جا ن کیری اور ہیگل کادورۂ بھا رت: بھارت،امر یکہ تعلقات

جا ن کیری اور ہیگل کادورۂ بھا رت: بھارت،امر یکہ تعلقات
 جا ن کیری اور ہیگل کادورۂ بھا رت: بھارت،امر یکہ تعلقات
کیپشن: 1

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سرد جنگ کے عروج کے زمانے میں جب پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت معاشی اور عسکری امداد کے لئے امریکہ سے رجوع کرتی اور امریکہ بھی سرد جنگ کے تقاضوں اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر پاکستان کو امداد فراہم کرتا تھا تو اس وقت بھارتی حکمرانوں، سیاسی و صحافتی حلقوں کی جا نب سے امریکہ پر کڑی تنقید کی جاتی کہ امریکہ پاکستان کو معاشی اور عسکری امداد فراہم کر کے جنوبی ایشیا کے خطے میں طا قت کے توازن کو پاکستان کے حق میں کر رہا ہے۔ سرد جنگ کے زما نے کی یہ بھارتی سوچ کس حد تک درست یا غلط تھی اس پر پھر کبھی با ت کر یں گے، مگر آج کی حقیقت یہی ہے کہ اب جب سرد جنگ کو ختم ہوئے دو عشروں سے بھی زائد کا عرصہ گزر چکا ہے تو پاکستان کے اکثر سیاسی، مذہبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے امریکہ پر یہ الزام لگا یا جاتا ہے کہ امریکہ جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ بھارت کو وسطی ایشیا میں بھی اہم اثر ورسوخ دینے کا خواہاں ہے، جبکہ چین کی بڑھتی ہوئی قوت کو نکیل ڈالنے کے لئے امریکہ ، بھارت کو تیار کرنا چاہتا ہے۔
اس بیانیہ یا سوچ میں کس حد تک حقیقت ہے؟ جبکہ اسی بیانیہ سے یہ اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت، امریکہ کے دیئے گئے اس کردار کو ادا کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے؟اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ 1947ء میں بھارت کی آزادی کے ساتھ ہی امریکہ نے بھارت کو جنوبی ایشیا میں اہم مقام دینے کے لئے اپنی کو ششوں کا آغاز کر دیا تھا ۔اس حوالے سے ہمارے پاس ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ 1949ء میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور پینٹا گون نے ایک رپورٹ تیار کی، جس میں جنوبی ایشیا کے لئے صرف بھارت کو ہی فطری سیاسی اور معاشی سنٹر قرار دیا گیا۔ لیاقت علی خان کو امریکی دورے کی دعوت 1950ء میں دی گئی، جبکہ امریکی صدر ٹرومین لیاقت علی کے دورے سے ایک سال پہلے، یعنی 1949ء کے وسط میں بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو امریکہ کے دورے کی دعوت دے چکے تھے۔
کالم میں چونکہ گنجائش کم ہوتی ہے، ورنہ ایسے مزید بہت سے حقائق کی روشنی میں یہ ثابت کرنا مشکل نہیں کہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کی آزادی کے ساتھ ہی بھارت کو اپنے دام میں لانے کے جتن شروع کر دےئے تھے، مگر دوسری طرف بھارت میں چونکہ جواہر لعل نہرو ، وزیراعظم تھے، جن کا خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک مخصوص موقف تھا، جس کا اظہار Non-Aligned Movement یا غیر وابستہ تحریک کی صورت میں سامنے آیا۔جس میں جواہر لعل نہرو کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا کے سوہارتو، مصر کے جمال عبدالناصر اور یوگو سلاویا کے صدر ٹیٹو سمیت کئی اور ممالک نے سرد جنگ کی سوویت اور امریکی کشمکش میں کسی ایک بلاک کا فریق بننے سے انکار کر دیا۔
جواہر لعل نہرو کے بعد ان کی بیٹی اندرا گاندھی نے بطور وزیراعظم اپنے با پ سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر امریکی بلاک سے غیر وابستگی کا رویہ اختیار کیا اور بھارت کا جھکاؤ سوویت یونین کی جانب رہا ، تاہم 1991ء میں سوویت انہدام اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جب بھارت نے بھی نہروین سوشلسٹ معیشت کا راستہ چھوڑا، تو اس کے اثرات بھارت کی خارجہ پالیسی پر بھی پڑے۔
اب بھا رتی خارجہ پالیسی کسی نظریئے یا سامراج مخالفت پر نہیں، بلکہ صرف معاشی تناظر کے مطابق استوار کی جا نے لگی۔ امریکہ سے بھرپور معاشی اورعسکری تعلقات استوار ہونے لگے۔ بھارت اور امریکہ کے ما بین بہترتعلقات کا اہم اظہار 2006ء میں اس وقت ہوا کہ جب دونوں ممالک کے مابین ایٹمی معاہدہ ہوا۔ اِسی زمانے میں امریکی کانگرس میں بھارت کو امریکہ کا فطری حلیف ملک بھی قرار دیا جانے لگا، جبکہ امریکی حکمران طبقات کے اشاروں اور خواہشات پر نظریات پیش کرنے والے سیموئیل پی ہنٹگٹن جیسے دانشور پہلے ہی تہذیبوں کے تصادم جیسے نام نہاد نظریات میں ہندی تہذیب کو مغربی تہذیب کا حلیف قرار دے چکے تھے۔ 1998ء سے2004ء تک واجپائی کے دور اور پھر 2004ء سے2014ء تک کانگرس کے دور میں بھارتی حکمرانوں نے امریکی خوشنودی حا صل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ نٹور سنگھ جیسے سیاست دان، جو امریکہ سے معاملا ت طے کرنے میں محتاط روےئے کے حامل تھے، ایسے سیاست دانوں کو کانگرس نے مختلف الزامات لگا کر حکومت سے نکال باہر کیا۔
کانگرس حکومت نے امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کے باعث بائیں بازو کی حلیف جماعتوں سے بھی تعلق ختم کیا۔ بھارت کے حالیہ انتخابات سے پہلے جب بی جے پی یا مودی کی کامیابی یقینی نظر آ رہی تھی، تو امریکہ نے اپنے سابقہ موقف کو چھوڑتے ہوئے نریندر مودی کا بائیکاٹ ختم کیا اور سابقہ امریکی سفیر نینسی پاول نے اس سال فروری میں مودی سے خود گجرات جا کر ملاقات کی۔ نریندر مودی کی جیت پر امریکی صدر کی فوراً ٹیلی فون کال اور اب حال ہی امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیری اور سیکرٹری دفاع چک ہیگل کا دورۂ بھارت اور ستمبر میں مودی کے دورۂ امریکہ کے دوران ان کو امریکی کانگرس میں خطاب کی دعوت جیسی مثالیں امریکہ بھارت تعلقات میں پیشرفت کا اظہار ہیں ۔ جان کیری کے حالیہ دورے کے دوران بھارت کو 21ویں صدی کا ناگزیر اتحادی بھی قرار دیا گیا، مگر اس سب کے باوجود کیا بھارت امریکی توقعات پر پورا اُتر رہا ہے؟اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں ایسے عوامل سے رجوع کرنا ہو گا کہ جو بھارت ، امریکہ تعلقات میں حائل ہیں۔
امریکی کارپوریٹ سیکٹر ابھی بھی صحیح طرح بھارت جیسی اتنی بڑی منڈی کا معاشی فائدہ نہیں اٹھا پا رہا جس فائدے کی امریکی کارپوریٹ سیکٹر کو توقع ہے،کیونکہ آزاد منڈی کا راستہ اپنا نے کے باوجود آج بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھارت میں بیوروکریٹک سرخ فیتے کے ساتھ ساتھ زائد ٹیرف ،دقیانوسی پر مبنی ٹیکس پالیسیاں، Intellectual property rights protectionاور کئی بھارتی سیکٹرز میں بلاواسطہ بیرونی سرمایہ کاری پر پابندی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بھارتی حکمران ان تمام مسائل سے آگاہ ہیں اور چاہتے ہوئے بھی وہ ان رکاوٹوں کو دور نہیں کر سکتے، کیونکہ ایسا کر نے سے بھارت کے لئے کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔ جیسے جا ن کیری نے اپنے حالیہ دورے میں بھارت پر ایک بار پھر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) معاہدہ پر دستخط کرنے پر زور دیا۔ آزاد تجارت پر بھرپور یقین رکھنے کے باوجود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے اس لئے انکا ر کر دیا، کیونکہ ایسا کر نے سے بھارت کے زرعی شعبے کو شدید نقصان ہو سکتا ہے اور بھارت میں خوراک کا بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔

اِسی طرح اگر ہم عالمی سطح پر بھارت اور امریکہ کے مابین تعاون کی سطح کو دیکھیں تو یہ خاصی پست نظر آتی ہے۔اگر امریکہ، بھا رت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کرنا بھی چا ہتا ہے، تو یہ حقیقت بھی اپنے طور پر موجود ہے کہ چین ،بھا رت کا سب سے بڑا تجارتی حصہ دار ہے۔ صرف اس ما لی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران بھارت اور چین کے مابین 45ارب ڈالر سے بھی زائد کی تجارت ہو چکی ہے اور مستقبل میں اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ خود نریندر مودی بھی بطور وزیراعلیٰ گجرات چین کے کئی دورے کر کے تجارتی فا ئدے حاصل کر چکے ہیں، ایسے میں کوئی دیوانہ بھا رتی حکمران ہی امریکہ کے کہنے پر چین جیسی بڑی معا شی اور عسکری قوت کے سامنے اعلانیہ طور پر کھڑا ہونے کی جرأت کر سکتا ہے۔ حال ہی میں BRICSیعنی برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنو بی افر یقہ نے امریکہ کے مدمقابل، جس بینک کو کھولنے کا اعلان کیا ہے اس میں بھارت نے شامل ہو کر ایک طرح سے چین کی بالادستی کو تسلیم کر لیا ہے، کیونکہ اس وقت ان تمام ممالک کے مقابلے میں چین کی اقتصادی قوت سب سے زیادہ ہے، اس لئے اس بینک میں سب سے اہم کردار بھی چین کا ہو گا۔ دیگر عالمی معاملات میں بھی بھارت، امریکہ کو واضح تعاون فراہم کر نے سے قاصر ہے۔ جیسا کہ اس وقت روس کی دوبارہ اُٹھان امریکہ کے لئے ایک سر درد بنا ہوا ہے، مگر بھارت اس محاذ میں بھی اپنا پلڑا امریکہ کے حق میں نہیں کر سکتا، کیونکہ ابھی بھی بھارت اپنے کئی معا شی اور عسکری نوعیت کے معاملات میں روس پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
ایسے کئی اور عوامل یہ ثابت کرتے ہیں کہ ابھی بھارت مکمل طور پر امریکی خواہشا ت کے مطابق کردار ادا کر نے سے قاصر ہے، تا ہم یہاں اس حقیقت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ ان میں سے اکثر عوامل ایسے ہیں کہ جن کو بھارتی حکمران چاہتے ہوئے بھی معروضی حالات کے باعث تبدیل نہیں کر پا رہے۔ ورنہ بھا رتی حکمران تو 1991ء سے اس کو شش میں لگے ہو ئے ہیں کہ امریکی پشت پناہی سے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اورمشرقی ایشیا میں اپنی تھانیداری قائم کی جائے۔ یقیناًبھارت میں فکری ، صحافتی اور ایک حد تک سیا سی حوالے سے ابھی بھی ایسی آوازیں موجود ہیں کہ جو امریکی عزائم کے لئے استعمال ہونے کی مخالفت کرتی ہیں۔ اس کی ایک مثال امریکہ کے ساتھ کئے جانے والے ایٹمی معاہدے پر ہونے والی شدید سیاسی اور صحافتی مزاحمت ہے کہ جس کا سامنا ڈاکٹر من موہن سنگھ حکومت کو کرنا پڑا تھا۔ ایک پاکستانی کے طور پر ہم سے بہتر اور کون جان سکتا ہے کہ امریکی عزائم کے لئے استعمال ہونے کی کیا قیمت ادا کرنا پڑتی ہے؟ دہشت گردی کے عفریت نے آج پاکستانی سماج اور معیشت کو جس مقام پر لاکھڑا کیا ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پاکستانی فوجی اور سول حکمران امریکی عزائم کے لئے اپنے ملک کا استعمال کرتے رہے۔ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لئے جہاں دیگر کئی عوامل ضروری ہیں وہیں پر یہ عامل بھی نا گزیر ہے کہ ان ممالک کے حکمران طبقات امریکی آشیرباد سے خطے کا تھا نے دار بننے کا تصور کرنا چھوڑ دیں۔ *

مزید :

کالم -