عمران خان کس کے اشارے پر حکومت سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں ،سعد رفیق

عمران خان کس کے اشارے پر حکومت سے بات کرنے کیلئے تیار نہیں ،سعد رفیق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                     راولپنڈی(اے پی پی) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عمران خان کس کے اشارے پر حکومت سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ‘ 20,25ہزار ڈنڈا بردار افراد ‘توپوں یا ٹینکوں اور طالبان کی بندوقوں سے نہیں 18کروڑ عوام ووٹ کے ذریعے تبدیلی چاہتے ہیں، ایک طرف شیخ رشید اورپرویز الہی‘دوسری طرف سابق ڈکٹیٹرکے جعلی ریفرنڈم کے حمایتی عمران خان اور طاہر القادری آج جمہوریت کے خلاف کھڑے ہیں ‘مسلم لیگ ن نے بھی لانگ مارچ کیا تو وہ لانگ مارچ اقتدار کے لیے نہیں تھا ایک ٹوٹی پھوٹی پنجاب حکومت کے ساتھ عدلیہ بحالی کے لیے نکلے تھے اورگوجرانوالہ سے ہی مطالبہ تسلیم ہونے پر واپس ہوگئے تھے ۔ ایم این اے ملک ابرار احمد کے پبلک سیکرٹریٹ کے باہر ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے ۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی ‘ایم این اے ڈاکٹر عباد ‘صوبائی وزراءچوہدری شیر علی ‘ تنویر اسلم سیٹھی ‘ مسلم لیگ ن کے راہنما ڈاکٹر جمال ناصر ‘ مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی چوہدری افتخار احمد ‘راجہ محمد حنیف ‘ تحسین فواد ‘لبنی ریحان ‘ سابق اراکین اسمبلی محمد حنیف عباسی ‘ حاجی پرویز خان ‘ملک شکیل اعوان ‘سردار محمد نسیم ‘ چوہدری ایاز ‘ راجہ محمد ارشد ‘ حافظ حسین احمد ملک ‘ انجمن تاجران کے شاہد غفور پراچہ ‘ ایم ایس ایف پنجاب کے صدر مقبول احمد خان ‘ایم ایس ایف کینٹ کے راجہ محسن ‘ ضلعی صدر سردار ممتازاور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے کچھ عرصہ پہلے فیصلہ کیا تھا کہ یہ مہینہ بطور ماہ آزادی کے طور پر منا یاجائے گا لیکن دوسری طرف اجتجاج کی سیاست ہورہی ہے جسے عوام خود ہی ناکام بنائے گی ۔انہوں نے کہا کہ آج موجودہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑرہی ہے وہ جنگ لال مسجد کے قاتل سابق ڈکیٹیر نے مسلط کی ہے ‘ ڈکٹیر کے بوٹ پالش کرنے والے شیخ رشید اورپرویز الہی‘دوسری طرف سابق ڈکٹیٹر کے جعلی ریفرنڈم کے حمایتی عمران خان اورطاہر القادری آج جمہوریت کے خلاف کھڑے ہیں ‘قوم سب جانتی ہے ‘قوم کا حافظہ اتنا کمزور نہیں ہے ‘لوگ ہر سال الیکشن نہیں چاہتے ‘عوام تو چاہتی ہے کہ جس مقصد کے لیے ووٹ دیئے وہ اہداف حاصل کیے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی جمہوریت اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے تو سیاسی رقاص میدان میں گنگرو پہن کر جمہوریت کے خلاف ناچنا شروع کر دیتے ہیں ‘ پچھلا دور ناقص حکمرانی کا تھا تو مسلم لیگ ن کی حکومت نے تعمیری تنقید کی ‘زرداری کی حکومت نہیں گرائی ‘اگر ایسا کرتے تو اسکے بعد کوئی بھی حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکتی ‘آج کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے بھی لانگ مارچ کیا تو وہ لانگ مارچ اقتدار کے لیے نہیں تھا ایک ٹوٹی پھوٹی پنجاب حکومت کے ساتھ عدلیہ بحالی کے لیے نکلے تھے اور گوجرانوالہ سے ہی مطالبہ تسلیم ہونے پر واپس ہوگئے تھے ‘اس وقت بھی عمران خان کہتا تھا کہ آگے جاﺅں ۔اسکا مطلب تھا کہ لوگوں کے بچوں کو مروایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر سیاست میں عمران خان جتنی جلدی کھل کر سامنے آیا ‘آج تک کوئی سیاستدان سامنے نہیں آیا ‘جسطرح عمران خان اوپرگیا اسی رفتار سے نیچے آ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کا کیا گنا ہ ہے ‘میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں چائنہ کو ریلوے ‘ترکی کو مختلف منصوبوں کے لیے اور دیگر سرمایہ کاروں کو پاکستان میں لائے ‘میٹرو بس منصوبے دیئے ‘ملتان سے موٹر وے شروع کرنے جارہے ہیں جو دوسال میں مکمل ہوگی ‘کراچی کو پانی اور میٹرو کے لیے 39ارب جاری کیے ‘ ملک کو معاشی طور پر مضبوط کیا ۔آدھی سیٹ والا شیخ رشید اپنے تانگی کی سواریاں پوری کرلیں تو بڑی بات ہے ‘ ٹی وی والے بھی شیخ رشید کو سنجیدہ نہیں لیتے ‘بطورکریکٹر ایکٹر لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قادری نے جسطرح پہلے اپنے کارکنوں کو اکسایا آج بھی ویسا ہی ہوا ‘پولیس اور سیکورٹی اداروں پر حملے کرائے گئے ۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ کے پی کے میں اس عرصہ میں جتنی بے قاعدگیاں اور کرپشن ہوئی ہے اتنی 60سال میں نہیں ہوئی ‘11وزراءکرپشن کے باوجود کے پی کے میں اپنے عہدوں پر براجمان ہیں ‘ 70فیصد فنڈز ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھنے کے باوجود مکمل استعمال نہیں ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ آج سب کو پتہ چل گیا کہ جمہوریت کے حامی کون ہیں اور جمہوریت کے مخالف کون ہیں ‘جمہوریت کے حمایتی اور چند شعبد باز جمہوریت کے خلاف کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور قادری کس کے اشارے پر یہ کر رہے ہیں ‘قوم یہ بھی جان چکی ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -