میاں صاحب ! افسوس کے لی¿ے حاضر ہونا چاہتا ہوں

میاں صاحب ! افسوس کے لی¿ے حاضر ہونا چاہتا ہوں
میاں صاحب ! افسوس کے لی¿ے حاضر ہونا چاہتا ہوں

  

وضع دار اور رکھ رکھاو¿ والے خاندانوں میں عید پر ان پیاروں کا افسوس کیا جاتا ہے جوکچھ عرصہ قبل انتقال کر گئے ہو ں اگر میں ووٹوں کی بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب ہونے والے وزیراعظم سے عید کے موقعے پر وقت مانگ رہا ہوں تو یہ صرف ان کے پیارے ، نیک اور متقی بھائی میاں عباس شریف کے انتقال پرافسوس کے لئے نہیں ، جو اسی برس جنوری میں اللہ کو پیارے ہو گئے تھے بلکہ میں تو ان تمام لوگوں کا افسوس کرنا چاہتا ہوں جن کے میاں نواز شریف گیارہ مئی کے بعد راعی بن گئے ، وہ لوگ ان کی رعیت میں شامل ہو ئے جودہشت گردی کے افسوسناک واقعات میں مسلسل مارے جا رہے ہیں۔ مجھے افسوس ان بچوں کا کرنا ہے جولیاری میں فٹ بال میچ جیتنے کا جشن منا رہے تھے کہ وہاں بم دھماکہ ہو گیا، وہاں صوبائی وزیر جاوید ناگوری سمیت چوبیس افراد زخمی ہوئے، سات بچوں کی تدفین کے موقعے پر جو رقت آمیز مناظر تھے شائد وہ ہماری روایت ، ہماری عادت بنتے جا رہے ہیں۔۔۔ مجھے میاں صاحب سے بلوچستان سے پنجاب آنے والی آٹھ بسوں کے ان چودہ مسافروں کے قتل پر بھی افسوس کرنا ہے جنہیں مچھ کے قریب بسوں سے اتارا کر گولیوں سے بھون دیا گیا، بسوں سے اتارے جانے والے تئیس افراد میں سے سات لیویز کے اہلکاروں سمیت نو کو مقامی ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا ۔۔۔ افسوس تو شالیمار ایکسپریس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں جاں بحق ہوجانے والے اس بچے کا بھی کرنا ہے جو اس وجہ سے مارا گیا کہ اس ٹرین کے چلانے والوں سے پانچ کروڑ روپے بھتہ مانگا گیا تھا، بھتہ نہ دینے پربم دھماکہ کر دیا گیا۔۔۔ افسوس تو ان درجنوں کا بھی کرنا ہے جو ملک بھر میں بارشوں او ر سیلابی ریلوں سے ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوگئے کہ وہ بھی حکمرانوں کی رعیت میں آتے ہیں ۔۔۔ اور پھر افسوس تو ان بے گناہوں کا بھی کرنا ہے جو ڈرون حملوں میں مسلسل مارے جا رہے ہیں ۔ میں اپنے ذہن اور پچھلے اخبارات کی پرتیں مسلسل کھولتا چلا جا رہا ہوں اورجن کا افسوس کرنا ہے ان کی فہرست طویل ہوتی چلی جا رہی ہے۔مجھے دکھ سے بھرا یقین ہے کہ ابھی یہ فہرست مزید طویل ہو گی کیونکہ جان کیری نے پاکستان آکے کہا ہے کہ ڈرون حملے جاری رہیں گے اور میرے بہت سارے دوستوں کی رائے ہے کہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان دہشت گردی کے انسداد پر متفقہ حکمت عملی کے لئے بلائی جانے والی کانفرنس میں شرکت پر آمادہ نہیں ہوں گے ۔۔۔ تو اس کا مطلب کیا یہ ہوا کہ عمران خان کو ہر صورت کانفرنس میں شریک دیکھنے کے خواہاں ایسی کانفرنس ہی منعقد نہیںکریں گے ، جب کانفرنس منعقد نہیں ہوگی توکوئی حکمت عملی بھی نہیں بنے گی، جب حکمت عملی نہیں بنے گی تو اس پر عملدرآمد کی بھی کوئی امید نہیں رکھی جا سکے گی۔ جی ہاں ! جب ہمارے پاس دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوئی حکمت عملی ہی نہیں ہو گی تو یقینی طور پر دہشت گرد اپنی کارروائیاں محض قومی مفاد میں ترک کرنے پر تو ہرگز آمادہ نہیں ہوں گے۔

میری میاں صاحب سے افسوس کے لئے حاضر ہونے کی باقاعدہ درخواست ہے، اب یہ تو ممکن نہیں کہ میں جاتی امراءکی چیک پوسٹوں سے بغیر اپائنٹ منٹ اور اجازت کے گزر جاو¿ں مگر میرے بڑے بوڑھوں نے مجھے بتایا کہ عید، بقر عید اور شب برات جیسے تہواروں میں ہمارے انتقال کرجانے والے پیاروں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں۔ وہ روحیں ملاقات کے لئے چیک پوسٹوں لکھے نام کی محتاج نہیںہوتیں۔ میری اس درخواست پر ہو سکتا ہے کہ محترم آصف کرمانی یا محی الدین وانی جیسے کسی کرم فرما کا فون آجائے اور پوچھے کہ تم کس حیثیت سے افسوس کرنا چاہتے ہو تو میں انہیں بتاو¿ں کہ میں بطور صحافی، میاں نواز شریف کی بطور سیاستدان پندرہ ، بیس برس کوریج کرتا رہا ہوں۔ اب وضع دار اور رکھ رکھاو¿ والوں میں عید پر ان پیاروں کا افسوس کیا جاتا ہے جو انتقال کر گئے ہوںاور یہ افسوس ان کے پیچھے رہ جانے والے ذمہ داروں سے ہی کیا جاتا ہے۔ مشکوٰة شریف میں میرے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان درج ہے ” خبردار ! تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے سوال کیا جائے گا۔ پس جو امام لوگوںپر حاکم ہے اس سے اس کی رعایا کے بارے بھی پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر کا ذمہ دار ہے ، عورت اپنے خاوند کے گھر اور بچوںکی ذمہ دار ہے، آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دارہے، ان سے اس کے بارے پوچھا جائے گا“۔ یہی وہ تعلق ہے اور یہی وہ ذمہ داری ہے جس پر میں وزیراعظم نواز شریف سے افسوس کرنا چاہتا ہوں۔اس ذمہ داری کو حضرت عمر فاروق نے محسوس کیا تھا، انہوںنے فرمایا تھا کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک اور پیاس سے مرجائے تو وہ اس کے لئے جواب دہ ہوں گے۔اپنے انصاف کے لئے مثال بن جانے والے حضرت عمر فاروقؓ نے صرف اور صرف اپنی رعایا سے اپنے تعلق اور اپنی ذمہ داری کو واضح کرنے کے لئے یہ مثال دی ورنہ دریا کے کنارے پیاس سے مرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

مجھے امید ہے کہ عید جیسے خوشی کے موقعے پر مجھے میاں صاحب سے افسوس کرنے کی اجازت نہیں ملے گی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں جو لوگ مسلسل مارے جا رہے ہیں ان پرکسی دکھ، غم اور افسوس کا اظہار ہی نہ کیا جائے۔ مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ میں ایک عام شہری کے طور پر افسوس کا زبانی اظہار، اک صحافی کے طورپر اپنے قلم کا استعمال کرکے شائد بری الذمہ ٹھہروں مگر میاں نواز شریف صرف افسوس کا اظہار کر کے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہیں ہو سکتے۔ انہیں دہشت گردی کے اس سلسلے کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کر نے ہوں گے۔ کیا وہ رب کے حضور یہ دلیل پیش کر سکیں گے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سیاسی وجوہات کی بنا پر دہشت گردی کی روک تھام کے لئے پالیسی کے اجلاس میںشرکت سے گریزاں تھے، وہ پہلے لندن چلے گئے تھے اور بعد میں انہوں نے پہلے چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات کی شرط لگا دی تھی لہذا ان کی حکومت دہشت گردی کی وارداتوں کے خلاف کوئی پالیسی بنا سکی اور نہ ہی دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدام کر سکی۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر عمران خان پورے پانچ برس اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرتے تو کیا نواز شریف پانچ برس تک دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائی کے لئے کوئی حکمت عملی ہی تشکیل نہیں دیں گے۔

میں جانتا ہوںکہ عید کے موقعے پر تلخ نوائی درست نہیں، آج تو کوئی ہلکی پھلکی تحریر ہونی چاہئے تھی۔ کچھ طنز و مزاح ہوجاتا ، کچھ لطیفے بیان ہوجاتے اور ہم سب ایک اچھا دن گزارتے لیکن میں کالم لکھنے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ کوئٹہ میں پولیس لائنز کی مسجد کے مرکزی دروازے پر زوردار دھماکے میں ڈی آئی جی فیاض سنبل سمیت سات سے زائد افراد شہید اوردرجنوں زخمی ہو گئے۔ ایس ایچ او سٹی کوئٹہ محب اللہ اور چار بچے نامعلوم افراد کی گولیوں سے جاں بحق ہو گئے تھے۔ محب اللہ کی میت نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے لاکر رکھی گئی تھی، ابھی صف بندی ہو ہی رہی تھی کہ زوردار دھماکے سے ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ ڈی آئی جی فیاض سنبل سمیت دیگر اسی نماز جنازہ میں شریک تھے۔ مجھے ایسے محسوس ہوا کہ میں لیاری میں فٹ بال میچ کی جیت کا جشن مناتے ہوئے شہید ہوجانے والے بچوں کے گھروں کے باہر بچھی ہوئی دریوں پر بیٹھا ہوا ہوں، میں اس سڑک پر بے یارو مددگار کھڑاہوں جہاں میری نظروں کے سامنے پنجاب جانے والی بسوں سے اتار کر میرے ہم وطنوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیوں سے بھون دیا گیاہے، ان کے زخموں سے بھل بھل کر کے بہتا خون میرے سامنے ہے، مجھے لگتا ہے کہ پولیس لائنز کوئٹہ کی جامع مسجدکے دروازے کے باہر کھڑا وضو کے پانی سے بھیگے ہوئے اپنے اعضاءخشک کر رہا ہوں اور میرے سامنے ہی دھماکے میں مرنے والوں کے اعضا اڑ کے دور جا گرے ہیں۔یہی تو مسئلہ ہے کہ جب میں دوسروں کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھ کے ان میں شریک ہونے لگتا ہوں تو پھر ہلکی پھلکی تحریر نہیں لکھی جا سکتی، پھر جنازوں پر طنز و مزاح نہیں ہوسکتا، ” پھوڑیوں “پر لطیفے بیان نہیں سنائے جا سکتے چاہے وہ عید کا دن ہی کیوں نہ ہو ۔۔ہاں افسوس ضرور کیا جاسکتا ہے تو اے اس قوم کے محترم راعی کیا اس عید پر میں آپ سے ان کے مرنے پر افسوس کرسکتا ہوں، جو اشرف المخلوقات تھے ، آپ کی رعیت تھے اور بہرحال فرات کے کنارے مرنے والے کتے سے زیادہ ہی قدر و قیمت والے ہوں گے !!!

مزید : کالم