حکومت صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے

حکومت صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے خلاف مقدمہ درج کئے جانے کے بعد ان کی رہائش گاہ کی جانب جانے والے راستوں کو کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں لگا کر بند کر نے کے ساتھ ساتھ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔بدھ کے روزداتادربارپولیس نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف دھمکی آمیز تقاریرکرنے اورلوگوں کو تشدد پر اُکسانے پر بغا وت کا مقدمہ درج کیا تھا۔صو بے کے مختلف علا قو ں سے عوامی تحریک کے متعدد کارکنوں کو بھی گرفتار کر لیا گیاہے۔اس کے علاوہ نقص امن کے خدشے کے تحت ڈاکٹر طاہر القادری کو 3 ایم پی او یا 16 ایم پی او کے تحت نظر بند کئے جانے کا بھی امکان ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے، کیونکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ طاہر القادری ملک سے فرار نہ ہو جائیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر طاہر القادری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران بے شک ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیں،وہ ظلم او ر جبر کا تختہ الٹنے آئے ہیں اور انقلاب لائے بغیر پاکستان سے نہیں جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اب حکمرانوں کا نام ای سی ایل میں ڈالیں گے ، انہیں کہیں بھاگنے نہیں دیں گے اور ان سے ملک و قوم کی لوٹی ہوئی پائی پائی وصول کریں گے ۔ طاہر القادری نے کہا کہ پنجاب کو سیل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمرانوں کے اعصاب جواب دے چکے ہیں اور ان میں جمہوری طور پر انقلاب کو روکنے کی سکت نہیں ہے۔
دوسری طرف عمران خان مصر ہیں کہ وہ ہر حال میں لانگ مارچ کریں گے ۔ 14اگست کو نواز شریف کی ’’ بادشاہت‘‘ ختم کریں گے ،جب انصاف نہ ملے تو انصاف کے حصول کے لئے سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے اور 14اگست کو انصاف کے حصول کے لئے سڑکوں پر نکلیں گے ۔ان کا کہنا ہے جہاد کا مطلب اپنے حقوق کے لئے جنگ لڑناہے اور ہم انصاف اور حق کے حصول کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ تحریک انصاف نے عمران خان کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی پلان کو بھی حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت 11اگست سے عمران خان کی رہائش گاہ پر 10ہزار لڑکے اور لڑکیاں سیکیورٹی کے فرائض سنبھالیں گے ۔
ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے سلسلے میں حکمرانوں اور دیگر سیاست دانوں کی ملاقاتیں اور کوششیں جاری ہیں۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے وفود سے ملاقات کی۔ سراج الحق نے کہا ہے کہ نواز شریف نے وزیراعظم کے استعفے اور مڈ ٹرم انتخابات کے علاوہ بعض متنازعہ حلقوں میں دوبارہ گنتی اور انگوٹھوں کی تصدیق ، دھاندلی کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطحی کمیشن بنانے کے مطالبات پورے کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ایک طرف تو مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی بات ہو رہی ہے، تو دوسری جانب میڈیا کی اطلاعات کے مطابق آزادی مارچ کو روکنے کے لئے اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر شہروں کو پٹرول و ڈیزل کی سپلائی روک دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ پٹرول کی قلت پیدا کر کے آزادی مارچ کو اگر روکا نہیں جاسکتا تو اس کا اثر کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ فنی خرابی کے نام پر پنجاب میں سی این جی کی سپلائی بھی اچانک بند کردی گئی ہے۔اس سے لانگ مارچ کا اثر کم ہو یا نہ ہو لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ضرور ہو گیا ہے۔

نہ صرف لاہور کے اندر جگہ جگہ راستے بند کر دیئے گئے ہیں، بلکہ دوسرے شہروں سے لاہور آنے والے راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اسلام آباد کو بھی سیل کیا جا رہا ہے، کئی مقامات پر لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو گئے ہیں اور سڑکوں پر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں،ہر کوئی خوف میں مبتلا ہے کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے؟ یہ تمام اقدامات ضرورت سے زیادہ محسوس ہو رہے ہیں، ان سے حالات مزید کشیدہ ہونے کا خطرہ ہے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انتظامیہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہے اور ان اقدامات سے اس کی کمزوری جھلک رہی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ایسے وقت میں جب پوری قوم کو یکسو ہو کر آپریشن ضرب عضب میں ہاتھ بٹانا چاہئے تھا، بہت سی توانائیاں آپس کی دھینگا مشتی میں ضائع کی جا رہی ہیں۔ حکومت کو صبر و تحمل اور حاضر دماغی سے ان حالات کا سامنا کرنا چاہئے۔ مخالفین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی ضد چھوڑکر مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں۔ اختلافات ہوتے ہیں، مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں،لیکن بات چیت کے ذریعے ان کا حل بھی نکالا جاتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ خون خرابے اور دنگے فساد سے کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں نکلا۔ مرنے والا پاکستانی تو مارنے والا بھی پاکستانی ہی ہو تو نقصان تو بہرحال اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہی ہے۔ ہمیں مل کر اس ملک کو مستحکم کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔اب بھی وقت ہے کہ سیاست دان عوام اور ملک کے مفاد میں فیصلے کر کے پاکستانی سیاست کی ایک نئی تاریخ رقم کر دیں تاکہ عوام بغیر کسی ڈر خوف کے روائتی جوش و خروش سے یوم آزادی منا سکیں۔
یومِ آزادی ہر پاکستانی سے تقاضہ کرتا ہے کہ اس دن کی اہمیت کا احساس کرے۔ آزادی کسی بھی قوم کے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ اس کے ذریعے ہی وہ اپنے معاشرے کی صورت گری کر سکتی اور اپنے مسائل آپ حل کرنے کی کوششیں کر سکتی ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں آج بھی آزادی کے حصول کے لئے جدوجہد جاری ہے۔ کشمیر اور فلسطین کی طرف ہی دیکھ لیجئے کہ کتنے عشروں سے وہاں کے لوگ سر اور دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں، وہاں کتنی لاشیں گر چکیں، کتنے جنازے اٹھائے جا چکے، کتنے قبرستان آباد کئے جا چکے اور کتنی جیلوں کو بھرا جا چکا، لیکن ابھی تک آزادی کا سورج وہاں طلوع نہیں ہو پایا۔ پاکستانی سیاست دانوں کو اگر چند روز کے لئے غزہ یا سرینگر میں بھجوا دیا جائے، تو ان کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا اور اپنی اوقات معلوم ہو جائے گی۔ آزادی پوری قوم نے جدوجہد کر کے حاصل کی ہے اور یہ پوری قوم کی متاع عزیز ہے، کسی ایک، دو یا تین گروہوں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ خانہ جنگی کا ماحول پیدا کریں اور لوگوں کو ایک دوسرے سے اُلجھانے کا نام آزادی رکھ دیں۔

مزید :

اداریہ -