پاکستان آنیوالی دوستی بس کو مشتعل مظاہرین نے روک لیا، دفتر خارجہ کا واقعہ پر افسوس

پاکستان آنیوالی دوستی بس کو مشتعل مظاہرین نے روک لیا، دفتر خارجہ کا واقعہ پر ...
پاکستان آنیوالی دوستی بس کو مشتعل مظاہرین نے روک لیا، دفتر خارجہ کا واقعہ پر افسوس

  

امرتسر(مانیٹرنگ ڈیسک) نئی دہلی سے لاہور آنے والی دوستی بس کو مشتعل سکھ مظاہرین نے واہگہ سے 25 کلومیٹر دور چہارتا کے مقام پر روک لیا۔ مشتعل سکھ مظاہرین کنٹرول لائن کے واقعہ پر احتجاج کر رہے تھے۔دنیا نیوز کے مطابق مظاہرین نے بس کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور پاکستان کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ بعد ازاں سیکیورٹی نے سکھ مظاہرین کو منشتر کیا جس کے بعد دوستی بس پاکستان کا بارڈر کراس کر گئی اور کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

 بھارت سے آنیوالی دوستی بس کے مسافروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے بروقت حالات پر قابو پا لیا وگرنہ مظاہرین کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ نئی دہلی سے لاہور آنیوالی دوستی بس جب لبرٹی مارکیٹ لاہور کے نزدیک بس ٹرمینل پر پہنچی تو مسافروں کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کی بس جب چہارتا امرتسر کے قریب پہنچی تو پاکستان کے خلاف احتجاج کرنے والے سکھ بس کے سامنے لیٹ گئے اور شدید نعرہ بازی کی۔ اگر بروقت پولیس نہ آتی تو احتجاج کرنے والے یہ لوگ بس اور مسافروں کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔ دوستی بس کے بھارتی ڈرائیور شرما کا کہنا تھا کہ بس اور مسافروں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ دوستی بس میں تین بھارتی تین غیر ملکی جبکہ آٹھ پاکستانی مسافر سوار تھے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے دوستی بس کو امرتسر میں روکے جانے کے واقعے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دوستی بس کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی سیکورٹی یقینی بنائے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے دہلی سے لاہور آنے والی دوستی بس کو بھارتی انتہا پسندوں کی طرف سے امرتسر میں روکے جانے کے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو افسوناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام بس کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کی سیکورٹی یقینی بنائیں۔ اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ بھارت کے ساتھ بامقصد مذاکرات چاہتے ہیں۔ اس لئے دونوں ممالک کو حالات معمول پر لانے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔ واضح رہے کہ بھارت میں آج کل کنٹرول لائن واقعہ پر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ چند روز قبل بھارت کی حکومتی جماعت کانگرس کے مشتعل کارکنوں نے نئی دہلی میں قائم پاکستانی ہائی کمشن پر دھاوا بول دیا تھا اور سیکورٹی حصار کو توڑے ہوئے سفارتخانے کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ پاکستان نے اس پر بھارت سے شدید احتجاج کیا تھا اور اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیساتھ ساتھ پاکستانی ہائی کمیشن اور اس کے عملے کی سیکیورٹی یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کنٹرول لائن پر ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ حالانکہ بھارت کی جانب سے آئے دن کنٹرول لائن پر بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی جاتی ہے جس پر بھارت سے بارہا احتجاج کیا گیا اور فلیگ میٹنگ بلوانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

مزید :

بین الاقوامی -Headlines -