے عید گاہ میں گئے تھے اور آتے ہوئے عبداللہ شاہ گراﺅنڈ پاک پتن میں ہجومِ مرد و زن کو پھلانگتے ہوئے گھر آئے تھے اور پھر دوپہر کو جب تک آٹھ آنے کے اللّے تللّے نہیں کر لئے تھے ،تب تک چین نہیں آیا تھا۔

اتنے برس گزر جانے کے بعد آج گردو پیش پر نظر جاتی ہے تو آج بھی یہی عالم ہے۔ آج سارے پاکستان میں ریڈ الرٹ ہے، مسجدیں مقتل بن رہی ہیں۔ گلیوں، بازاروں اور شاہراہوں پر خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ میڈیا کئی ہفتوں بلکہ برسوں سے ان مناظر کو تمام بچوں، جوانوں اور بزرگوں کو دکھا رہا ہے۔ آج ”بالغ اور باشعور“ افراد،مایوسیوں اور ناامیدیوں کی چار دیواریوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہم جیسے بزرگ جو نانا اور دادا بنے بیٹھے ہیں، ہم ایک طرف تو اس جاری صورت ِ حال سے انتہائی غمگین ہیں لیکن دوسری طرف اپنے نواسوں، نواسیوں، پوتے اور پوتیوں کی خوشیوں کے رنگ میں بھنگ ڈالنا نہیں چاہتے۔ ہم چاند رات میں بھی ان کو بازاروں میں لے جا کر شاپنگ کراتے ہیں اور عید کے دن، ان مقامات کی سیر کروانے پر ”مجبور“ ہیں جن میں ”طالبان“ کے حملوں کا خطرہ ہے!

میڈیا اگر ایک طرف دھماکوں اور قتل و غارت گری کے مناظر آن ائر کر رہا ہے تو ساتھ ہی چاند رات کی خریداری کی چکا چوند بھی دکھائی جا رہی ہے، خواتین اور بچیاں ہاتھوں پر مہندی لگا رہی ہیں، نئے کپڑے سلوا رہی ہیں۔ عید پر سپیشل تفریحی پروگرام دکھائے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی جہاں دھماکے ہوتے ہیں، انسانی خون کی ارزانی ہوتی ہے، لاشے گرتے ہیں اور ایمبولینسوں کا شور کان پھاڑے دیتا ہے، وہ بھی دکھا رہے ہیں۔ گویا ہم کو اس عالمگیر سچائی کے ثبوت نظر آ رہے ہیں کہ غم اور خوشی دونوں سے مفر نہیں۔ کسی ایرانی شاعر کا شعر ہے کہ ”ہمیں دنیا کے غموں اور خوشیوں سے نہ تو غمگین ہونا چاہئے اور نہ خوش کہ اس دنیا کا مزاج کبھی ”یوں“ ہوتا ہے اور کبھی ”یاں“ بن جاتا ہے“۔

ز رنج و راحتِ گیتی مشو خرّم مرنجاں دل

کہ اندازِ جہاں گاہے چناں باشد، چنیں گاہے

 لیکن مَیں آج اپنے قارئین کو نہ تو ان خطرات کی تفصیلات بتانا چاہوں گا جو ملک کو بیرونی ممالک کی طرف سے لاحق ہیں اور نہ ہی ان چیلنجوں کو دہرانا چاہوں گا جو پاکستانی معاشرے کو اندر سے درپیش ہیں۔ ان کا احوال آپ ہر روز، صبح و شام و شب دیکھتے اور سنتے ہیں۔ یہ کالم میں آپ کو اُس دور میں لے جانے کے لئے لکھ رہا ہوں جس کو مَیں نے قبل ازیں بچپن اور لڑکپن کا دور کہا ہے۔ چاہتا ہوں کہ آج کے دن ایک نوجوان، جوان اور بزرگ ہوتے ہوئے بھی اور شعور و ادراک کی ساری تفہیم رکھتے ہوئے بھی، اس ناسٹلجیا سے لطف اندوز ہوں، جس کے بارے میں شاعرِ مشرق نے کہا تھا:

علم کی سنجیدہ گفتاری، بڑھاپے کا شعور

دینوی اعزاز کی شوکت، جوانی کا غرور

زندگی کی اوج گاہوں سے اُتر آتے ہیں ہم

صحبت ِ مادر میں طفل ِ سادہ رہ جاتے ہیں ہم

بے تکلف خندہ زن ہیں، فکر سے آزاد ہیں

پھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیں

یہ کھویا ہوا فردوس اور جنت گم گشتہ جس کو اقبال نے ماں کی گود کا نام دیا ہے، وہ یہی ، فطرت کی گود بھی تو ہے.... فطرت کی گود بھی آغوش ِ مادر سے کم نہیں ہوتی۔ اگر ہم 365 دنوں میں ایک دن آغوش ِ فطرت میں بیٹھ کر خندہ زن ہونے کا ارتکاب کر لیں تو کیا برائی ہے اس میں؟

 سوگواری، ناامیدی اور غم و الم کو ”منانے“ کے لئے باقی 364دن پڑے ہوئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان سے جان نہیں چھوٹے گی۔ گزشتہ دو عشروں سے ہم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ہر روز میڈیا پر ہمارے اندرونی اور بیرونی مسائل اور ان کے حل کی سفارشیں پیش کی جاتی ہیں۔ بڑے بڑے ”آزمودہ“ اور جغادری مبصرین کے ان ارشادات سے مستفیض ہوتے ہیں جو جانے کتنی درجنوں بار پہلے سن اور دیکھ چکے ہیں۔ لیکن اگر پہلے ہماری زمین نے کبھی ”جنبش“ نہیں کی تو آج بھی کوئی زلزلہ، کوئی بھونچال نہیں آ جائے گا۔ آپ اور مَیں اگر آج کے روز اپنی ”خرچ شدہ“ بیٹری کو چارج پر لگا دیں تو شائد آنے والے چند دِنوں تک زندگی کے نہ ختم ہونے والے مصائب کا سامنا کرنے کے قابل ہو جائیں!

گرچہ منزل بس خطرناک است و مقصد ناپدید

 ہیچ را ہے نیست کو را نیست پایاں، غم مخور!

(اگرچہ منزل خطرناک اور دور ہے اور مقصد اوجھل ہے،لیکن غم نہ کر کہ کوئی راستہ ایسا نہیں جس کی انتہا نہ ہو)      ٭

مزید :

کالم -