ڈرون حملے اور پاک امریکہ سٹرٹیجک تعلقات(2)

ڈرون حملے اور پاک امریکہ سٹرٹیجک تعلقات(2)
ڈرون حملے اور پاک امریکہ سٹرٹیجک تعلقات(2)

  



2012ءامریکہ میں صدارتی انتخاب کا سال تھا اور سال کے آغاز ہی سے انتخابی گہما گہمی کا آغاز ہو چکا تھا۔ دوسری صدارتی مدت حاصل کرنے کے لئے بارک حسین اوباما کو مٹ رومنی کو شکست سے دوچار کرنا تھا جس میں وہ کامیاب ہو گئے۔2012ءکا امریکی صدارتی انتخاب امریکی معیشت میں بہتری کو بنیاد بنا کر لڑا گیا، کیونکہ2005ءسے2010ءکا درمیانی عرصہ امریکی عوام کے لئے معاشی مشکلات سے بھرپور تھا جس میں بہتری کے لئے صدر اوباما نے کافی کوششیں کیں، لہٰذا وہ اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے رہے (اور اس میں کامیاب بھی ہو گئے) خارجہ پالیسی کے حوالے سے دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان ایک مباحثہ ہوا، لیکن اس میں بھی ڈرون حملوں کے حوالے سے زیادہ بات نہ ہوئی۔ خود رپبلکن صدارتی امیدوار مٹ رومنی نے اس حوالے سے صدر اوباما سے زیادہ سخت رویہ اپنایا۔ 2012ءمیں سی آئی اے کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کئے جانے والے ڈرون حملوں کی تعداد48تھی جن میں امریکیوں کے دعوﺅں کے مطابق 268عسکریت پسند، پانچ عام شہری اور 33 نامعلوم افراد ہلاک ہوئے۔ یوں2012ءمیں کل306 افراد اِن حملوں کی بدولت جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مارچ2008ءسے2013ءکے دوران قائم رہنے والی پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت پر اس وقت کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) (موجودہ حکمران جماعت) نے بارہا یہ الزام عائد کیا کہ وہ ڈرون حملے رکوانے میں سنجیدہ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ موجودہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف (جو اس وقت پارلیمنٹ سے باہر تھی، لیکن اب خیبرپختونخوا میں اس کی حکومت ہے) نے بھی پیپلزپارٹی کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر وہ (تحریک انصاف) اقتدار میں آئی تو امریکی ڈرون گرانے کے لئے پاک فضائیہ کو حکم جاری کرے گی۔ اگرچہ اب تحریک انصاف کے پاس مرکزی حکومت تو نہیں کہ وہ ڈرون گرانے کے حوالے سے کسی قسم کا حکم جاری کر سکے، لیکن اس کی صوبائی حکومت بھی اس حوالے سے کوئی سخت ردعمل ظاہر کرنے سے قاصر رہی ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی زمینی دہشت گردی اس بات کو واضح کر رہی ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے کسی قسم کی بھی حکمت عملی بنانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اس لئے امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے حالیہ دورہ میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ حکومت پاکستان شدت پسندوںسے نمٹنے کے لئے موثر پالیسی اپنائے ورنہ ڈرون حملوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکہ کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ چونکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ریاست کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے وہ وہاں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے اس لئے شدت پسندوں کے خاتمے کے لئے وہ ڈرون حملے کرنے پر مجبور ہے۔ مئی2013ءکے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اگرچہ اپنی پیشرو حکومت کے برعکس اس حوالے سے نسبتاً سخت موقف اپنایا ہے، لیکن تاحال ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ 2013ءمیں گزشتہ سالوں کی نسبت ان حملوں کی تعداد کم ہی ہے، لیکن امریکہ نے ڈرون حملے کے موجودہ پاکستانی موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ 2013ءمیں ہونے والے14ڈرون حملوں میں 78 عسکریت پسند اور چار عام شہری ہلاک ہوئے۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے تحقیقاتی صحافت کے برطانوی ادارےThe Bureau of Investigative Journalism نے پاکستانی علاقوں میں ہونے والے سی آئی اے کے اعداد و شمار کو مسترد کر دیا ہے۔ سی آئی اے کے مطابق جون2004ءسے اگست2013ءکے دوران ہونے والے 357 ڈرون حملوں میں 2224 عسکریت پسند،286عام شہری اور270نامعلوم افراد ہلاک ہوئے۔ یوں ہلاک شدگان کی کل تعداد 2780 ہے جبکہThe Bureau of Investigative Journalism کے مطابق سی آئی اے نے370 ڈرون حملے کئے جن میں890 عام شہری،197بچے اور دیگر3549 افراد ہلاک ہوئے۔ مزید یہ کہ 1480 افراد ان حملوں کی بدولت دائمی معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ میں ڈرون حملوں سے متعلق پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں1500 عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد صرف47ہے۔

باوجود اس کے کہ امریکی ڈرون حملوں نے پاک امریکہ سٹرٹیجک تعلقات کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ امریکی ڈرون حملوں کی حمایت ترک کرنے پر تیار نہیں دکھائی دیتے۔25مارچ2010ءکو امریکی محکمہ خارجہ کے مشیر ہاراولڈ کوہ نے یہ بیان دیا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کا قانونی جواز موجود ہے کیونکہ ہم (امریکی) یہ حملے ذاتی تحفظ کے حق کو استعمال کرتے ہوئے کر رہے ہیں۔ ایک سابق سی آئی اے اہلکار نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ جس شخص کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانا مقصود ہو اس کے لئے ایک خاص میکانزم کو استعمال کیا جاتا ہے، جس کی بدولت غلطی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اگرچہ دو سابق پاکستانی حکمرانوں جنرل پرویز مشرف اور یوسف رضا گیلانی نے امریکی ڈرون حملوں کو دہشت گردی کے خاتمے میں معاون قرار دیا لیکن اس کے باوجود پاکستانیوں کی اکثریت ان ڈرون حملوں کو ملکی خود مختاری کے منافی سمجھتی ہے۔8ستمبر2008ءکو پاکستانی فوج کے ترجمان نے ڈرون حملوں کے ذریعے عام پاکستانیوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں گہری خلیج پیدا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل کو آگے بڑھانے کے لئے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ پاکستان اپنی سرحد سے افغانستان میں ہونے والی عسکری کارروائیوں کا تدارک کرے جس کے لئے اسے ملک کے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرنا ہو گا۔ امریکی دفاعی تجزیہ کار شان مارشل کے مطابق امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان ایک بھرپور حکمت عملی کے تحت اپنے قبائلی علاقوں کو عسکریت پسندوں سے پاک کرے۔ دوسری جانب پاکستانی عسکریت و سیاسی قیادت اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ ڈرون حملے رکوائے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان نہ تو سٹرٹیجک تعلقات بہتر ہوں گے اور نہ ہی اعتماد کی فضا قائم ہو گی۔(ختم شد)   ٭

مزید : کالم