سی این جی کا المیہ، لوگ پریشان!

سی این جی کا المیہ، لوگ پریشان!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سوئی ناردرن گیس نے اس مرتبہ عیدالفطر کے موقع پر سرکاری چھٹیوں کے چار دنوں میں سی این جی مسلسل مہیا کر کے ریکارڈ قائم کر دیا، عوام نے عید کی خوشیوں کے دوران اس رعایت سے خوب فائدہ اٹھایا۔ مسلسل گیس ملنے کی وجہ سے ایک ہی دن کے بعد حالات اچھے دور کے مطابق بن گئے تھے، جب لوگ گاڑیوں میں صرف ضرورت کے مطابق گیس لیتے تھے اور ٹینک فل کرانے والی صورت حال نہیں تھی۔عید کی چھٹیوں کے بعد کے لئے گیس کمپنی نے سابقہ پابندی عائد کی تاہم اتنی رعایت کر دی کہ گیس24گھنٹے ملی۔ چنانچہ پیر کو سی این جی صبح6بجے سے منگل کی صبح6بجے تک ملتی رہی۔ نتیجہ پھر بھی بہتر تھا کہ گاڑی مالکان کو گیس نسبتاً جلد مل جاتی رہی کہ لوڈشیڈنگ بھی نسبتاً کم تھی۔
پیر تو گزر گیا، لیکن جمعرات کو جو صورت حال بنی اس نے لوگوں کو شدید پریشانی سے دوچار کیا اور ساتھ ہی حکومت کے لئے شرمندگی کا ذریعہ بنی کہ الزام لگایا جانے لگا کہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا اور اس کے بعد ڈیزل اور پٹرول بھی مہیا نہیں کیا جائے گا۔ ہوا یوں کہ گاڑی والے24گھنٹے کے معمول کی وجہ سے مطمئن تھے اور ضرورت مند گیس لے رہے تھے، عام لوگوں کا خیال تھا کہ گھر واپسی کے وقت گیس لی جائے گی، لیکن اچانک گیس سٹیشن والوں نے شام6بجے پمپ بند کر دیئے، بتایا کہ کمپنی والوں نے حکماً گیس سٹیشن بند کرائے ہیں۔ سوئی ناردرن والوں نے عذر پیش کیا کہ بلوچستان میں تخریب کاری ہوئی اور گیس پائپ لائن دھماکے سے اُڑا دی گئی ہے، جس سے گیس کی آمد رُک گئی اس لئے گھریلو صارفین کو پریشانی سے بچانے کے لئے سی این جی والوں کو پمپ بند کرنے کو کہا گیا۔لوگوں کو جو دشواری ہوئی اس نے کئی افواہوں کو جنم دیا اور لوگوں نے کمپنی کو بھی بُرا بھلا کہا۔ سوئی ناردرن والوں کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہئے اور پالیسی عوامی مفاد میں ہو نہ کہ ان کو پریشان کیا جائے۔ اول تو سی این جی پر پابندی نہ ہو تو حالات بہتر رہیں گے اور گیس بھی زیادہ خرچ نہیں ہو گی۔ اگر محکمہ کے نزدیک یہ ممکن نہیں اور ہفتے میں دو دن کے لئے دینا ہے تو پھر یہ اچانک بندش کیوں؟

مزید :

اداریہ -