خیال کا سفر

خیال کا سفر

خیال کا سفر ، توارد، سوچ کی یکسانیت،چربہ، یا سرقہ، یہ وہ موضوع ہے ، جس پر ایک زمانے میں، مَیں نے اپنے ”پاکستان“ میں تواتر سے لکھا، بہت لکھا اور پھر اسی موضوع پر میرے مطبوعہ کالموں بعنوان ”بادِ شمال“ کی مدد سے رحیم یار خان کے ایک پروفیسر صاحب نے ”ڈاکٹریٹ“ کی ڈگری بھی لے لی۔ پروفیسر ڈاکٹر نذر خلیق آج کل اسلام آباد میں پڑھا رہے ہیں۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ روشنی سے روشنی پھیلتی ہے.... چراغ سے چراغ ضرور جلاو¿ مگر اعتراف تو کرو.... میری غزل کا ایک بہت پرانا مطلع ہے:

چاہتے ہو اور کیا فنکار سے

روشنی لے لو مرے افکار سے

مَیں روشنی پھیلانے کی کوشش کرتا ہی رہوں گا مگر یارو شکریہ نہ ادا کرو۔ اعتراف تو کرو.... ایک مدت بعد پھر حاضر ہوں عید کے دن اچھے اشعار پڑھئے اور لطف اُٹھائیے!

میرے آقا نے بُلایا ہے مدینے مجھ کو

اب تو مل جائیں گے جینے کے قرینے مجھ کو

        محمد یٰسین قریشی

کتنا اعزاز دیا عشقِ نبی نے مجھ کو

آپ بُلوایا ہے آقا نے مدینے مجھ کو

         ناصر زیدی

ملی ہے جب سے نویدِ درِ حضور مجھے

 یہ میرا دل تو سنبھلتا نہیں سنبھالے سے

        عرفان صادق

جُدا ہُوا تھا تو یادیں بھی ساتھ لے جاتا

یہ بوجھ اب تو سنبھلتا نہیں سنبھالے سے

         ناصر زیدی

لے سانس بھی آہستہ کہ یہ شہرِ نبی ہے

آداب سے چلتی ہے صبا دیکھ رہا ہوں

        شیخ صدیق ظفر

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہہ شیشہ گری کا

       خدائے سخن میر تقی میر

خواہش پہ مجھے ٹوٹ کے گرنا نہیں آتا

پیاسا ہوں مگر مجھ کو تو دریا کی طلب ہے

        سلطان رشک

خواہش یہ مجھے ٹوٹ کے گرنا نہیں آتا

پیاسا ہوں مگر ساحلِ دریا پہ کھڑا ہوں

      پروفیسر سجاد باقر رضوی

مٹھی سے جس طرح کوئی جگنو نکل پڑے

دیکھا اُسے تو آنکھ سے آنسو نکل پڑے

       میثم علی آغا(سیالکوٹ)

دیکھا اُسے تو آنکھ سے آنسو نکل پڑے

دریا اگرچہ خشک تھا پانی تہوں میں تھا

         ناصر زیدی

یوں ملا وہ، نہ ملا ہو جیسے

یہ بھی اک اس کی ادا ہو جیسے

        ڈاکٹر شبیہہ الحسن

وہ یوں ملا ہے کہ جیسے کبھی ملا ہی نہ تھا

ہماری ذات پہ جس کی عنایتیں تھیں بہت

         ناصر زیدی

دیکھئے قسمت ہماری دیکھئے

مر گئے تو یاد فرمایا گیا

        ڈاکٹر شبیہہ الحسن

اس کو ناقدریءعالم کا صلہ کہتے ہیں

مرچکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا

          چکبست

 اس شہر کے ذرے ہیں مہ و مہر سے بڑھ کر

جس شہر میں اللہ کے محبوب کا گھر ہے

         کوثر نیازی

محمد کا جہاں پر آستاں ہے

زمیں کا اتنا ٹکڑا آسماں ہے

         امام دین گجراتی

ہے یقیں حشر میں اٹھوّں گا ترے قدموں سے

کیا غرض اس سے کہ تدفین کہاں ہو میری

         ڈاکٹر ریاض مجید

مانوس ہوں اتنا تری کربل کی زمیں سے

مَیں دفن کہیں ہوں ، مگر اٹھوں گا وہیں سے

        ڈاکٹر حسن رضوی

اُن کی یاد، اُن کی تمنا، اُن کا غم

کٹ رہی ہے زندگی آرام سے

         شکیل بدایونی

اُن کا ذکر، اُن کا تصور، اُن کی یاد

کٹ رہی ہے زندگی آرام سے

         محشر بدایونی

اندھیری رات ہے سایہ تو ہو نہیں سکتا

تو پھر یہ کون مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے

        انجم خیالی (لندن)

کبھی خیال کی صورت، کبھی صبا کی طرح

وہ کون ہے جو مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے

       اختر سعیدی(کراچی)

ہر مصیبت سے گزر جاتا ہوں ہنستا کھیلتا

اُن کے در سے پیش آتی ہی نہیں مشکل مجھے

       سراج الدین سراج

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے

 اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

         اصغر گونڈوی

ہماری آنکھوں میں بے وجہ آگئے آنسو

یقین کیجے کسی بات پر نہیں آئے

        مسرور جالندھری

یونہی آنکھوں میں آگئے آنسو

جائیے آپ کوئی بات نہیں

        سلام مچھلی شہری

اک عمر کی محنت کا یہ پھل پائیں گے ہم لوگ

مٹی کی ردا اوڑھ کے سو جائیں گے ہم لوگ

       مسرور جالندھری

رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھی

سو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی

         احسان دانش

شاید آجائے کسی وقت لبِ بام وہ چاند

شام سے صبح تلک بند دریچہ نہ کیا

        مسرور جالندھری

مَیں تو سائل تھا صدا دے کے گزرنا تھا مجھے

تو نے کیوں شام تلک بند دریچہ نہ کیا

        ذوالفقار رضوی

کچھ کچھ مری آنکھوں کا تصرّف بھی ہے شامل

اتنا تو حسیں تُو مرے گلفام نہیں ہے

           عدم

سودا جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ

کیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا

           سودا

رہ کے پھونکوں سے بجھا سکتے نہ تھے

چھوڑ آئے آشیاں جلتا ہوا

         نذیر دہقانی

زینتِ اغیار کلیاں ہوگئیں

غیرتِ اہلِ چمن کو کیا ہوا

         نذیردہقانی

غیرتِ اہلِ چمن کو کیا ہوا

چھوڑ آئے آشیاں جلتا ہُوا

       مولانا فنا نظامی کانپوری

اور کالم کے آخر میں میر انیس کا ایک مشہورِ زمانہ شعر:

لگا رہا ہوں مضامینِ نو کے پھر انبار

خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو

مزید : کالم