زبانی حکم پر رجسٹریشن برانچوں کی بندش ، محکمہ مال بدترین کا شکار ، جائیداد وں کی منتقلی لٹک گئی

زبانی حکم پر رجسٹریشن برانچوں کی بندش ، محکمہ مال بدترین کا شکار ، جائیداد ...

لاہور(عامر بٹ سے)زبانی حکم پر رجسٹریشن برانچیں بند ،پنجاب حکومت کا خزانہ روزانہ کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم ہو گیا ،پنجاب میں پراپرٹی کا کاروبار زوال کی طرف گامزن،کام میں عدم دلچسپی ،ناقص منصوبہ بندی اور افسران اعلیٰ کی طرف سے غیر سنجیدہ رویے کی بناء پر محکمہ مال تاریخ کے بدترین بحران میں پھنس گیا ،فنانس ایکٹ 2016کی بعض شقیں افسران کی سمجھ سے بالا تر، 4روز قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹرجنرل لاہور کی جانب سے موجودہ بحران کے حل اور ڈی سی ریٹ کے متعلق چیف کمشنر کو لکھے گئے خط کا جواب بھی تاحال تاخیر کا شکار ،شہریوں کی جائیدادوں کی منتقلی بھی لٹک گئی۔ تفصیلات کے مطابق فنانس ایکٹ 2016کی بعض شقوں میں ابہام کی وجہ سے لاہور سمیت پورے پنجاب کی رجسٹریشن برانچیں تاحال بند ہیں ،برانچوں کی بندش سے پنجاب حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے ریکوری کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹرجنرل لاہور اسفند یار بلوچ نے 4اگست 2016کو چیف کمشنر لاہور کو فنانس ایکٹ کی بعض شقوں پر وضاحت طلبی کے لئے لیٹر لکھا تھا جس کے مطابق فیڈرل بورڈ ریونیو کی جانب سے فنانس ایکٹ 2016میں کی جانے والی ترامیم کی کاپی ابھی تک ان کے آفس کو وصول نہیں ہوئی ۔ترمیمی کاپی نہ ہونے کی وجہ سے لاہور سمیت پورے پنجاب کی رجسٹریشن برانچوں کے سب رجسٹرار اور رجسٹری محرر نئے اور پرانے ڈی سی ریٹ کے مطابق غیر منقولہ جائیداد پر گین ٹیکس،کیپٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں ۔پرانا ڈی سی ریٹ منسوخ ہو چکا ہے اور ترمیم کردہ ایکٹ کی کاپی دستیاب نہیں ۔مذکورہ بالا صورتحال کی بناء پر رجسٹریشن برانچوں میں سب رجسٹرار اور رجسٹری محرر کام کرنے سے قاصر ہو گئے ہیں ۔صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کی رجسٹریشن برانچوں کو بند ہوئے 7روز گزر چکے ہیں ۔موجودہ صورتحال میں پنجاب حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں ر وپے کے ریونیو سے محروم ہونا پڑھ رہا ہے اور افسران کی توجہ کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک فنانس ایکٹ 2016 کی غیر واضح شقوں کو کلیئر کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی ۔افسران کی سستی ،کام سے عدم دلچسپی کی بناء پر پورے پنجاب میں پراپرٹی کا کاروبار شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے ۔لوگوں کی ہزاروں رجسٹری دستاویز پاسنگ کے مراحل میں ہی لٹک گئی ہیں ۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ پورے پنجاب میں رجسٹریشن برانچیں غیر قانونی طور پر بند کی گئی ہیں کیونکہ صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں ڈسٹرکٹ کلکٹرز کو کوئی تحریری احکامات نہیں دیئے گئے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن برانچوں کو بند کر دیا جائے ۔دوسری طرف ممبر ٹیکسز پنجاب اسد اسلم مانی نے کہا ہے کہ اگر ایسی کوئی صورتحال ہے تو یہ بالکل غیر قانونی ہے جس کی کسی کو اجاز ت نٰہیں ہے ۔اس کی مکمل تحقیقات ہو ں گی اور برانچوں کی بندش سے حکومتی خزانے کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا ذمہ دار ڈسٹرکٹ کلکٹر ہو گا ۔میرے علم میں ایسا کچھ نہیں ہے اور نہ ہی میں نے اتھارٹی ہونے کے ناطے ایسی کوئی اجازت یا احکامات جاری کئے ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1