ناگا ساکی پر امریکی جوہری حملے کے 69برس مکمل

ناگا ساکی پر امریکی جوہری حملے کے 69برس مکمل
ناگا ساکی پر امریکی جوہری حملے کے 69برس مکمل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ٹوکیو (ویب ڈیسک)دوسری عالمی جنگ کے دم توڑتے لمحات میں امریکہ کی جانب سے ناگاساکی پر جوہری حملے کے 69سال مکمل ہوگئے ، دوسرا جوہری بم 9 اگست 1945 کو جاپان کے دوسرے اہم شہر ناگا ساکی پر گرایا، فیٹ مین نامی اس بم نے 80 ہزار جانیں لیں۔ تفصیلات کے مطابق ناگاساکی جنوبی جاپان کی ایک بڑی بندرگاہ تھی اور جنگ کے دنوں میں اس کو کلیدی اہمیت حاصل رہی۔ ایٹم بم گرانے سے پہلے امریکہ یہاں پر روایتی بمباری کرتا رہا جن کا مقابلہ جاپانی فوج کرتی رہیں۔جس وقت امریکا نے اس اہم شہر پر جوہری بم گرایا تو وہاں 2 لاکھ 63 ہزار افراد موجود تھے۔ ،امریکی حکام نے بم گرانے کی تاریخ 11 اگست مقرر کر رکھی تھی لیکن 10 اگست کو موسم خراب ہونےکی پیش گوئی کی گئی تھی اسلئے یہ کام 9 اگست کو ہی کر دیا گیا۔ اس مشن کے لیے امریکی ایئر فورس کا ایف31چنا گیا تھا، یہ طیارہ فیٹ مین کو لے کر صبح 3 بج کر 39منٹ پر روانہ ہوا، جاپانی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 50 منٹ پر ناگا ساکی میں ہوائی حملے کے سائرن بجائے گئے تا ہم ساڑھے آٹھ بجے خطرہ ختم ہونے کا سگنل دےدیا گیا جس کے بعد11 بج کر 1 منٹ پر کپتان کیرمیٹ بیہان نے ہدف پر بم گرانےکا حکم دیا اور چودہ پاﺅنڈ وزنی پلوٹونیم ناگا ساکی پر گرا دیا گیا جو 47 سیکنڈز کے بعد زمین پر موجود ایک ٹینس کورٹ کے 1650 فٹ اوپر فضاءمیں پھٹ گیا، اس بم کے پھٹنے سے 3900 سنٹی گریڈ کی شدت والی حرارت پیدا ہوئی۔ لٹل بوائے کی نسبت جو ہیروشیما پر گرایا گیا یہ بم زیادہ پاور فل تھا لیکن خوش قسمتی سے علاقہ پہاڑی ہونے کی وجہ سے ہلاکتیں کم ہوئیں،80ہزار ہلاکتوں میں سے 40ہزار افرادموقع پر مارے گئے اور باقی تابکاری اثرات سے مر گئے۔ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ امریکہ نے جاپان پر مزید ایٹم بم گرانے کا پروگرام بھی بنا رکھا تھا اور ایک جوہری بم 19 اگست جبکہ مزید تین بم ستمبر اور تین ایٹم بم اکتوبر میں پھینکے جانے تھے لیکن عین وقت پر یہ مشن ختم کر دیا گیا۔ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اپنے اس خوفناک منصوبے پر عمل کرتا تو شاید جاپان اس وقت صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہوتا۔