مسلمانوں کو عیدالفطر مبارک

مسلمانوں کو عیدالفطر مبارک

  

رمضان المبارک کے مہینے میں ڈھیروں نیکیاں کمانے اور اللہ کی رضا پر صبر اور ضبطِ نفس سے کام لینے والے تمام مسلمانوں کو عید الفطر مبارک ہو۔! نئے نئے لباس زیب تن کئے اور مزیدارپکوانوں سے لطف اندوز ہونے والے ننھے بچوں کو خاص طور پر عید کی خوشیاں مبارک۔ لوڈ شیڈنگ ، مہنگائی ، دہشت گردی اور دوسرے مسائل میں گھری ہوئی قوم نے رمضان کے پورے مہینے میں خوب نیکیاں کمائیں اور اپنے اللہ سے یہ دعائیں کی ہیں کہ وہ ہمیں ان مصائب سے نجات دے۔ ہماری خطائیں معاف فرمائے اور ہماری مدد کرے۔ نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کی گئی دعاﺅں کا اثر یقینا ہوتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ یہ دنیامصائب اور آزمائش کی جگہ ہے۔اللہ ہمیں مال و دولت اور قوت و اختیار دے کر بھی آزماتاہے اور مشکلا ت میں ڈال کر غربت ، بھوک اور بیماری سے بھی۔مسلمان کی خوشی اور اطمینان ہمیشہ اس بات میں ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرے اور احکم الحاکمین کی اطاعت و فرمانبرداری سے منہ نہ پھیرے۔ رمضان کے مبارک مہینے میں روزے رکھنے اورعبادات کا حکم دیا گیا ہے۔ اس مبارک ماہ میںہر نیکی کا ثواب کئی گنا زیادہ ہے۔ روزہ کے دوران اللہ ہمیں بھوک اور پیاس سے آزماتا ہے۔ عید کے روز ہم اس آزمائش میں پورا اترنے اور اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنے پر خوشی مناتے ،اور اپنے پروردگار کی اطاعت اور عبادت سے حاصل کردہ اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ غریبوں اور بے وسیلہ لوگوں کی مدد کرکے انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل کرتے ہیں۔ عید کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ مسلمان کے نزدیک اصل کامیابی مال ودولت جمع کرلینے یا فتح اور اقتدار پالینے میں نہیں ۔ حقیقی کامیابی اپنے نفس کو فتح کرنے اور اللہ کی رضامندی کے لئے ایثار و قربانی اور نیکی و بھلائی میں ہے۔ سارے جہانوں کا مالک اللہ ہے جو ہر چیز پر قادر اور ہر کسی سے زیادہ طاقتور ہے۔ دنیا کی وقتی اور ظاہری طاقت رکھنے سے کہیں زیادہ طاقتور وہ لوگ ہیں جو کل جہانوں کے مالک کی نظرمیں پسندیدہ اور اس کے قریب ہیں۔ عید الفطر کے علاوہ ہماری خوشی کا دوسرا بڑا موقع عید الاضحی ہے ، یہ عید حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ اس روز ہم حضرت ابراہیمؑ کی طرف سے اللہ کی رضا مندی کے لئے اپنے بیٹے تک کو ذبح کرنے پر آمادہ ہوجانے ، اور اس آزمائش پر پورا اترنے کی خوشی مناتے ہیں۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایک سچا مسلمان کن باتوں میں خوشی تلاش کرتا ہے، اور کن باتوں پر مغموم ہوجاتا ہے۔ خوشی اور غم کا یہ بنیادی فلسفہ ہی ہمارے دین و مذہب کی بنیاد ہے ۔ ہم نیکی کرکے خوش ہوتے ہیں۔ اپنے نفس کو قابو میں لا کر ہمیں اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ دوسروں کی بھلائی اور قوم و ملک کے لئے قربانی کرنے سے ہمیں حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے محنت و ریاضت ہمیں مسرت و انبساط بخشتی ہے۔ دکھ اور پریشانی سے نکلنے کے لئے ہم اپنی کوشش اور محنت کے علاوہ اللہ کی تائید و نصرت کی طرف بھی دیکھتے ہیں۔ یہ جاننے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں ہم کیوں ناکام رہے ہیں ، ہم سے کیا کو تاہیاں ہوئی ہیں۔ ؟   

بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیںکہ ان کو طرح طرح کے مصائب و مشکلات کا سامنا ہے ، اس لئے وہ عید کیسے منا سکتے ہیں۔ ؟ ہمارے معاشرے میں اس وقت لاکھوں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے قریبی عزیز و اقارب دہشت گردوں کی ظالمانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ بے شمار ایسے لوگ ہیں جو آجکل سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہیں ، جن کے گھر پانی میں ڈوب گئے ہیں اور ان کے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ ہے نہ پیٹ بھرنے کا کوئی وسیلہ۔ لوڈ شیڈنگ سے انڈسٹری بند ہو جانے سے لاکھوں لوگ بے روز گار ہوچکے ہیں۔ کروڑوں لوگ ناکارہ عدالتی نظام ، ظالم اور بدعنوان پولیس ، قبضہ گروپوں اور ظالم حاکموں کے مسلح غنڈوں کے مظالم کا شکار ہیں اور زندگی سے بیزار بیٹھے ہیں۔ جو آسود ہ حال لوگ ان مصائب کا شکار نہیں ہوئے ان کی طرف سے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا جانا چاہئیے اورشکر ادا کرنے کا احسن طریقہ یہی ہے کہ وہ ان مصائب میں گھرے ہوے انسانوں کی خبر لیں ، ان کی دستگیری کریں، ان میں خوشیاں بانٹیں۔ ان کے لئے اپنی عید کی خوشیاں سہ چند کرنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔ جو لوگ ماڈرن علاقوں میں رہتے ہیں ، انہیں اپنے علاقوں سے نکل کر سیلاب میں گھرے ہوئے یا دوسرے دور دراز کے پسماندہ اور غریب اور بالخصوص دیہی علاقوں تک پہنچنا چاہئیے جہاں غربت و افلاس اپنی تمام تر اذیتوں اور مصیبتوں کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف عید کے موقع پر امراءاور خوشحال لوگوں کے وسائل اورآسودگی اور اپنی مالی پسماندگی دیکھ کر پریشان ہونے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہئیے کہ وہ یہ عید اپنے وسائل کی خوشی میں نہیں منا رہے، بلکہ رمضان کے مہینے میں اپنی رضا کو اللہ کی رضا کے تابع کرنے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنے اور صبر و استقامت کا ثبوت دینے کی خوشی منا رہے ہیں۔ اس طرح عید کی حقیقی خوشی ایسی خوشی ہے جس کے منانے کے لئے انسان کے مالی وسائل یا مسائل کچھ فرق پیدا نہیں کرسکتے۔

عید کے روز اسلامیان عالم اللہ کی رضا اور اس کے حصول کے لئے ضبط نفس کے اصول کی بنیاد پر رمضان کے روزوں اور عبادات کے بعد خوشی منا نے اورر نماز عید کی صورت میں شکرانے کے نوافل اداکرکے اپنی ملی یک جہتی اور اسلامی بھائی چارے کا بے مثل مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ رمضان کے مبارک مہینے میں بڑے پیمانے پر صاحب نصاب لوگوں کی طرف سے ضرورت مندوں ، محتاجوں اور مساکین میں زکوٰة اورصدقات تقسیم کئے جاتے ہیں۔ جس سے محروم طبقات کو بہت کچھ مل جاتا ہے۔ لیکن اس سارے عمل میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اچھے خاصے صحتمند اور غیر مستحق لوگ بہت زیادہ مستعد رہتے ہیں ، جو لوگ اپنی انا یا سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لئے کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے وہ کسی بھی طرف سے کسی طرح کی امداد و اعانت سے محروم رہتے ہیں۔ بہت سی فلاحی تنظیمیں بھی عدیم الفرصت امراءسے اربوں روپے بٹور کر گھپلے کرتی اور ان رقوم کو مستحقین تک پہنچانے میں ناکام رہتی ہیں۔ اس لئے سب سے اچھا طریقہ دور دراز کے پسماندہ اور افلاس زدہ یا آفات کی زد میں آئے ہوئے علاقوں تک خود پہنچنا اور اپنے ہاتھ سے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنا ہے۔یہ کام اہل ثروت جتنا زیادہ اپنے ہاتھوں سے کریں گے اس میں ان کے لئے نیکی او ر ثواب بھی اتنا ہی زیادہ ہے اور معاشرے کے حقیقی مصیبت زدہ افراد کی بھلائی کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ روشن ہیں۔

آج ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جہاں اسلامیان پاکستان اپنی عبادات اور ضبط نفس کے لئے اپنے اللہ کے آگے سجدہ ءشکر ادا کرنے جارہے ہیں وہاں انسانیت دشمن دہشت گرداپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ کوئٹہ میں ایس ایچ او کی نماز جنازہ میں دھماکہ کر دیا گیا ہے جس میں ڈی آئی جی سمیت25اہلکار جاں بحق ہوگئے ہیں۔ ہماری عید کی خوشیوں پر بے گناہ انسانوں کے خون کے پیاسے ، دشمن کے ایجنٹ دہشت گردوں کی طرف سے حملوں کے خدشات اور امکانات سایہ فگن ہیں۔ جس کے لئے سیکورٹی ایجنسیز کے اہلکاروں کی عید کی چھٹیا ں منسوخ کردی گئی ہیں اور عوام کو کسی بھی طرح کی دہشت گردی کی کارروائیوں سے خبردار رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔

دراصل ہماری قوم پرایسا وقت آن پڑا ہے کہ ہر محب وطن شہری کو کئی لحاظ سے چوکس اور متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔ ملک و ملت کے دشمن اپنی دہشت گردکارروائیوں میں جس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں اوران کے جہاں جہاں ٹھکانے ممکن ہیں اس سے قوم آگاہ ہوچکی ہے۔ ان سے ہمدردی رکھنے اوران کی انسانیت سوز کارروائیوں کے لئے قوم کو ترنوالہ بنانے والوں سے بھی ہم آگاہ ہو چکے ہیں۔ ان سب کا ناطقہ بند کرنے کے لئے ہم سب کو سرگرم ہونا ہوگا۔ تمام مشکوک لوگوں پر نظر رکھنا ہوگی ، اور یہ سب کچھ صرف سیکورٹی ایجنسیوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس وقت ہم حالت جنگ میں ہیں۔ کوئی بھی فوج عوام کی تائید و حمایت اور سرگرم تعاون کے بغیر کوئی جنگ نہیںجیت سکتی۔ عید کی خوشیاں مناتے ہوئے اور عید کے بعد بھی ہمیں اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔

مہنگائی کا خاتمہ ہم اشیاءکی غیر ضروری خریداری کم یا ختم کرکے کر سکتے ہیں۔ اس میں وسائل اور بے وسائل والے سب لوگوں کو رضاکارانہ طور پر خود پر کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح عام صارفین بجلی کی بچت کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ گیس کے گھریلو استعمال میں بچت کے لئے بھی بہت سی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔بلا ضرورت پانی ضائع کرنے سے گریز کے ذریعے بھی ہم قوم کے اجتماعی مفادمیں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔اب یہ چیزیں ہمارے لئے چوائس نہیں بلکہ ہماری مجبوری اور ناگزیر ضرورت بن چکی ہیں۔ایسی ضرورتوں سے آنکھیں بند رکھنے کا مطلب قوم کے مسائل میں اضافہ کرتے چلے جانا ہے۔ عید کے موقع پر رنگ برنگے لباس پہنے خوش خوش دوست احباب اور رشتے داروں سے ملاقاتیں کرتے اور عید کے بعد ٹرو اور مرو کے میلے سجاتے وقت ہمیں اپنی ایسی خوشیوں میں اضافہ کرنے اور انہیں حقیقی بنانے کے پہلوﺅں پر ضرور غور کرنا چاہئیے۔ یہ سوچنا چاہئیے کہ کیا ہم سب اپنی سطح پر اپنی قومی ذمہ داریوں کا احساس اور انہیں پورا کرنے کے لئے کچھ کئے بغیر پاکستان کے اچھے لوگوں کی خوشیوں اور امن و سکون کو قائم رکھ سکتے ہیں۔؟ اللہ ہماری رمضان المبارک کی عبادات قبول کرتے ہوئے ، ہمیں اس سلسلے میں صحیح سوچ اور درست راہ عمل اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)        ٭

مزید :

اداریہ -