سونامی میں بہہ جانے والی لڑکی دس سال بعد گھر لوٹ آئی

سونامی میں بہہ جانے والی لڑکی دس سال بعد گھر لوٹ آئی
سونامی میں بہہ جانے والی لڑکی دس سال بعد گھر لوٹ آئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جکارتہ (نیوز ڈیسک) انڈونیشیا میں 2004ءکے تباہ کن سونامی میں بہہ جانے والی چار سالہ بچی دس سال بعد معجزاتی طور پر والدین کومل گئی ہے۔ دس سال پہلے بحر ہند میں آنے والے سونامی نے انڈونیشیا کے آسے شہر میں 170000 لوگوں کو ہلاک کیا تھا اور بے شمار لوگ سمندر کی لہروں کی نظر ہوگئے تھے۔ چار سالہ بچی ریاض الجنہ بھی انہی بدقسمت لوگوں میں شامل تھی۔ وہ لہروں میں بہتی ہوئی ملک کے جنوب مغربی حصے میں واقع جزائر تک جاپہنچی جہاں ایک ماہی گیر نے اسے پانی سے نکالا۔ ماہی گیرنے ننھی بچی کو اپنی والدہ کے حوالے کردیا جو پچھلے 10 سال سے اس کی پرورش کررہی تھی۔

چند دن پہلے بچی کے ماموں نے اسے سکول سے واپس جاتے ہوئے دیکھا تو اس کا چہرہ بے پناہ مانوس محسوس ہوا۔ جب اس نے معلومات لیں تو پتا چلا کہ وہ بچی سیلاب میں بہہ کر اس گاﺅں میں پہنچتی تھی اور ایک بزرگ خاتون کے ہاں وینی کے نام سے پرورش پارہی تھی۔ بچی کی ماں جمالیہ اور اس کے خاوند نے گاﺅں پہنچ کر مزید تفصیلات معلوم کیں اور بالآخر دس سال بعد ماں اور بیٹی ایک دوسرے کے ساتھ بغلگیر ہوگئیں۔ جمالیہ نے بتایا کہ بچی کو دیکھتے ہی اس کا دل بہت زور سے دھڑکنا شروع ہوگیا اور اس کی بیٹی نے اس کی بانہوں میں آکر بہت سکون محسوس کیا۔ اس نے غمناک آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ وہ قدرت کی شکرگزار ہے جس نے اسے بیٹی دوبارہ عطا کردی۔