شوبز سے تعلق رکھنے والے افرادکی کوئٹہ میں دہشت گردوں کے حملے کی مذمت

شوبز سے تعلق رکھنے والے افرادکی کوئٹہ میں دہشت گردوں کے حملے کی مذمت
 شوبز سے تعلق رکھنے والے افرادکی کوئٹہ میں دہشت گردوں کے حملے کی مذمت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادنے سول ہسپتال کوئٹہ میں دہشت گردوں کے حملے میں معصوم افراد کی شہادت پر گہرے رنج وغم کااظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا ہے اور کہا ہے ایک اور بڑا سانحہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ رزکمالی نے کہا کہ پوری قوم کی طرح مجھ پر بھی یہ خبر بجلی بن کر گری،دہشت گردی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا اس سانحے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے کیونکہ دہشت گردوں نے ان معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا ہے جو ایک نا حق قتل کا احتجاج کرنے کے لئے گھر سے نکلے تھے۔اداکارہ میگھا نے کہا کہ میں اس واقعہ سے بہت سوگوار ہوں اور میں نے اپنی تمام سرگرمیاں معطل کردی ہیں اداکارہ ماہ نورنے کہا کہ دہشت گردوں کاسر کچلنے کے لئے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے ۔گلوکار ظفر اقبال نیویارکرنے کہا کہ دہشت گردوں نے پہلے بھی ماؤں کی گود اجاڑی تھی اور اب ایک بار پھر ویسا حملہ کیا،ہسپتالوں پر حملے کرکے دہشت گرد کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اداکارہ نیلم منیر نے کہا کہافواج پاکستان’’ضرب عضب‘‘ کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو کوششیں کررہی ہے اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔اداکارہ انعم فیاض نے کہا بیرونی طاقتیں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں کررہی ہیں ۔پروڈیوسروڈائریکٹرجرار رضوی نے کہاکہ ایسی دہشت گردی کا مقصدلوگوں کو ڈرانے اور مقصد سے دور کرنے کی سازش ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔دیگر افراد نے بھی سول ہسپتال کوئٹہ پر افسوس کا اظہار کیا جن میں ڈائریکٹر اسد جبل،ایوب کھوسہ،سدرہ نور،حاجی عبد الرزاق ،عباس کاکڑ،جاوید رضا،سید فیصل بخاری،آشا چوہدری،مسکراہٹ خان ،شوکت چنگیزی ،ساحر علی بگا،اسرار،احسن خان،ماریہ خان،منشا پاشا،عثمان پیرزادہ،فضاعلی،صبا قمر،میکال ذوالفقار،امین اقبال ،ماہا وارثی ،نورخان،ایشل سید،نتاشاعلی اور خوشبوسمیت بہت سے دیگر لوگ شامل ہیں۔

مزید : کلچر